Friday, 02 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Saal e Nao Aur Allah Ke Ghar Mein Hazri Ki Saadat

Saal e Nao Aur Allah Ke Ghar Mein Hazri Ki Saadat

سالِ نو اور اللہ کے گھر میں حاضری کی سعادت

یہ سال کی آخری رات نہ تھی۔ بلکہ میری پرانی سوچوں بوجھل مفروضوں اور وقت سے ہاری ہوئی امیدوں کا جنازہ تھا اور نئے سال کی پہلی ساعت اللہ کے گھر کے سائے میں ایک نئی ولادت تھی میں نے جان لیا کہ اصل تبدیلی کیلنڈر کے پلٹتے صفحات سے نہیں بلکہ نیت کے قبلہ سے جنم لیتی ہے۔

میں وہاں کھڑا تھا جہاں انسان اپنے نام اپنے القاب اور دفاعی جملوں کو دروازے پر چھوڑ آتا ہے کعبہ کے صحن میں کوئی خود کو ثابت نہیں کرتا یہاں صرف خود کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ لمحہ مجھے سکھا گیا کہ سکون وسعتِ وسائل میں نہیں وضاحتِ مقصد میں پنہاں ہے اور اطمینان کامیابی کے شور میں نہیں سجدے کی خاموشی میں ملتا ہے نیا سال میرے لیے کوئی خوش فہمی کا وعدہ نہیں بلکہ ایک بھاری امانت ہے۔ میں نے اپنے رب سے آسانیوں کی نہیں درست سمت کی دعا مانگی۔

اے ربِ کعبہ! اگر میری راہیں کانٹوں بھری ہوں تو میرے قدموں کو مضبوط رکھنا اگر میری زبان لڑکھڑائے تو میرے عمل کو سچا بنا دینا، مجھے ایسا لکھنے والا بنا جو لفظوں سے زخم نہ دے بلکہ حقیقت کی مرہم لگائے میرا قلم سچ بولے خواہ قیمت تنہائی ہی کیوں نہ ہو۔

سال کی آخری رات تھی اور وقت جیسے میرے قدموں تلے سمٹ آیا تھا نئے سال کی پہلی ساعت تھی اور سامنے وہ گھر تھا جسے ربِ کائنات نے اپنے نام سے منسوب کیا یہ کوئی معمولی لمحہ نہ تھا۔ یہ حساب کی نہیں عطا اور کرم کی گھڑی تھی۔ میں اللہ کے گھر کے سامنے کھڑا تھا جہاں تھکے ہوئے دل قرار پاتے ہیں ٹوٹا ہوا اعتماد جوڑا جاتا ہے اور غم زدہ روحوں کی دعائیں بغیر آواز کے بھی سن لی جاتی ہیں ہر سمت رحمت کی بارش برس رہی تھی۔ ہوا میں ایسی طہارت تھی جیسے آسمان خود سجدہ ریز ہو دل میں سکون کا ایسا نزول ہوا جیسے صدیوں کی پیاس ایک گھونٹ میں بجھ گئی لگتا تھا کعبہ کی خاموشی بھی دعا میں ڈوبی ہوئی ہے اور فرشتے آمین کہنے کو قطار باندھے منتظر کھڑے ہیں۔

میرے پاس شکرکے الفاظ کم پڑ گئے زبان خاموش آنکھیں تر جسم کپکپاتا مگر دل معطر وادیوں میں گم۔ دل نے فیصلہ کیا کہ اب صرف سجدہ ہی کافی ہے سجدۂ شکر اس رب کے حضور جس نے سال کے اختتام پر اپنی دہلیز پر بلا لیا اور توبہ کی توفیق دی۔

آج سال کی پہلی رات میں میں تھا میرا رب تھا اور وہ حاجتیں، وہ ندامتیں جو مدتوں دل کے کونوں میں سلگ رہی تھیں۔ وہ دعائیں جو ہونٹوں تک نہ آئیں مگر دل سے نکل کر عرش کو چھو گئیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ رات میری زندگی کی بہار بنے گی۔ یہ قربتِ رب رضا کا پیغام ہے اور یہ لمحے آنے والے ایام کی بنیاد رکھیں گے۔

لکھنے کو الفاظ کم ہیں مگر عطائیں بے شمار، یہ سب تیری کرم نوازی ہے اے مالک!

اے مالکِ حرم اے اس گھر کے رب جس کی دہلیز پر زمانے کے تاج بے معنی ہو جاتے ہیں، میں خالی ہاتھ آیا ہوں مگر دل امیدیں بھر لایا ہوں۔ میری زندگی کے بکھرے ورق تیرے سامنے کھلے پڑے ہیں۔ اے ربِ کریم!

اگر میرے آنسو کم ہیں تو ندامت بے حد ہے
اگر عبادت کمزور ہے تو تیرا کرم بے کنار

میں مانگنے کے قرینے نہیں جانتا مگر تو دینے کو میرے لفظوں کا محتاج نہیں اے اللہ! جس طرح تو نے حضرت ہاجرہ بی بی کی سعی کو قیامت تک امر کر دیا اسی طرح میری دعاؤں کو قبول کرکے امر کر دے کہ میں تیرے سوا کسی بندے کا محتاج نہ رہوں۔

یا اللہ! یہ جو نئے سال کی پہلی رات تیرے گھر کے سائے میں ملی اسے محض ایک یاد نہ بنا، میری زندگی کی سمت بنا دے۔

دل کے وہ زخم جو زبان پر نہ آئے
وہ دعائیں جو ہجوم میں دب گئیں

وہ آہیں جو تنہائی میں ادھوری رہیں
ان سب کو قبولیت کا لباس پہنا دے

اگر میں بھول جاؤں تو یاد دلا دینا
اگر بہک جاؤں تو تھام لینا

اگر ٹوٹ جاؤں تو اپنے سہارے میں سمیٹ لینا۔ ماضی کی لغزشوں کو رحمت کے سمندر میں غرق کر دے آنے والے دنوں کو رضا کی خوشبو عطا فرما۔

میرے نام کے ساتھ ہدایت رقم کر مقدر میں سکون لکھ دے نصیب میں وہ رزق رکھ جو شکر، صبر اور برکت سے بھرا ہو۔ اتنا عطا کر کہ جھک کر شکر ادا کر سکوں اور اتنا ہی تھام کر رکھ کہ تیری دہلیز کبھی نہ چھوڑوں گھر کو اطمینان کا آشیانہ بنا لفظوں کو حق کا آئینہ قلم کو خیر کا ذریعہ اور زندگی کو دوسروں کے لیے امید کی شمع بنا دے۔

اے ربِ کعبہ! جس طرح آج تو نے مجھے قریب رکھا قیامت کے دن بھی عرش کے سائے میں جگہ عطا فرما۔ اے میرے رب! یہ جو دل بھر کر لوٹ رہا ہوں خالی ہاتھ نہ لوٹانا دل میں جاگا یقین کبھی بجھنے نہ دینا آنکھوں کی نمی کو پاکیزگی بنا دینا اس رات کو تقدیر کا موڑ اس سجدے کو نجات کی سند اور اس دعا کو زندگی کی سمت بنا دے اگر بھٹکنے لگوں تو اپنے نام کا سہارا دے تھک جاؤں تو رحمت کی چھاؤں عطا کر حال پر رحم فرما مستقبل سنوار دے اور جب دنیا کے چراغ بجھ جائیں تو رضا کا چراغ روشن رکھنا۔

میں تجھ پر چھوڑتا ہوں اپنی امیدیں، خوف خواب تو ہی بہترین نگہبان ہے۔

اے رب! آنے والا سال لفظوں کی نمائش نہیں، نیتوں کی تطہیر۔ سوچ کی تعمیر اور عمل کی تصحیح کا سال بنا دے جب مڑ کر دیکھوں تو یہ نہ کہوں کہ وقت صرف گزرا بلکہ یہ کہہ سکوں میں اللہ کے گھر سے بدل کر لوٹا تھا اور دنیا میں اپنے رب کی گواہی بن کر جیا۔ میں تیرے سپرد کرتا ہوں اپنا آج، جدوجہد اور انجام تو بہترین سنبھالنے والا ہے۔

اے کریم، اے محبتوں والے رب!

میرے تمام عزیز و اقارب کو رحمتوں میں رکھ۔ نعمتوں سے سرفراز کر دنیا کی ہر قسم کی شر سے محفوظ رکھ اس چند روزہ زندگی میں امن و سکون نصیب فرما اور وہ بھی عطا کر جو ہم مانگنے سے قاصر ہیں اور جن لوگوں نے میرے ذمے حاجتیں دعاؤں کی اپیل کی ہے انکی تمام شرعی حاجات پوری فرما آمین۔۔ آمین یا رب العالمین۔

Check Also

Hum Kab Bigre?

By Amer Abbas