Puri Tawajo Gilgit Baltistan Ko Dein
پوری توجہ گلگت بلتستان کو دیں

گلگت بلتستان کے تمام سیاسی نمائندوں سے یہ گزارش نہیں بلکہ ایک پر زور اپیل ہے اس بار سیاست کو ذاتی مفادات کی قید سے نکال کر عوامی امانت سمجھا جائے، پارٹی وابستگیوں کے خول سے باہر نکل کر ایک عام انسان کی طرح سوچیں اس انسان کی طرح جو ٹوٹی سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے گرد نگلتا ہے، جو بیمار ماں کو ہسپتال لے جانے کے لیے گھنٹوں اذیت جھیلتا ہے، جو روزگار کی تلاش میں اپنے ہی علاقے سے ہجرت پر مجبور ہو جاتا ہے۔ وفاق کی خوشنودی کے لیے سر جھکانے کا یہ سلسلہ بہت طول پکڑ چکا، اب وقت ہے کہ اپنی دھرتی اپنے لوگوں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کھڑے ہوا جائے یاد رکھیں اقتدار وقتی ہے مگر جواب دہی دائمی اور وہ دن دور نہیں جب ہر اختیار رکھنے والا اپنے اعمال کے بوجھ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
78 برس کی محرومیاں محض ایک عدد نہیں یہ نسلوں کی ادھوری کہانیاں ہیں یہ ٹوٹے خوابوں کی گرد ہے جو ہر گاؤں ہر وادی میں بسی ہوئی ہے۔ اس بار اگر بھی آپ نے خاموشی اختیار کی تو تاریخ بھی معاف نہیں کرے گی اور عوام بھی آئینی حقوق کی بات کریں پوری ہمت سے کریں ڈٹ کر کریں یہ کوئی احسان نہیں یہ اس خطے کے لوگوں کا بنیادی حق ہے سڑکیں صرف راستے نہیں ہوتیں، یہ معیشت کی شہ رگ ہوتی ہیں۔ استور سے منی مرگ تک پھیلی وہ جنت نظیر وادیاں آج بھی منتظر ہیں مطلب ہر نمائیدہ اپنے اپنے علاقے جہاں سے وہ الیکشن لڑ رہے ہیں خصوصی توجہ دیں عوامی مسائل کو حل کریں سکول ہسپتال کالج جہاں ضرورت ہے پہلی ترجیح بنائیں نیز اس خوبصورت علاقے کو ہر سیاح کی رسائی کے اسباب پیدا کریں ان کے حسن کو دنیا تک پہنچانے کا وسیلہ بنیں خراب انفراسٹرکچر نے نہ صرف سیاحت کو روکتا ہے بلکہ مقامی لوگوں کے خوابوں کو بھی باندھ رکھا ہے۔
سیاحت صرف تصویروں کا نام نہیں یہ روزگار کا دروازہ ہے یہ معیشت کی سانس ہے جب راستے بہتر ہوں گے تو دنیا خود بخود ان حسین وادیوں کا رخ کرے گی ہوٹل آباد ہوں گے چھوٹے کاروبار پھلیں پھولیں گے نوجوانوں کو اپنے گھر کے قریب روزگار ملے گا اور یوں ہجرت کی زنجیریں بھی ٹوٹنا شروع ہوں گی۔ ماضی میں جس طرح خالد خورشید نے مختصر وقت میں سنجیدگی دکھائی اور سیاحت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے وہ ایک مثال ہے مگر یہ مثال ایک فرد تک محدود نہیں رہنی چاہیے آپ سب پر لازم ہے کہ اس مشن کو آگے بڑھائیں اسے ایک تحریک بنائیں۔
یہ خطہ صرف پہاڑوں اور وادیوں کا مجموعہ نہیں یہ ایک زندہ احساس ہے ایک شناخت ہے جسے آپ کی توجہ آپ کی نیت اور آپ کے عمل کی ضرورت ہے خدا کے لیے اس بار سیاست کو عبادت بنا دیں ایسی عبادت جس کا ثمر عوام کی خوشحالی اور علاقے کی ترقی کی صورت میں نکلے اگر آپ نے اس بار بھی موقع گنوا دیا تو آنے والی نسلیں صرف سوال کریں گی اور شاید آپ کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا۔
گلگت بلتستان محض ایک خطہ نہیں بلکہ قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جہاں زمین آسمان سے ہمکلام دکھائی دیتی ہے برف پوش پہاڑ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ سونے کی طرح چمکتے ہیں، نیلگوں جھیلیں آئینے کی مانند آسمان کو اپنے اندر سمو لیتی ہیں اور سرسبز وادیاں یوں لگتی ہیں جیسے کسی مصور نے اپنے دل کی ساری خوبصورتی یہاں انڈیل دی ہو۔ استور سے منی مرگ تک پھیلی وادیاں خاموش جھرنوں کی سرگوشیاں اور ہوا میں گھلی فطرت کی مہک یہ سب کچھ مل کر ایک ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جو دیکھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے مگر افسوس کہ یہ جنت نظیر حسن آج بھی مناسب توجہ اور سہولیات کے بغیر دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں احساس ذمہ داری جاگنے کی ضرورت ہے۔ اس مرتبہ پارٹیوں سے نکل کر عوامی نمائندے بن کر عوام اور اس خطے کے لئے کچھ کریں یہ آپکی سب کی ذمہ داری ہے۔

