Shaheed e Raah e Haq
شہیدِ راہ حق

تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی وہ اپنے اوراق میں سچ کو چھپا کر نہیں رکھتی بلکہ وقت آنے پر اسے لہو کی روشنائی سے نمایاں کر دیتی ہے۔ کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو زندہ رہ کر بھی گمنام رہتے ہیں اور کچھ ایسے جو مر کر بھی زمانوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ شہادت دراصل اسی دوسری قسم کے لوگوں کا مقدر ہوتی ہے۔ یہ راہ حق پر شہادت کسی ایک فرد کی کہانی نہیں یہ ایک تسلسل کی داستان ہے یہ وہی سلسلہ ہے جو کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار سے شروع ہوا تھا جہاں امام حسین نے باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانا قبول کیا اور یزید کے جبر کو تاریخ کے کٹہرے میں ہمیشہ کے لیے مجرم بنا دیا۔
آج بھی جب ہم شہید رہبر خامنہ ای کا نام لیتے ہیں تو دراصل ہم ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک فکر کا حوالہ دیتے ہیں۔ علی خامنہ ای یہاں استقامت کی علامت بن جاتے ہیں ایک ایسا استعارہ جو یہ سکھاتا ہے کہ طاقت کا اصل معیار اسلحہ نہیں نظریہ ہوتا ہے۔ دنیا ہمیشہ طاقت کے توازن پر چلتی رہی ہے مگر تاریخ کا فیصلہ طاقت نہیں حق کرتا ہے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر دور میں یزید موجود ہوتا ہے نئے چہروں نئی زبانوں اور نئے نعروں کے ساتھ مگر اس کے مقابلے میں امام حسینؑ سے وابستگی محبت جرات و اسقامت جیسے لوگ بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں جو تعداد میں کم مگر یقین میں کامل ہوتے ہیں ظلم کی ہوا جتنی بھی تیز ہو۔
اگر چراغ سچائی کا ہو تو وہ بجھتا نہیں بلکہ اور زیادہ روشن ہو جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں مزاحمت ایک ردِعمل نہیں رہتی بلکہ ایک فلسفہ بن جاتی ہے۔ ایک ایسا فلسفہ جو سکھاتا ہے کہ ظلم کو قبول کرنا بھی ایک جرم ہے خاموشی بھی ایک قسم کی شرکت ہے اور حق کے لیے کھڑا ہونا ہی اصل زندگی ہے عام نگاہ میں شہادت ایک نقصان ہے ایک جدائی ہے ایک درد ہے مگر فکری نگاہ میں یہ سب سے بڑی کامیابی ہےکیونکہ شہادت دراصل ایک اعلان ہے۔
یہ اعلان کہ باطل تم جسم کو ختم کر سکتے ہو مگر نظریے کو نہیں رہبر خامنہ ای نے جس استقامت و بہادری سے شہادت پائی ہے مطلب فکر کربلا کی مراد پائی ہے یہ دراصل اسی قرآنی اور کربلائی فکر کی ترجمانی ہے جہاں موت ایک دروازہ ہے اختتام نہیں شہید وہ نہیں جو مر جاتا ہے شہید وہ ہے جو مر کر بھی زندہ رہتا ہے لوگوں کے دلوں میں، نظریوں میں اور تاریخ کے صفحات میں۔
ظلم ہمیشہ خوف کے سہارے زندہ رہتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں ایسا ڈر بٹھاتا ہے کہ وہ سچ بولنے سے کترانے لگتے ہیں مگر جب کوئی ایک شخص بھی اس خوف کو توڑ دیتا ہے تو پورا نظام لرزنے لگتا ہے وہ اور ہوں گے جو ڈر گئے تھے یہ خامنہ ای ہے۔ یہ دراصل اسی خوف کے خاتمے کا اعلان ہے یہ وہ لمحہ ہے جب ایک فرد ایک قوم ایک نظریہ خوف کی زنجیروں کو توڑ دیتا ہے۔
شہیدِ رہبر ایک پیغام ہے ایک ایسا پیغام جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں حق کے یا مصلحت کے؟ حسینؑ کے یا یزید کے؟
راہِ حق کے مسافروں کی پہچان ہی یہی ہے کہ وہ وقت کے جبر طاقت کے غرور اور ظلم کے طوفان کے آگے سرِ تسلیم خم نہیں کرتے وہ جھکتے نہیں بلکہ تاریخ کے ماتھے پر اپنی استقامت کا ایسا نقش ثبت کر جاتے ہیں جو رہتی دنیا تک روشنی بکھیرتا ہے۔ امام خامنہ ای کی شخصیت بھی اسی استقامت، بصیرت اور جرأت کی آئینہ دار ہے عمر کے اس حصے میں جب اکثر لوگ آرام اور سکون کو ترجیح دیتے ہیں انہوں نے جس عزم و حوصلے کا مظاہرہ کیا وہ واقعی ایک مردِ مومن کی شان کے عین مطابق ہے۔ یہ صرف سیاسی قیادت نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی قیادت کا مظہر ہے جو امت کو یہ پیغام دیتی ہے کہ حق کے راستے میں کمزوری مصلحت اور خوف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ان کے دباؤ کو مسترد کرنا اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنا یہ کوئی معمولی بات نہیں یہ وہی جرأت ہے جو کربلا کے میدان میں نظر آئی تھی جہاں سر کٹ سکتے تھے مگر جھک نہیں سکتے تھے یہی فلسفہ آج بھی زندہ ہے اور اسی فلسفے کو امام خامنہ ای نے اپنی عملی زندگی میں زندہ رکھا ہے۔
انہوں نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحہ نہیں بلکہ ایمان ہوتا ہے۔ جب ایک رہبر اپنے نظریے پر کامل یقین رکھتا ہو تو وہ نہ صرف خود مضبوط رہتا ہے بلکہ اپنی قوم کو بھی ناقابلِ تسخیر بنا دیتا ہے ان کی قیادت میں یہ پیغام واضح ہوا کہ عزت کا راستہ مزاحمت سے ہو کر گزرتا ہے نہ کہ سمجھوتوں اور غلامی سے یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت صرف ایک ملک یا قوم تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے امید کی کرن بن چکی ہے۔
انہوں نے ثابت کیا کہ اگر نیت خالص ہو مقصد بلند ہو اور ایمان مضبوط ہو تو بڑی سے بڑی طاقت بھی انسان کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی راہِ حق کے یہ شہید صفت رہبر ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ زندگی کا اصل مقصد صرف جینا نہیں بلکہ حق کے لیے جینا اور اگر ضرورت پڑے تو حق کے لیے مر جانا ہے یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو عام سے خاص اور خاص سے لازوال بنا دیتا ہے اور تاریخ گواہ ہے جو لوگ حق کے لیے ڈٹ جاتے ہیں وہ کبھی مرتے نہیں وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اپنے کردار اپنے نظریے اور اپنی قربانیوں کے ذریعے۔
یہ استقامت ہی کی طاقت ہے کہ وقت کے فرعون بھی آخرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں آج وہی امریکہ جو خود کو دنیا کی سپر پاور اور فیصلوں کا واحد مالک سمجھتا تھا حالات کے جبر اور حق کی ثابت قدمی کے سامنے مذاکرات کی میز پر آ بیٹھا ہے یہ کسی کمزوری کا نہیں بلکہ اہلِ حق کی استقامت صبر اور غیر متزلزل یقین کا ثمر ہے جب ایک قوم اپنے اصولوں پر ڈٹ جائے جب ایک رہبر خوف کے سائے کو اپنے قریب نہ آنے دے تو طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے مغرور حکمران بھی اپنے لہجے بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یہ منظر اس حقیقت کی گواہی ہے کہ اصل قوت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ نظریے ایمان اور استقامت میں ہوتی ہے اور جب یہ تینوں یکجا ہو جائیں تو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی جھکنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

