Friday, 16 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Maslak e Mann Hussaini, Rahbar e Mann Khumeini

Maslak e Mann Hussaini, Rahbar e Mann Khumeini

مسلک من حسینی، راہبر من خمینی

یہ محض ایک مصرع یا نعرہ نہیں یہ اپنے عہد کے سب سے بڑے فکری سوال کا جرات مندانہ جواب ہے یہ اعلانِ وابستگی نہیں اعلانِ مزاحمت ہے یہ اس ذہنی غلامی سے بغاوت ہے جسے اکثر ایمان کا نام دے کر قبول کر لیا جاتا ہے حسینی ہونا صرف ماتم یا جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ حسینی ہونا حق و باطل کی واضح تمیز کا شعور ہے امام حسینؑ نے کربلا میں تلوار اٹھانے سے پہلے شعور جگایا اور قربانی دینے سے پہلے سوال کھڑا کیا

کیا باطل ظالم کی بیعت مصلحت کے نام پر قبول کی جا سکتی ہے؟

جواب خون سے لکھا گیا نہیں۔

یہی شعور صدیوں بعد ایک اور حسینؑ شناس روح میں بیدار ہوا جسے دنیا امام خمینیؒ کے نام سے جانتی ہے خمینیؒ نے یہ بتایا کہ کربلا کوئی ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ ہر دور کا امتحان ہے۔ یزید صرف ایک شخص نہیں بلکہ ایک نظام ہے اور ہر وہ نظام جو ظلم جبر اور استحصال پر قائم ہو یزیدی ہی ہوتا ہے امام خمینیؒ کا سب سے بڑا کارنامہ انقلاب سے پہلے اقتدار پر قبضہ نہیں بلکہ مسلمان کے شعور کی بازیافت تھا انہوں نے بتایا کہ دین عبادت گاہ تک محدود نہیں بلکہ سیاست معیشت اور سماج میں عدل کے قیام کا نام ہے انہوں نے یہ خطرناک سوال اُٹھایا کہ اگر اسلام ظالم کے سامنے خاموش رہے تو کیا وہ واقعی اسلام رہ جاتا ہے؟

مسلک من حسینی ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا تنہائی کا سودا ہے اور راہبر من خمینی یہ ہمت دیتا ہے کہ تنہائی میں بھی راستہ بنایا جا سکتا ہے یہ فکر ہمیں درباری دین سرکاری مذہب اور مفاد پرست مذہبی قیادت سے نجات دلاتی ہے یہ شعور بتاتا ہے کہ اصل فتنہ وہ نہیں جو باہر سے آئے بلکہ وہ ہے جو حق کو مصلحت کے کفن میں لپیٹ دے آج جب ظلم کو قانون غلامی کو معاہدہ اور خاموشی کو دانش مندی کہا جا رہا ہے تب حسینی مسلک اور خمینی رہبری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خاموش رہنا بھی جرم ہوتا ہے حسینی فکر سوال کرنا سکھاتی ہے سر جھکانا نہیں یہ راستہ قربانی مانگتا ہے سہولت نہیں آخر میں اگر کوئی پوچھے کہ اس نعرے سے ہمیں کیا ملا؟

تو جواب یہ ہے ہمیں سوچنے کی جرأت ملی ڈر سے آزادی ملی اور یہ یقین ملا کہ حق تھوڑا ہو سکتا ہے مگر کمزور نہیں۔

یہ جملہ اُن لوگوں کو خوفزدہ کرتا ہے جو مذہب کو صرف عبادت تک محدود رکھنا چاہتے ہیں اور اُن سیاست دانوں کو بھی جو چاہتے ہیں کہ دین ان کے اقتدار کے لیے دعائیہ کلمات تک محدود رہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حسینؑ کو صرف ایک مظلوم شہزادہ بنا کر پیش کیا گیا اُس دور میں یزید مضبوط ہوا اور جب امام حسینؑ کو ایک نظریہ سمجھا گیا تب تخت لرزے طاقت اگر اخلاق سے خالی ہو جائے تو اس کی بیعت حرام ہے یہ جملہ اگر آج کے سیاسی لغت میں ترجمہ کیا جائے تو شاید توہینِ سیاست کے زمرے میں آ جائے مگر کربلا میں یہی جملہ اسلام کی بقا بن گیا۔

صدیوں بعد جب ایک فقیہ ایران کے ایک نسبتاً خاموش شہر قم سے اٹھا تو دنیا نے اُسے ابتدا میں سنجیدگی سے نہیں لیا وہ نہ کسی اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ تھا نہ عالمی طاقتوں کا اتحادی مگر امام خمینیؒ نے وہی بات نئے لہجے میں دہرائی جو حسینؑ نے خون سے لکھی تھی۔

ظلم اگر ریاست بن جائے تو بغاوت عبادت بن جاتی ہے یہیں سے مسلکِ حسینؑ صرف مذہبی شناخت نہیں رہتا بلکہ سیاسی شعور بن جاتا ہے اور راہبرِ خمینیؒ ایک شخص نہیں بلکہ طریقۂ مزاحمت کی علامت بن جاتا ہے۔

پاکستان مشرقِ وسطیٰ یا کسی بھی مسلم معاشرے کو دیکھ لیجیے مسئلہ فرقے کا نہیں۔ خاموشی کا ہے ہم نے ایک طویل عرصے تک یہ مان لیا کہ دین کا کام صبر کی تلقین ہے سوال کی اجازت نہیں یہی وہ مقام ہے جہاں درباری علما پیدا ہوتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں یزیدی نظام جدید اصطلاحات کے ساتھ زندہ رہتا ہے امام خمینیؒ نے اسی خاموشی کے خلاف بغاوت کی انہوں نے یہ کہا کہ اگر حسینؑ آج ہوتے تو وہ منبر پر مرثیہ نہ پڑھتے بلکہ محل کے دروازے پر دستک دیتے یہ بات طاقتوروں کو پسند نہیں آئی چنانچہ انقلاب کو فرقہ واریت کا نام دیا گیا مزاحمت کو انتہا پسندی کہا گیا اور شعور کو سازش قرار دیا گیا یہی پرانا طریقہ ہے

جب دلیل سے شکست ہو تو نعرہ بدنام کر دو۔

مسلک من حسینی ہمیں بتاتا ہے کہ حق ہمیشہ اقلیت میں ہوتا ہے اور راہبر من خمینی یہ سکھاتا ہے کہ اقلیت اگر باشعور ہو تو اکثریت کو بدل سکتی ہے۔

یہ تحریر کسی انقلاب کی تبلیغ نہیں کر رہی نہ کسی ریاست کا مقدمہ لڑ رہی ہے یہ صرف ایک سوال چھوڑ رہی ہے بلکہ جھنجھوڑ رہی ہے کیا ہم نے امام حسینؑ کو صرف تاریخ میں دفن کر دیا ہے اور خمینیؒ کو صرف ایک فرقے تک محدود کر دیا ہے؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر مسئلہ نہ یزید کا ہے۔ نہ شاہِ ایران کا مسئلہ ہمارا اپنا شعور ہے۔

یہ جملہ اگر آپ کو ناگوار گزرتا ہے تو اسے رد کیجیے مگر سوچے بغیر نہیں کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ جب امام حسینؑ کو سمجھنے کا وقت آیا تب لوگ مصلحت کے حق میں دلائل لکھ رہے تھے اور تاریخ۔۔

تاریخ مصلحت کرنے والوں کو نہیں

سوال اٹھانے والوں کو یاد رکھتی ہے

Check Also

Field Marshal General Asim Munir Ke Naam

By Rauf Klasra