Patwari Zehniyat Soch Ka Qufl Aur Daleel Ki Mout
پٹواری ذہنیت سوچ کا قفل اور دلیل کی موت

یہ کسی جماعت کا مسئلہ نہیں یہ ایک ذہنیت ہے اور ذہنیتیں ووٹ سے نہیں شعور سے بدلتی ہیں۔ پٹواری ہونا کوئی سیاسی وابستگی نہیں یہ ایک فکری بیماری ہے جہاں انسان سوچنا چھوڑ دیتا ہے اور ماننا شروع کر دیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں سوال جرم بن جاتا ہے اور اطاعت عبادت۔ آپ اسے کچھ بھی دکھا دیں ویڈیو، ثبوت، دلیل وہ سب کچھ دیکھ کر بھی کہے گا یہ سب جھوٹ ہے کیونکہ اس نے حقیقت کو آنکھ سے نہیں اپنے مفاد کے چشمے سے دیکھنا سیکھ لیا ہے۔
پٹواری ذہن ایک بند کمرہ ہے جہاں کھڑکیاں نہیں ہوتیں صرف دیواروں پر نعرے لکھے ہوتے ہیں اور ان نعروں میں ایک ہی جملہ بار بار گونجتا ہے جو ہم کہیں وہی سچ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تاریخ نہیں پڑھتے بس تاریخ کو دہراتے ہیں ویسے ہی جیسے انہیں سکھایا گیا ہو۔ ان کے لیے لیڈر غلط نہیں ہو سکتا چاہے حقیقت چیخ چیخ کر کچھ اور کہہ رہی ہو۔ سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب ایک قوم کے اندر سوال کرنے والے کم اور تالیاں بجانے والے زیادہ ہو جائیں پھر وہاں جمہوریت نہیں رہتی صرف ہجوم رہ جاتا ہے۔
یہ ذہنیت میڈیا کے کندھوں پر چڑھ کر پروان چڑھتی ہے جہاں ہر رات ایک نیا بیانیہ تیار ہوتا ہے اور ہر صبح عوام کے ذہنوں میں انڈیل دیا جاتا ہے۔ یہاں اینکر سوال نہیں پوچھتے فیصلے سناتے ہیں اور پھر وہی تماشا جو اختلاف کرے وہ غدار جو سچ بولے وہ فتنہ اور جو جھوٹ بیچے وہ محبِ وطن۔ یہ صرف ایک فکری بحران نہیں یہ ایک اخلاقی زوال ہے۔ یہ ذہنی پستی ہے جہاں انسان سچ جانتے ہوئے بھی اسے ماننے سے انکار کر دیتا ہے کیونکہ سچ ماننا اس کے مفاد کے خلاف ہوتا ہے۔
پٹواری ذہنیت دراصل خوف اور مفاد کا ملاپ ہے خوف یہ کہ کہیں سچ مان لیا تو برسوں کی اندھی تقلید کا بوجھ کیسے اٹھائیں گے اور مفاد یہ کہ جھوٹ کے ساتھ رہ کر کچھ نہ کچھ فائدہ تو مل ہی جاتا ہے مگر تاریخ کا ایک اصول ہے اندھی تقلید ہمیشہ دیر سے ٹوٹتی ہے مگر جب ٹوٹتی ہے تو بہت کچھ توڑ دیتی ہے آخری سوال آپ کے لیے کیا آپ سچ سننے کے لیے تیار ہیں یا ابھی بھی آپ کو ایک اور ترجمہ چاہیے؟
قاسم خان کی بات ایک جملے پر مشتمل تھی مگر اس پر ردعمل ایک مکمل کہانی بن گیا۔ وہ کہانی جو ہر بار دہرائی جاتی ہے پہلے سچ بولو پھر اسے مروڑو پھر اسے بدنام کرو اور آخر میں سچ بولنے والے کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دو۔ یہ کھیل نیا نہیں مگر کھلاڑی پرانے ہو چکے ہیں اور سچ وہ آج بھی وہیں کھڑا ہے۔ خاموش، تنہا مگر زندہ کیونکہ جھوٹ جتنا بھی طاقتور ہو سچ کو مار نہیں سکتا بس وقتی طور پر قید کر سکتا ہے۔ اسلئے تو کسی نے کیا خوب کہا تھا ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں اور دوسرا سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔

