Tuesday, 27 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Khalid Khursheed Ubharta Hua Leader

Khalid Khursheed Ubharta Hua Leader

خالد خورشید ابھرتا ہوا لیڈر

جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے خالد خورشید کا نام محض ایک سیاسی عہدے تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایک فکری حوالہ ایک رویہ اور ایک جرأت مندانہ علامت بنتا جا رہا ہے۔ سیاست کا یہ دستور رہا ہے کہ اقتدار کے بعد اکثر نام گم نام ہو جاتے ہیں، مگر خالد خورشید اُن چند شخصیات میں شامل ہیں جن کی عدم موجودگی بھی ان کی موجودگی سے زیادہ گونج پیدا کرتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ خالد خورشید کی تعریف آج صرف ان کے حامیوں تک محدود نہیں رہی ن لیگ کے نمائندے ہوں یا پیپلز پارٹی کے ترجمان حتیٰ کہ وہ حلقے جو کل تک سخت ناقد تھے آج میڈیا پر کھل کر ان کی کارکردگی کا اعتراف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ناجی جیسے مخالفین کا برملا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے مٹایا نہیں جا سکتا۔

اڑھائی سالہ حکومتی مدت کو دیکھا جائے تو یہ کارکردگی محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں تھی بلکہ ایک سوچ ایک وژن اور عوام سے جڑے رہنے کی مثال تھی گزشتہ ادوار کے بوجھ تلے دبی ہوئی انتظامیہ کو فعال کرنا ترقیاتی منصوبوں کو کاغذ سے زمین تک لانا اور سب سے بڑھ کر عوامی نمائندگی کے وقار کو بحال کرنا یہ سب خالد خورشید کی سیاست کے امتیازی نقوش ہیں۔ خالد خورشید وہ واحد وزیراعلیٰ تھے جنہوں نے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی اقتدار کی غلام گردشوں میں سر جھکانا آسان ہوتا ہے مگر سیدھا کھڑا ہونا ہمیشہ سزا کا باعث بنتا ہے یہی جرأت یہی خودداری بالآخر ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ بنی ایک من گھڑت کمزور اور سوالات سے بھرا ڈگری کیس جو انصاف سے زیادہ انتقام کی کہانی لگتا ہے کو جواز بنا کر ایک مقبول حکومت کو رخصت کر دیا گیا۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ وہ فیصلے جو طاقت کے زور پر کیے جاتے ہیں وقت کے کٹہرے میں خود ملزم بن جاتے ہیں۔ آج خالد خورشید علاقائی سیاست کے دائرے سے نکل کر ایک بین الاقوامی سطح کے سیاستدان کے طور پر پہچانے جا رہے ہیں ان کی آواز اب صرف گلگت بلتستان تک محدود نہیں رہی یہ آواز حقِ خودارادیت سیاسی وقار اور عوامی اختیار کی علامت بن چکی ہے۔

خالد خورشید کو ہٹایا جا سکتا تھا مگر ان کے بیانیے کو نہیں حکومت چھینی جا سکتی تھی مگر عوام کے دلوں میں بنے مقام کو نہیں شاید یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوست بھی اور دشمن بھی ایک ہی جملہ دہراتے نظر آتے ہیں۔ خالد خورشید محض ایک سابق وزیراعلیٰ نہیں وہ گلگت بلتستان کی سیاست کا ابھرتا ہوا مستقبل ہے انکے مختصر دور حکومت میں کرونا جیسی بیماری ہونے کے باوجود بہت اچھے کام ہوئے بالخصوص سیاحت کے شعبے میں بہت اچھا کام دبئی سے ڈائریکٹ سکردو فلائیٹ انکی محنت کا ثمر ہے۔

استور کوئی عام خطہ نہیں یہ وہ زمین ہے جہاں پہاڑ صرف برف نہیں اوڑھتے تاریخ بھی لپیٹ کر رکھتے ہیں یہاں کے لوگ سادہ ہیں مگر یادداشت رکھتے ہیں یہ یادداشت انہیں بتاتی ہے کہ کون آیا کس نے بات کی اور کس نے واقعی کچھ کیا۔ 2020 سے 2025 تک استور کے حصے میں جو سیاسی نمائندگی آئی وہ محض ناموں کا مجموعہ نہیں تھی بلکہ ایک امکان تھا ترقی کا امکان خود اعتمادی کا امکان خالد خورشید اور شمس لون کی جوڑی اسمبلی کے فلور پر استور کی آواز بنی خالد خورشید کا وزیراعلیٰ بن جانا محض ایک سیاسی واقعہ نہ تھا بلکہ محرومی کے مارے خطے کے لیے ایک نفسیاتی فتح تھی۔ پہلی بار اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھا شخص استور کو نقشے سے پہچانتا تھا فائلوں میں دفن کسی تحصیل کے طور پر نہیں اسی دور میں بوبند شغرتھنگ روڈ جیسے منصوبے نے جنم لیا بظاہر یہ ایک سڑک ہے لیکن حقیقت میں یہ استور کو باقی دنیا سے جوڑنے کی ایک شہ رگ ہے یہی وہ راستہ ہے جو سیاحت کو محض خواب کے درجے سے نکال کر روزگار میں ڈھال سکتا ہے یہی وہ لکیر ہے جو نوجوانوں کو بند گلی سے نکال کر وسیع میدان دکھا سکتی ہے۔

اسی طرح استور ویلی روڈ (گوریکوٹ تا رٹو سیکشن) کا آخری مراحل میں ہونا اس بات کا ثبوت تھا کہ نیت ہو تو پہاڑ بھی راستہ دے دیتے ہیں مگر ہمارے ہاں کہانی ہمیشہ یہاں آ کر پلٹ جاتی ہے۔ ایک جعلی مقدمہ ایک انتظامی وار اور وزیراعلیٰ کو نااہل قرار دے دیا جاتا ہے بعد میں قانونی حلقے بھی مانتے ہیں کہ فیصلہ کمزور بنیادوں پر کھڑا تھا لیکن تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ استور کی ترقی کی رفتار کو بریک لگ چکی ہوتی ہے یہاں انصاف تاخیر سے ملے تو اسے انصاف نہیں کہا جاتا، بلکہ رسمی معذرت خالد خورشید کی غیر موجودگی میں شمس لون نے مورچہ نہیں چھوڑا۔ سٹی بیوٹیفکیشن پروجیکٹ ڈاکٹروں کے ہاسٹل ہسپتال کی اپگریڈیشن اور تعلیمی اداروں کی بنیاد یہ سب وہ کام ہیں جو تصویروں سے زیادہ فائلوں اور مستقل مزاجی مانگتے ہیں شمس لون نے خاموشی سے یہ بوجھ اٹھانے کی کوشش کی مگر اکیلا شخص نظام کے پہیے کب تک گھسیٹ سکتا ہے؟

اصل المیہ مگر یہاں شروع ہوتا ہے فینہ ویلی روڈ ایڈمن اپروول موجود ہے فائلیں تیار ہیں ضرورت بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے مگر منصوبہ تعطل کا شکار ہے۔ کیوں؟

کیونکہ یہاں ترقی کام سے نہیں تختی سے ناپی جاتی ہے ہر اقتدار سے جڑا شخص یہ چاہتا ہے کہ سڑک پر اس کا نام لکھا جائے چاہے راستہ لوگوں کے لیے بند ہی کیوں نہ رہے۔ یہ تختی کی سیاست ہے جہاں عوام کی ضرورت ثانوی اور کریڈٹ بازی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں منصوبے اس لیے رکے رہتے ہیں کہ کاٹنے والی ربن پر کس کا نام ہوگا یہ ابھی طے نہیں ہو پایا کیا سڑک عوام کے لیے بنتی ہے یا ناموں کے لیے؟ کیا ریاست کا کام خدمت ہے یا سائن بورڈ لگانا؟

استور کی بدقسمتی یہ نہیں کہ یہاں نمائندے نہیں تھے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں تسلسل نہیں ہے ہر نیا آنے والا پچھلے کے کام پر اس طرح نظر ڈالتا ہے جیسے یہ اس کی توہین ہو نتیجہ یہ کہ منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں اور قومیں انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ استور کی کمیونٹی خاموش تماشائی نہ رہے یہ احتجاج کسی جماعت کے خلاف نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس سوچ کے خلاف ہونا چاہیے جو ترقی کو ذاتی جاگیر سمجھتی ہے۔ یہ آواز ہونی چاہیے کہ سڑک تختی سے زیادہ ضروری ہے یہ اعلان ہونا چاہیے کہ فینہ ویلی روڈ کسی وزیر کسی افسر یا کسی حکومت کی ملکیت نہیں بلکہ عوام کا حق ہے۔

اگر استور نے آج اجتماعی طور پر سوال نہ اٹھایا تو کل یہی سوال ان کی آنے والی نسلیں اٹھائیں گی اور اس وقت جواب دینے والا کوئی نہیں ہوگا اسی دور میں بوبند شغرتھنگ روڈ جیسے منصوبے نے جنم لیا بظاہر یہ ایک سڑک ہے لیکن حقیقت میں یہ استور کو باقی دنیا سے جوڑنے کی ایک شہ رگ ہے یہی وہ راستہ ہے جو سیاحت کو محض خواب کے درجے سے نکال کر روزگار میں ڈھال سکتا ہے یہی وہ لکیر ہے جو نوجوانوں کو بند گلی سے نکال کر وسیع میدان دکھا سکتی ہے۔

Check Also

America Ya Israel Jaise Mumalik Ki Muzammat Mein Masroof Hum Musalman

By Nusrat Javed