Land Cruisers Ke Aage Nachti Qaum
لینڈ کروزرز کے آگے ناچتی قوم

قوموں کی تاریخ میں بعض اوقات ایسے مناظر بھی آتے ہیں جو المیے سے کم نہیں ہوتے پاکستان کا المیہ بھی کچھ ایسا ہی ہے یہاں غربت سے ٹوٹا ہوا آدمی، بے روزگاری سے پریشان نوجوان اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ماں سب ایک عجیب تماشے کا حصہ بن چکے ہیں۔ تماشہ یہ ہے کہ وہی عوام جو دن رات روٹی کے لیے ترس رہے ہیں اقتدار کے ایوانوں سے نکلنے والی لینڈ کروزروں کے آگے کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہیں اور زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ یہ منظر صرف ایک سیاسی اجتماع کا نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی نفسیات کا آئینہ ہے۔ ایک طرف وہ حکمران طبقہ ہے جس کی جائیدادیں لندن اور دبئی کے پوش علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں جن کی اولادیں بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم اور آسائشوں میں زندگی گزار رہی ہیں اور دوسری طرف وہ عوام ہیں جن کے بچوں کے لیے سرکاری اسکول میں ایک کرسی تک میسر نہیں۔
یہ وہ جمہوریت ہے جس کے نام پر ہمیں برسوں سے قصے سنائے جا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت عوام کی حکمرانی ہے مگر ہمارے ہاں جمہوریت عوام کی حکمرانی نہیں بلکہ جموروں کی بادشاہت بن چکی ہے۔ اسمبلیوں میں بیٹھے یہ کردار ہر چند سال بعد ایک نیا وعدہ کرتے ہیں اور پھر اگلے چند سال وہی وعدے کمیشن اور مفاد کی میز پر قربان ہو جاتے ہیں۔
ستر سے زیادہ برس گزر گئے اس دوران نہ جانے کتنے منصوبے بنے کتنی تقاریر ہوئیں اور کتنے نعروں کی گونج سنائی دی مگر نتیجہ کیا نکلا؟ صنعتیں بند ہوئیں کارخانے ویران ہوئے کسان مقروض ہوا اور نوجوان بیروزگار۔
ریلوے جو کبھی اس ملک کی دھڑکن تھی خسارے کی علامت بن گئی، پاکستان اسٹیل مل جو صنعتی خودمختاری کی نشانی تھی اب خاموشی کی تصویر بن چکی ہے، پی آئی اے جو ایک زمانے میں دنیا کے لیے مثال تھی آج نجکاری کے کاغذوں میں الجھی ہوئی ایک کہانی بن چکی ہے۔ یہ سب اچانک نہیں ہوا یہ اس سوچ کا نتیجہ ہے جس میں ترقی کا معیار منصوبے کی کامیابی نہیں بلکہ کمیشن کی مقدار ہوتا ہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی صنعت اور زراعت کو بنیاد بنایا۔ انہوں نے کسان کو طاقت دی اور صنعتکار کو اعتماد دیا۔ مگر ہمارے ہاں سیاست کا محور ہمیشہ اقتدار اور مفاد رہا
اسی لیے سرمایہ کار ملک چھوڑ کر جا رہا ہے اور نوجوان بیرون ملک جانے کے خواب دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ جو افسر ریٹائر ہوتا ہے وہ بھی بیرون ملک سکون تلاش کرتا ہے اور جو سیاستدان اقتدار سے باہر ہوتا ہے وہ بھی اگلی پرواز پکڑ لیتا ہے۔
مگر ایک سوال باقی رہ جاتا ہے یہ ملک پھر کس کا ہے؟
یہ ملک ان کروڑوں لوگوں کا ہے جو یہاں رہنے پر مجبور ہیں وہی لوگ جو مہنگائی کے طوفان میں بھی زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہی لوگ جو انتخابی جلسوں میں انہی سیاستدانوں کے لیے نعرے لگاتے ہیں، جنہوں نے ان کی زندگی کو مشکل بنایا ہوتا ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں قوموں کی تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف طاقت سے غلام نہیں بنتیں بلکہ اس وقت غلام بنتی ہیں جب وہ سوچنا چھوڑ دیتی ہیں میری پارٹی اور تیری پارٹی کے چکر میں پڑتی ہے۔
اگر ایک قوم کو اپنے حکمرانوں کی لینڈ کروزروں کے آگے ناچنے میں فخر محسوس ہونے لگے تو پھر اس کی غلامی کسی آئین یا قانون کی محتاج نہیں رہتی اصل سوال یہ نہیں کہ حکمران کیسے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سوچتے نہیں ہیں اچھے اور برے سیاستدانوں کی تمیز کا ہمیں فرق نہیں کرتے، پہچان نہیں رکھتے، بس باپ جس جماعت کے ساتھ کھڑا ہے بیٹا بھی اسکی تقلید میں آنکھیں بند کرکے اللہ اکبر کی سدا لگا کر سلسلہ کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ہماری عقلی کی انتہا یہ ہے جو ہمیں لوٹتا ہے ہم اسکو ڈیفنڈ کرتے ہیں۔ آپس میں دست گریباں ہوتے ہیں وہ چور سیاستدان مزے سے زندگی گزار رہے ہیں اور ہم جاہل عوام ان کی لینڈ کروزروں کے آگے پیچھے بھاگتے ہیں ناچتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کیا ہم واقعی ایک زندہ قوم ہیں؟ یا ہم وہ ہجوم ہیں جو ہر پانچ سال بعد اپنے لٹیروں کو ووٹ دے کر پھر اگلے پانچ سال ان کی شکایت کرتے ہیں؟
اگر ہم انسان ہیں تو ہمیں سوچنا ہوگا اور اگر سوچنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں تو پھر یہ تماشا یونہی چلتا رہے گا لینڈ کروزر گزرتی رہے گی نعرے لگتے رہیں گے اور ایک قوم اپنی ہی خاموشی کے بوجھ تلے آہستہ آہستہ دفن ہوتی رہے گی قارئین کرام اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر ضرور سوچئے گا اور خود سے یہ سوال ضرور کیجئے گا کیا ہم قوم ہیں یا ایک ہجوم ہیں۔۔

