Tuesday, 27 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Qaumon Ki Pehchan Mehnat Aur Imandari

Qaumon Ki Pehchan Mehnat Aur Imandari

قوموں کی پہچان محنت اور ایمانداری

وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو محنت کو اپنا شعار اور ایمانداری کو اپنا نصب العین بنا لیں۔ تاریخ اس حقیقت پر متفق ہے کہ قوموں کی زندگی محض نعروں، جذباتی خطبات یا ماضی کی عظمت کے تذکروں سے برقرار نہیں رہتی بلکہ مسلسل محنت دیانت داری اور اجتماعی ذمہ داری کے شعور سے پنپتی ہے۔

اگر محنت کی کوئی زندہ مثال تلاش کی جائے تو دنیا میں کئی قومیں ملیں گی مگر جاپانی قوم اس صف میں سب سے آگے دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا شہر کھنڈر، معیشت مفلوج اور قوم نفسیاتی شکست کا شکار مگر انہوں نے اپنے زخموں پر ماتم نہیں کیا نہ ہی دوسروں کو الزام دیا انہوں نے خود کو بدلا نظام کو درست کیا اور محنت کو عبادت کا درجہ دے دیا۔

جاپانی معاشرے میں وقت کی پابندی محض ایک عادت نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ ہے۔ دیانت داری کوئی نعرہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا اصول ہے۔ وہاں ذمہ داری کو اختیار سمجھا جاتا ہے اور کام کو بوجھ نہیں بلکہ قومی خدمت مانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بغیر شور شرابے بغیر مذہبی خطبات اور بغیر اخلاقی دعوؤں کے وہ قوم آج دنیا کی باوقار اور قابلِ اعتماد اقوام میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اخلاقیات کو زبان تک محدود کر چکے ہیں، خوبصورت جملوں میں باندھ کر سائیڈ پر رکھ دیا ہے۔ ہم دیانت کے درس دیتے ہیں مگر عملی زندگی میں بددیانتی کو ہوشیاری اور چالاقی سمجھتے ہیں۔ محنت سے گھبراتے ہیں اور شارٹ کٹ کو عقل مندی کا نام دیتے ہیں۔ جھوٹ اور منافقت کو مصلحت سے جوڑ دیتے ہیں جب تک یہ رویہ بدل نہیں جاتا تبدیلی کا خواب محض خواب ہی رہے گا۔

قومیں اس دن زوال کا شکار ہوتی ہیں جس دن وہ محنت سے منہ موڑ لیں اور دیانت کے تقاضے بھول جائیں۔ جاپان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ترقی کے لیے کسی خاص نسل، مذہب یا نعروں کی نہیں بلکہ کردار، محنت اور ایمانداری کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جاپان ہم سے آگے کیوں ہے اصل سوال یہ ہے کہ ہم خود سے پیچھے کیوں رہ گئے؟

ہم نے مساجد کو شور سے بھر دیا مگر دل کو خالی چھوڑ دیا۔

انہوں نے معاشرے کو اعتماد کی بنیاد پر کھڑا کیا جہاں لفظ ہی وعدہ ہے اور عمل ہی گواہی۔ نہ وہاں فتووں کی بارش ہوتی ہے نہ مذہبی جھگڑوں کی آگ جلتی ہے۔ بس ایک سادہ سا ضابطہ سچ بولنا اور جھوٹ سے پرہیز کرنا محنت کو اپنا شعار بنانا کام کو کمال تک پہنچانا غلطی کو سبق بناؤ اور دوسرے کی خوشی کو اپنی کامیابی سمجھو۔

ہم نے نماز کو ظاہری رسم بنا لیا انہوں نے ذمہ داری کو روحانی عبادت سمجھا۔ ہم سجدوں میں جھکتے رہے مگر اٹھ کر بدلے نہیں انہوں نے سر جھکایا تو صرف احترام میں اور اٹھے تو پوری قوم کو اٹھا لیا شاید ان کا مذہب ہی یہ ہے۔

انسانیت کی خدمت، ایمانداری کی حفاظت اور ترقی کی جستجو۔ نہ آسمان سے وحی کا انتظار، نہ معجزوں کی توقع، نہ گلے نہ شکوے بس محنت کی روشنی میں راستہ تلاش۔

ہمارے ہاں علماء کی تقریریں لمبی ہوتی ہیں مگر عمل کی زنجیر ٹوٹ جاتی ہے بلکہ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے ہاں سکول کی کتابیں سکھاتی ہیں سچ بولو محنت کرو دوسروں کا خیال رکھو اور یہی درس نسل در نسل چلتا ہے بغیر کسی مولوی کے فتویٰ کے۔

اب وقت ہے کہ ہم بھی پوچھیں خود سے کیا دین صرف الفاظ ہے، یا کردار؟ کیا ایمان دعووں میں ہے یا اعمال میں؟ اگر جاپان جیسی قوم بننا ہے تو مذہب کو عمل میں ڈھالیں نہ کہ لفظوں میں قید کریں۔ زوال کا راز ہماری بےعملی میں ہے اور عروج کا راستہ ان کی طرح کی خاموش جدوجہد میں۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بھی ضمیر کو جگائیں اور زندگی کو استاد بنائیں کیونکہ سبق کتابوں میں نہیں عمل کی راہوں میں چھپا ہے۔

ہم بحیثیت قوم بد اخلاق بھی ہیں بد تہزیب بھی ہیں حرام خوری کا عنصر ہماری رگوں میں پیوست ہے دو نمبری فراڈ الغرض تمام برائیاں ہمارے اندر موجود ہیں جبکہ ہمارے لیڈر اس سے زیادہ بڑے فراڈیا مکار بدیانت، بد عہد مکار اور جھوٹے ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم دن بدن تنزلی کی طرف رواں دواں ہے۔ ہمارے اداروں میں بیٹھی کالی بھیڑیں قومی مفاد کو اپنے زاتی مفاد پر ترجیع دیکر اخلاقی دھجیاں اڑا رہی ہیں سینہ زوری سے پورے نظام کو لپیٹ لیا ہے۔ سچی بات بھی انہیں زہر لگتی ہے انہیں وہی لوگ قابل قبول ہیں جو انکی ہاں میں ہاں ملائیں چوری میں حصدار بنیں غیر اخلاقی سرگرمیوں میں انکے قدم بقدم پر چلیں یہاں نہیں یعنی نو کہنے والے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اس پر سختیاں ہیں پریشانیاں ہیں اور جیل کی سلاخیں ہیں۔

معذرت کے ساتھ نہ ہم ایک اچھی قوم ہیں نہ ہی اچھے انسان اور نہ ہی اچھے مسلمان بس زبان پر کلمہ ہے ہاتھ میں تسبیح ہے اور رگ رگ میں حرام پائی، کیا ایسی قوم کو قوم کہنا قوم کی توہین نہیں تو اور کیا ہے ہم قوم نہیں بھیڑ بکریوں کی طرز کا ایک ہجوم ہیں جہاں کمزوروں پر طاقتور کا راج ہے۔

Check Also

Wales Aur Manchester Mein Guzre Din

By Altaf Ahmad Aamir