Rehbar e Moazzam Ki Shahadat Aik Azeem Saniha
رہبر معظم کی شہادت ایک عظیم سانحہ

خطے کی سیاست میں کچھ اموات خبر نہیں ہوتیں زلزلہ ہوتی ہیں اور زلزلے صرف عمارتیں نہیں گراتے نظریات کی بنیادیں بھی ہلاتے ہیں۔ رہبر معظم علی خامیاں کی رخصتی کو اگر محض تعزیتی عینک سے دیکھا جائے تو ہم آدھی تصویر دیکھیں گا۔
یہ ایک شخصیت کا جانا نہیں طاقت کے توازن کا نیا مرحلہ ہے ایران نے پابندیوں، تنہائی، سفارتی دباؤ اور خطے کی آتش میں خود کو برقرار رکھا۔ یہ تسلسل محض نعرے سے نہیں آیا اس کے پیچھے ایک منظم فکری ڈھانچہ تھا اور ایک سخت گیر سیاسی ارادہ اب سوال یہ ہے کیا ایران کی مزاحمت ادارہ جاتی ہے یا شخصی؟
اگر شخصی ہے تو خلا پیدا ہوگا۔ اگر ادارہ جاتی ہے تو خاموشی کے بعد تسلسل ظاہر ہوگا ایران کی سیاست کو سمجھنے کے لیے صرف جذبات کافی نہیں یہ وہ ملک ہے جس نے Iran–Iraq War کے بعد خود کو دوبارہ ترتیب دیا عالمی پابندیوں کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھائیں اور مشرق وسطیٰ کی شطرنج پر خود کو ایک فعال مہرہ نہیں بلکہ کھلاڑی بنایا مگر ہر نظریاتی ریاست کا سب سے بڑا امتحان قیادت کی منتقلی ہوتا ہے۔ انقلاب شروع کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، انقلاب کو طویل المدت نظام میں بدلنا مشکل ایران آج ایک ایسے جغرافیائی دائرے میں کھڑا ہے جہاں اس کے مقابل خلیجی ریاستیں ہیں۔
پیچھے عالمی طاقتیں ہیں سامنے اسرائیل کی حکمت عملی ہے اور اندر نوجوان نسل کے سوالات ایسے میں رہبر کا جانا صرف اندرونی غم نہیں بیرونی تجزیہ کا موضوع بھی ہے۔ ہم ریاست کو اداروں سے نہیں شخصیات سے جوڑتے ہیں پھر جب شخصیت جاتی ہے تو ہمیں اپنا قد معلوم ہوتا ہے کیا ایران اب زیادہ مضبوط ہوگا یا زیادہ محتاط؟
کیا وہ مزاحمت کے بیانیے کو مزید تیز کرے گا؟ یا سفارتی دروازے کھولنے کی کوشش کرے گا؟ یہ وقت صرف ایران کا نہیں پورے خطے کا موڑ ہے کیونکہ ایران کی پالیسی شام، لبنان، عراق، یمن اور خلیج تک اثر ڈالتی ہے۔
طاقت کے خلا ہمیشہ خاموشی سے نہیں بھرتے بعض اوقات وہ شور سے بھرے جاتے ہیں مگر ایک حقیقت نظر انداز نہ کیجیے۔
نظریاتی نظام اپنی بقا کے لیے پہلے ہی جانشینی کا خاکہ تیار رکھتے ہیں وہ جذبات کے سہارے نہیں چلتے، ڈھانچے کے سہارے چلتے ہیں غم اپنی جگہ سچ ہے مگر سیاست ماتم پر نہیں چلتی اب اصل امتحان یہ نہیں کہ کتنے آنسو بہائے گئے اصل امتحان یہ ہے کہ طاقت کی منتقلی کتنی منظم اور پُرسکون ہوتی ہے۔ اگر نظام بغیر لرزش آگے بڑھ گیا تو یہ ثابت ہوگا کہ انقلاب شخص نہیں نظام بن چکا ہے اور اگر لرزش آئی تو معلوم ہوگا کہ ہم نے اداروں کو نہیں افراد کو مضبوط کیا تھا۔
تاریخ کی گھڑی رکتی نہیں سوال صرف اتنا ہے ایران کی سوئیاں کس سمت گھومیں گی؟
اب یہ آنے والا وقت بتائے گا۔۔
رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت جو اب تصدیق شدہ خبر بن چکی ہے ایک ایسی جدائی ہے جو نہ صرف ایران بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
رہبر معظم کے نام کے ساتھ شہید لکھا جائے گا یہ لفظ "شہید" اب ان کے نام کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ گیا ہے وہ جو شہادت کو سعادت اور موت برحق کو فخر سمجھتے تھے۔ آج خود اسی راہ پر چل پڑے ان کی زندگی ایک جرات مندانہ جدوجہد تھی امام خمینیؒ کے بعد انقلاب کی حفاظت استکبار کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ فلسطین کی حمایت اور امت کے لیے امید کی کرن بنے رہنا۔ انہوں نے کبھی سر جھکانا نہیں سیکھا اور آخری سانس تک اپنے عہد پر قائم رہے لیکن جی ہاں، دل تیار نہیں تھا ابھی ترلائی کے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے، ابھی زخم تازہ تھے اور یہ نیا زخم جو شاید کبھی نہ بھرے وہ چہرہ، وہ مسکراہٹ، وہ باپ جیسی شفقت اب صرف یادوں میں رہ گئی ہے دل کو تسلی تھی کہ کوئی باپ جیسا ہے اب وہ آسرا بھی چھن گیا۔
رہبر معظم خود فرماتے تھے کہ شہادت آرزو ہے اور آج وہ خود اس آرزو کو پا گئے لیکن ہم جو پیچھے رہ گئے ہماری آنکھیں ابھی سوکھ نہیں سکیں جگر ابھی تھک گیا ہے اور غم اتنا ہے کہ سوائے اللہ کے کوئی آسرا نظر نہیں آتا۔ اے جلد امام کا ظہور فرما ظہور کا انتظار اب اور بھی شدید ہوگیا ہے۔ اس غم میں صبر دے اور ان کی راہ کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرما رہبر معظم کی جرات مندانہ زندگی ایک عظیم مثال ہے وہ جو کبھی کمزور نہیں پڑے جو ہر طوفان میں ڈٹے رہے جو امت کے لیے لڑتے رہے۔ ان کی شہادت نہ صرف ایک نقصان ہے بلکہ ایک وصیت بھی ہے ظالم کے خلاف مزاحمت جاری رہے گی، جدوجہد ختم نہیں ہوگی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے غمزدہ دل کو سکون دے اور ہمیں سب کو ان کی راہ پر چلنے کی ہمت دے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اللہ ان کی شہادت کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے۔

