Saturday, 18 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Rastay Band He Rahein Ge

Rastay Band He Rahein Ge

راستے بند ہی رہیں گے

یہ سوال اب محض ایک شکایت نہیں رہا ایک چیخ بنتا جا رہا ہے، کیا کسی ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کے نام پر زندگی کو معطل کر دے، جب دارالحکومت میں کوئی اجلاس ہوتا ہے کوئی وفد آتا ہے یا کوئی سیاسی ہلچل پیدا ہوتی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ شہر سانس لینا چھوڑ دے، سڑکیں بند راستے سیل اور انسان اپنی بنیادی ضروریات سے محروم کیا ان چند دنوں میں بیماری رشتہ، موت اور انسان کی ذاتی زندگی سب غیر اہم ہو جاتے ہیں؟

دنیا کے بڑے ممالک میں بھی سیکیورٹی ہوتی ہے مگر وہاں زندگی کو قید نہیں کیا جاتا۔ امریکہ ہو یا ایران دارالحکومتوں میں سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں اور زندگی کا معمول بھی چلتا رہتا ہے۔ ایمبولینسیں نہیں رکتیں لوگ اپنے پیاروں تک پہنچنے سے محروم نہیں کیے جاتے مگر ہمارے ہاں خاص طور پر اسلام آباد میں ہر بڑا دن عام انسان کے لیے ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ یہ کوئی ایک دن کا مسئلہ نہیں یہ دہائیوں پر محیط ایک رویہ ہے ایک سوچ جس میں عام آدمی کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں بس زندگی جینے کا حق انہی کو ہے۔ ایک بچہ ایمبولینس میں پڑا ہے اس کی سانسیں ٹوٹ رہی ہیں مگر سڑک بند ہے ایک شخص کو دل کا دورہ پڑتا ہے ہر لمحہ قیمتی ہے مگر شہر سیل ہے کوئی ماں دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ بیٹا چند کلومیٹر دور ہونے کے باوجود اس کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکتا۔ کوئی باپ آخری سانس لے رہا ہوتا ہے مگر بیٹی راستوں کی رکاوٹوں میں الجھ کر اس کا چہرہ آخری بار دیکھنے سے محروم رہ جاتی ہے۔

یہ فاصلے نہیں یہ وہ دیواریں ہیں جو ریاست خود اپنے شہریوں کے درمیان کھڑی کرتی ہے مطلب عوام کیڑے مکوڑے ہیں انکی کوئی حیثیت نہیں اگر حیثیت ہے تو پروٹوکول والوں کی۔

یہاں سوال صرف انتظامی نہیں اخلاقی بھی ہے اگر ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے تو ایک جان کو راستہ نہ دینا کیا ہے؟

اگر اللہ آسانی چاہتا ہے تو یہ تنگی کون پیدا کر رہا ہے۔ اگر انسان کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا گیا ہے تو یہ بند راستے کس سمت لے جا رہے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں ریاستی فیصلے محض فیصلے نہیں رہتے یہ انسانی تقدیروں کا تعین بن جاتے ہیں۔ اسلامی تاریخ ہمیں ایک اور معیار دیتی ہے کسی نے کیا خوب کہا تھا وہ قول آج بھی ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے کہ اگر ایک جانور بھی ٹھوکر کھا جائے تو اس کا حساب بھی ان سے لیا جائے گا تو کیا وہی اصول آج انسانوں پر لاگو نہیں ہوتا؟

کیا ایک انسان کی سانس ایک ماں کی آخری جھلک ایک بیٹے کی آخری ذمہ داری کسی بھی پروٹوکول سے کم تر ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں پروٹوکول ایک بیماری بن چکا ہے ایسی بیماری جس نے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو خلیج بنا دیا ہے۔ یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ اہم ہیں اور باقی صرف رکاوٹ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ریاست کا ہر نظام ہر فیصلہ ہر راستہ صرف اور صرف عوام کے لیے ہونا چاہیے۔

اگر ایک ایمبولینس راستے میں رک جائے تو یہ محض ٹریفک کا مسئلہ نہیں یہ نظام کی ناکامی ہے جبکہ مذہب معاشرے میں راہ چلتی ایمبولینس کو راستہ دیا جاتا ہے تاکہ اس انسان کی جان بچے جو اس کے اندر زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ مگر معاشرہ اسکے بلکل بر عکس ہے پانچ وقت کی نمازیں ہیں روزے ہیں حج ہے سب کچھ ہے مگر انسانیت نہین ہے اگر کوئی بیٹا اپنی ماں کے جنازے میں نہ پہنچ سکے تو یہ صرف بدقسمتی نہیں یہ اجتماعی بے حسی ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ یہ سوال صرف تحریروں تک محدود نہ رہے لوگوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا حق کیا ہے۔

زندگی کا حق راستے کا حق وقت پر علاج کا حق اور اپنے پیاروں کے ساتھ آخری لمحے گزارنے کا حق ریاست اگر ان حقوق کی حفاظت نہیں کرتی بلکہ خود ان کے راستے میں رکاوٹ بن جائے تو پھر سوال اٹھانا صرف حق نہیں فرض بن جاتا ہے۔ یہ تحریر کسی بغاوت کی دعوت نہیں ایک شعور کی صدا ہے کیونکہ جب تک عوام اپنے حق کو پہچانیں گے نہیں تب تک راستے بند ہی رہیں گے اور زندگی یونہی رکی رہے گی۔

Check Also

Mann Chalay Ka Raj?

By Shahid Nasim Chaudhry