Kahani Pardesiyon Ki (2)
کہانی پردیسیوں کی (2)

پردیس انسان کو صرف اپنوں سے دور نہیں کرتا یہ آہستہ آہستہ انسان کو خود اُس کی ذات سے بھی اجنبی بنا دیتا ہے شروع شروع میں پردیسی ہر رات گھر فون کرتا ہے ماں کی آواز سنتے ہی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں بچوں کی باتوں پر چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے بیوی کی خاموشی میں بھی محبت محسوس ہوتی ہے مگر پھر وقت گزرتا ہے کام کے اوقات بڑھتے جاتے ہیں تھکن ہڈیوں میں اترتی جاتی ہے اور باتوں کے درمیان فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب فون صرف ضرورت بن جاتا ہے محبت نہیں۔
پردیس کی سب سے بڑی اذیت شاید یہی ہے کہ یہ انسان کے احساسات کو آہستہ آہستہ پتھر بنا دیتا ہے وہ شخص جو کبھی چھوٹی سی بات پر ہنس دیتا تھا اب مہینوں مسکرانا بھول جاتا ہے جو کبھی اپنے بچوں کے بغیر ایک دن نہیں گزار سکتا تھا اب برسوں ان کے بچپن سے دور رہتا ہے بچے بڑے ہو جاتے ہیں مگر باپ ان کے بچپن کی خوشبو سے محروم رہتا ہے۔ یہاں دیارِ غیر کے تنگ کمروں میں راتیں بہت لمبی ہوتی ہیں کمرے میں چار پانچ لوگ موجود ہوتے ہیں مگر ہر شخص اپنی خاموشی میں قید ہوتا ہے کوئی موبائل پر گاؤں کی تصویریں دیکھ رہا ہوتا ہے کوئی ماں کی بیماری کا سوچ کر پریشان ہوتا ہے کوئی قرضوں کے بوجھ میں دبا ہوتا ہے اور کوئی صرف چھت کو گھورتا رہتا ہے جیسے وہاں اسے اپنے وطن کا آسمان نظر آ جائے گا۔
پردیس میں انسان جیتا کم اور برداشت زیادہ کرتا ہے وہ گرمی برداشت کرتا ہے ذلت برداشت کرتا ہے تنہائی برداشت کرتا ہے اور کبھی کبھی اپنوں کے بدلتے رویے بھی کیونکہ فاصلے صرف میلوں میں نہیں بڑھتے دلوں میں بھی بڑھنے لگتے ہیں جو بچے کبھی باپ کے کندھوں پر بیٹھنے کے لئے ضد کرتے تھے وہ اب ویڈیو کال پر رسمی انداز میں کہتے ہیں بابا پیسے کب بھیجیں گے۔
یہ جملہ کسی خنجر کی طرح دل میں اترتا ہے تب پردیسی کو احساس ہوتا ہے کہ شاید وہ رشتوں سے زیادہ ضرورت بن گیا ہے مگر اس سب کے باوجود اگلی صبح وہ پھر کام پر نکلتا ہے کیونکہ اس کے خواب ابھی زندہ ہوتے ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ رک گیا تو اس کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے اس لئے وہ اپنے دکھوں کو جیب میں ڈال کر مسکرا دیتا ہے یہی پردیسی کی سب سے بڑی اداکاری ہے وہ اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے مگر باہر سے مضبوط دکھائی دیتا ہے کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے فلسفی سب سے بڑے صوفی اور سب سے بڑے شاعر دراصل یہی پردیسی مزدور ہوتے ہیں۔
کیونکہ یہ لوگ زندگی کو کتابوں سے نہیں اپنے زخموں سے پڑھتے ہیں اور پھر رات کے آخری پہر جب شہر کی روشنیاں مدھم پڑنے لگتی ہیں ایک پردیسی خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھ کر صرف اتنا کہتا ہے یا اللہ رزق تو دے دیا اب کبھی سکون بھی عطا کر دے۔
پردیس کا ایک اور کربناک سچ یہ بھی ہے کہ یہاں انسان آہستہ آہستہ رشتوں کی حقیقت سمجھنے لگتا ہے شروع میں ہر کوئی خیریت پوچھتا ہے دعائیں دیتا ہے محبت جتاتا ہے مگر وقت کے ساتھ اکثر آوازوں میں صرف ضرورت باقی رہ جاتی ہے فون بجتا ہے تو دل خوشی سے دھڑکتا ہے کہ شاید کسی اپنے نے یاد کیا ہوگا مگر دوسری طرف سے اکثر یہی سنائی دیتا ہے کچھ پیسے چاہئیں تھے یا ایک کام تھا پھر آہستہ آہستہ پردیسی یہ سمجھ جاتا ہے کہ وہ انسان کم اور ضرورت زیادہ بن چکا ہے اس کی تھکن اس کی تنہائی اس کے دکھ اس کی بیماریاں کسی کے موضوع نہیں رہتے لوگ یہ تو پوچھ لیتے ہیں کہ رقم کب بھیجو گے مگر یہ پوچھنا بھول جاتے ہیں کہ تم خود کیسے ہو اور شاید یہی احساس پردیس کا سب سے خاموش اور سب سے گہرا زخم ہوتا ہے جو اندر اندر سے اسے کھا جاتا ہے۔۔

