Saturday, 07 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Kya Siasat Mein Koi Is Had Tak Gir Sakta Hai

Kya Siasat Mein Koi Is Had Tak Gir Sakta Hai

کیا سیاست میں کوئی اس حد تک گر سکتا ہے

جمہوریت عجیب مزاج رکھتی ہے یہاں اختلاف بھی ہوتا ہے اور احترام بھی۔ یہاں سیاست بھی چلتی ہے اور اصولوں کی بات بھی کی جاتی ہے مگر جب سیاست کے میدان میں انصاف کمزور پڑنے لگے اور قانون کا ترازو کسی ایک طرف جھکنے لگے تو سوال صرف ایک فرد کا نہیں رہتا سوال پورے نظام کا بن جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے سیاسی منظرنامے میں آج ایک ایسا ہی سوال گردش کر رہا ہے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کا نام حالیہ جلاؤ گھیراؤ کے واقعات سے جوڑ دیا گیا ہے۔ یہ الزام اپنی جگہ ایک قانونی معاملہ ہے، لیکن اس کے گرد جو سیاسی فضا بن رہی ہے وہ بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔

خالد خورشید کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے فیصلوں پر تنقید بھی ہو سکتی ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک نمایاں اور مقبول چہرے کے طور پر ابھرے۔ ایسے میں اگر کسی واقعے کی ذمہ داری براہِ راست ان کے سر رکھ دی جائے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی سچ یہی ہے یا تصویر کا کوئی اور رخ بھی ہے؟

جلاؤ گھیراؤ اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی یقیناً قابلِ مذمت ہے قانون شکنی کسی بھی معاشرے میں برداشت نہیں کی جا سکتی مگر قانون کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ جرم وہی ثابت ہوتا ہے جس کے ثبوت موجود ہوں۔ اگر تحقیق شفاف نہ ہو اگر فیصلے پہلے اور ثبوت بعد میں تلاش کیے جائیں تو انصاف کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے جو شاید اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جھوٹی ویڈیوز، تراشے گئے کلپس اور من گھڑت بیانیے کسی بھی شخص کی ساکھ کو چند لمحوں میں مجروح کر سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی مقبول رہنما کے خلاف جھوٹی ویڈیوز بنا کر اس کی کردار کشی کی گئی ہے تو پھر ان لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں کون کھڑا کرے گا؟

کیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا کہ کوئی بھی شخص منہ اٹھا کر سوشل میڈیا کے ہتھیار سے کسی شریف آدمی کی عزت کو نشانہ بناتا رہے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو اگر ایسا ہے تو پھر یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کے لیے خطرہ ہے۔

یہاں ریاست اور حکومت کی ذمہ داری بھی سامنے آتی ہے نگراں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ بیگ کو اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ محض الزامات اور سیاسی شور پر اکتفا کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ پوری چھان بین کی جائے اگر کسی نے دانستہ طور پر جھوٹی ویڈیوز بنا کر یا پھیلا کر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے تو ایسے کرداروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیےکیونکہ انصاف کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ مجرم کو سزا دی جائے بلکہ یہ بھی ہے کہ بے گناہ کی عزت اور ساکھ کی حفاظت کی جائے۔

اگر ہم اس اصول کو نظر انداز کر دیں تو پھر انصاف محض ایک لفظ رہ جائے گا اور سیاست الزام تراشی کا میدان بن کر رہ جائے گی یہی وہ لمحہ ہے جہاں ریاست کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ انصاف کی بالادستی چاہتی ہے یا سیاسی بیانیوں کی عارضی تسکین کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، مگر اسے ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا اور شاید آج کا سب سے بڑا سوال بھی یہی ہے کیا ہم واقعی انصاف کے راستے پر چل رہے ہیں یا سیاست کے شور میں انصاف کی آواز کہیں گم ہوتی جا رہی ہے؟

پی ٹی آئی گلگت بلتستان کی جانب سے (خالد خورشید صاحب کے بیان سمیت) ان الزامات کی سختی سے تردید کی گئی ہے اور انہیں ایک مخصوص سیاسی مخالف پارٹی کی طرف سے AI ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے انہوں نے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے کسی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔

دوسری طرف کچھ ویڈیوز اور پوسٹس میں نوجوانوں کے حوالے سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ خالد خورشید صاحب نے دھمکیاں دیں یا معاملہ ان کی وجہ سے شروع ہوا لیکن یہ دعوے بھی تصدیق شدہ شواہد کے بغیر ہیں اور متنازعہ لگتے ہیں اگر الزامات کے حق میں ٹھوس شواہد (جیسے ویڈیوز کی تصدیق، گواہان، یا آفیشل انکوائری) موجود ہیں تو انہیں فوری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے۔ اگر شواہد نہیں ہیں تو اس نوعیت کے اشتعال انگیز پروپیگنڈے پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی حرکت کی جرات نہ ہو۔

یہ معاملہ انتہائی حساس ہے اور اسے سیاسی انتقام یا پروپیگنڈے کا ذریعہ بنانے سے علاقائی امن متاثر ہو سکتا ہے امید ہے کہ متعلقہ حکام جلد وضاحت کریں گے اور حقائق سامنے لے آئیں گے نیز ان تمام مخالف سیاسی پارٹیوں سے میرا سوال ہے کیا اپنے حریف کو نیچا دکھانے کے لئے اسکی ساخت کو کمزور کرنے کئے ایسی نیچ حرکت زیب دیتی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو اس گھناونا سازش پر متعلقہ لوگوں کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کرنا چاہئے بلکہ مل جل کر ایسی گری ہوئی حرکتیں کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چایئے۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا اس پر کوئی انکوائری نہیں ہوئی تو بات مزید آگے بڑھے گی پھر یہ آگ وقفے وقفے سے سب کے گھروں تک پہنچے گی کیونکہ ہوا کا رخ یہ نہین دیکھے گا کہ یہ گھر کس کا ہے۔

Check Also

Khaleej Ke Hukumrano Ke Liye Aik Sanjeeda Sawal

By Syed Mehdi Bukhari