Wednesday, 21 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Lalach Buri Bala Hai

Lalach Buri Bala Hai

لالچ بری بلا ہے

لالچ ایک ایسی انسانی کمزوری ہے جو صدیوں سے لوگوں کو تباہ کرتی آ رہی ہے۔ ہم نے پرانی کہاوت سنی ہے کہ لالچ بری بلا ہے لیکن آج کے جدید دور میں بھی جہاں انٹرنیٹ اور میڈیا کی بدولت معلومات کی بھرمار ہے لوگ جلد مالدار ہونے کے خواب میں دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں ڈبل شاہ سے لے کر ڈبل شیخ اعجاز بہشتی تک کی کہانیاں اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ یہ تحریر حقیقت پر مبنی ہے جو نفسیاتی عوامل اور حقیقی کیسز کی روشنی میں یہ سمجھاتی ہے کہ لوگ کیوں ایسے جال میں پھنستے ہیں۔

سیالکوٹ کے ڈبل شاہ ایک کلاسک پونزی سکیم کی کہانی سید سبط الحسن شاہ، جنہیں ڈبل شاہ کے نام سے جانا جاتا ہے ایک سکول ٹیچر تھے جو 2005 میں دبئی سے واپس آئے اور اپنے پڑوسیوں کو یہ یقین دلایا کہ وہ ان کی سرمایہ کاری کو صرف 15 دنوں میں ڈبل کر دیں گے۔ بعد میں یہ مدت 70 دنوں تک بڑھا دی گئی یہ ایک کلاسک پونزی سکیم تھی جہاں نئے سرمایہ کاروں کے پیسوں سے پرانے کو ادائیگی کی جاتی تھی۔ گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور حافظ آباد جیسے علاقوں میں یہ سکیم پھلی پھولی اور تخمینہ ہے کہ تقریباً 43,000 لوگوں نے اربوں روپے لگائے اپریل 2007 میں اخبار دی نیشن نے اسے بے نقاب کیا اور ڈبل شاہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ 2012 میں انہیں سزا ہوئی اور 2015 میں ان کی موت ہوگئی۔ اس سکیم سے متاثرین کو تقریباً 1.32 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ کچھ رپورٹس 9 ارب روپے تک کا دعویٰ کرتی ہیں۔

ڈبل شاہ کی کامیابی کی وجہ لوگوں کا لالچ۔ ایک چھوٹے سے سرمایہ کاری سے جلد امیر ہونے کا وعدہ اور ابتدائی سرمایہ کاروں کو ادائیگی دیکھ کر دوسرے بھی جھانسے میں آ گئے یہ سوشل پروف کا نفسیاتی اصول ہے جہاں لوگ دیکھتے ہیں کہ دوسرے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو خود بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرز واردات کو لئے بلتستان کے عالم شیخ اعجاز بہشتی جنہیں ڈبل شیخ بھی کہا جاتا ہے حال ہی میں ڈبل شاہ کے طرز واردات میں پائے گئے۔ اس نے بھی ڈبل رقم کا جھانسہ دیکر بہت سارے لوگوں کو پریشان کیا ہے سکردو میں ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ کچھ رپورٹس کے مطابق وہ لوگوں کو مذہبی خدمت کے نام پر پیسے لگانے پر آمادہ کرتے ہیں جو بالآخر ایک طرح کی دھوکہ دہی ثابت ہوتی ہے۔ یہ کیس مذہبی اتھارٹی کا استعمال کرکے لوگوں کو دھوکہ دینے کی مثال ہے جہاں لوگ عالم یا پیر کی بات پر آنکھ بند کرکے یقین کر لیتے ہیں یہاں لالچ مذہبی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

نفسیاتی ماہرین کے مطابق لوگ جلد امیر ہونے کی سکیموں میں پھنسنے کی کئی وجوہات ہیں۔۔

لالچ اور امید لوگ جلد امیر ہونے کی خواہش میں منطق کو نظر انداز کر دیتے ہیں ایک سکیم جو 24 گھنٹوں میں پیسے ڈبل کرنے کا وعدہ کرے وہ لالچ کو بھڑکاتی ہے نفسیات میں یہ "فومو" کہلاتا ہے یعنی موقع ضائع ہونے کا خوف خوف اور جلد بازی سکیمرز وقت کی کمی کا دباؤ ڈالتے ہیں جیسے ابھی نہ کیا تو موقع چلا جائے گا یہ جذبات کو کنٹرول کرکے عقلی فیصلہ روک دیتا ہے۔

یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ ہمارے ہاں لالچ کا کنواں ہمیشہ ایمان کے نام پر کھودا جاتا ہے۔ الفاظ مقدس ہوتے ہیں نام بابرکت ہوتے ہیں اور بیچ میں انسان اپنی عمر بھر کی پونجی ڈال دیتا ہے یہ سوچ کر کہ شاید اب دھوکہ ممکن نہیں مگر تاریخ گواہ ہے کہ سب سے گہرا زخم وہی ہوتا ہے جو تقدس کی چادر اوڑھ کر لگایا جائے۔

شیخ اعجاز بہشتی کے معاملے میں بھی کہانی کچھ اسی طرح کی ہے متاثرین آج در بدر ہیں عدالتوں دفاتر اور وعدوں کے درمیان ٹھوکریں کھا رہے ہیں جن گھروں میں خواب آباد تھے آج وہاں خاموشی کا راج ہے کسی نے بیٹی کی شادی کیلئے جمع کی گئی رقم دی کسی نے پلاٹ بیچ دیا کسی نے زندگی بھر کی کمائی ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھ کر رکھ دی اب سرمایہ محفوظ ہے نہ خواب سلامت۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ متاثرین کی رقوم کی واپسی کیلئے کہیں سے بھی کوئی ٹھوس پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ فائلیں چل رہی ہیں بیانات دیے جا رہے ہیں، تسلیاں بانٹی جا رہی ہیں مگر پیسہ؟ وہ نہ دکھائی دیتا ہے نہ سنائی دیتا ہے متاثرین مسلسل ٹینشن ذہنی کرب اور معاشی اذیت کا شکار ہیں۔ کچھ بیمار پڑ چکے ہیں کچھ قرض میں ڈوب گئے ہیں اور کچھ تو خاموشی کو ہی اپنا مقدر سمجھ بیٹھے ہیں اور دوسری طرف وہی شخص جس کا نام ان کہانیوں کے ساتھ جڑا ہے۔ علیؑ کا نام لے کر زندگی کا لطف اٹھا رہا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں سوال مذہب کا نہیں اخلاق کا بنتا ہے۔ علیؑ کا نام وہ تھا جس کے ساتھ عدل امانت اور حق کی شناخت جڑی ہے مگر ہمارے معاشرے میں مقدس نام ایک برانڈ بن چکا ہے جسے چاہے لگا لو، جتنی چاہے قیمت لگا دو۔

یہاں سب سے بڑا جرم شاید صرف مالی بددیانتی نہیں بلکہ اعتماد کا قتل ہے کیونکہ جب علیؑ، حسینؑ اور دین کے نام پر دھوکہ دیا جائے تو متاثرہ شخص صرف مال نہیں ہارتا وہ یقین بھی ہار جاتا ہے پھر وہ کسی پر اعتبار نہیں کرتا نہ نظام پر نہ مذہب کے دعویداروں پر نہ انصاف کے وعدوں پر سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہمارا نظام صرف کمزور کیلئے حرکت میں آتا ہے؟ کیا وائٹ کالر لُوٹ کیلئے کوئی ایمرجنسی نہیں ہوتی؟ کیا در بدر ٹھوکریں کھاتے متاثرین کی آہیں اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچتیں؟

یہ ملک حادثات سے نہیں نرمی سے پنپنے والے جرائم سے تباہ ہوا ہے وہ جرائم جن پر وقت پر انگلی نہ اٹھائی جائے وہی بعد میں پورے معاشرے کو یرغمال بنا لیتے ہیں یہ تحریر کسی فرد کی ذات پر فیصلہ نہیں ایک اجتماعی سوال ہے اگر لٹی ہوئی پونجی واپس نہ دلوا سکے اگر متاثرین کی بے بسی کا مداوا نہ ہو سکے اگر مقدس ناموں کو کاروبار کی ڈھال بنایا جاتا رہا تو پھر ہم کس معاشرے میں زندہ ہیں؟

انصاف اگر واقعی زندہ ہے تو اسے عدالتوں کی فائلوں سے نکل کر ان ٹوٹی ہوئی آنکھوں تک پہنچنا ہوگا ورنہ تاریخ بس اتنا لکھے گی کہ یہاں کچھ لوگ علیؑ کا نام لیتے رہے اور کچھ علیؑ کے نام پر لُٹتے رہے۔

لالچ انسانی فطرت کا حصہ ہے لیکن عقلی سوچ سے اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے ڈبل شاہ اور ڈبل شیخ جیسی کہانیاں سبق دیتی ہیں کہ جلد امیر ہونے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں محنت اور صبر ہی اصل کامیابی کی کلید ہے۔

Check Also

Column Nigaron Ke Sath

By Najam Wali Khan