Saturday, 31 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Judge Muhammad Khursheed Khan Sahab Ehad Saz Shakhsiyat

Judge Muhammad Khursheed Khan Sahab Ehad Saz Shakhsiyat

جج محمد خورشید خان صاحب عہد ساز شخصیت

جج محمد خورشید خان صاحب کا نام استور کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے۔ وہ ضلع استور کے سب سے پہلے جج تھے ایک ایسا اعزاز جو اللہ کی خاص نعمت اور ان کی قابلیت کا ثبوت ہے۔ ملنسار، عاجز اور انتہائی شائستہ طبیعت کے مالک انہوں نے عدل و انصاف کے میدان میں جو وقار اور ایمانداری دکھائی اس نے انہیں لوگوں کے دلوں میں ایک عظیم مقام عطا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نہ صرف عہدے کی بلندی بخشی بلکہ عزت احترام اور لوگوں کی محبت سے بھی نوازا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ ایک پر وقار سکون اور عزت کی زندگی گزار رہے ہیں ایک ایسی زندگی جو مثال بننے کے لائق ہے۔

ان کے فرزندِ ارجمند خالد خورشید خان صاحب نے بھی اپنے والد کی ایمانداری اور اصول پسندی کی روشنی میں سیاست کا سفر طے کیا۔ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ہو کر انہیں گلگت بلتستان کے پہلے وزیراعلیٰ بننے کا شرف حاصل ہوا۔ اڑھائی سالہ دورِ حکومت میں انہوں نے بے لوث ایمانداری، دیانت اور محنت سے ذمہ داریاں نبھائیں جب وفاق میں PTI کی حکومت ختم ہوئی تو طاقتور اداروں کی طرف سے لالچ دباؤ اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا مگر خالد صاحب نے ذرا بھی سمجھوتہ نہ کیا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک متنازع جعلی ڈگری کیس میں انہیں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

یہ واقعہ پاکستانی سیاست کا ایک تلخ باب ہے جہاں اصول پسند اور خوددار لوگوں کو بار بار نشانہ بنایا جاتا ہے جو طاقت کی گرفت میں نہیں آتا اسے جھوٹے مقدمات دباؤ اور سازشوں سے توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماضی میں بھی وفاقی سطح پر ایسی کئی مثالیں موجود ہیں مگر استور کے عوام نے خاموشی اختیار نہ کی ضمنی الیکشن میں جج محمد خورشید خان صاحب خود میدان میں اترے، بڑے واضح فرق سے کامیابی حاصل کی اپنے حریف کو دونوں شانے چٹ کئے۔ یہ جیت صرف ایک نشست کی نہیں بلکہ اصول ایمانداری اور عوامی اعتماد کی فتح تھی مگر افسوس کہ یہ فتح بھی چوروں کو ہضم نہ ہو سکی روایتی طریقوں سے نتیجہ روکے رکھا گیا، اعلان تک نہ ہونے دیا گیا۔ یہ ہمارے نظام کی بدقسمتی ہے کہ یہاں اکثر چوکیدار مالک کو آنکھیں دکھاتے ہیں اور فیصلے اپنی مرضی سے کرواتے ہیں۔

آج معزز ریٹائرڈ جج محمد خورشید خان صاحب اور ان کے صاحبزادے عاطف خورشید صاحب کے ساتھ ہونے والی نشست میں گفتگو نے ماضی حال اور مستقبل تینوں کو ایک ہی لمحے میں سمیٹ لیا۔ علاقائی صورتحال ہو یا ملکی معاملات ہر موضوع پر گفتگو میں شعور بھی تھا تجربے کی گہرائی بھی اور خلوص کی خوشبو بھی۔ جج خورشید صاحب کی باتوں میں وہ ٹھہراؤ تھا جو صرف عمر بصیرت اور کردار کے امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ ان کی دلنشین گفتگو نے نہ صرف محفل کو وقار بخشا بلکہ پرانی یادوں کو بھی تازہ کر دیا۔ وہ یادیں جن میں ہمارے بڑوں کے گہرے باوقار اور احترام پر مبنی تعلقات کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔

یہ نشست میرے لیے اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل رہی کہ اس میں صرف خیالات کا تبادلہ نہیں ہوا بلکہ نسلوں کے درمیان اعتماد روایت اور اخلاقی وراثت کا سفر بھی محسوس ہوا عاطف خورشید کی موجودگی میں مستقبل کی ایک سنجیدہ باوقار اور باشعور جھلک بھی نظر آئی اور ایسی علم و محبت بھری محفلیں ہمیشہ آباد رکھے۔ یہ نشست فقط ایک ملاقات نہ تھی یہ وقت کے دریچوں سے جھانکتی ہوئی ایک یادگار ساعت تھی۔

استور جیسے خوبصورت خطے کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اصولوں پر ڈٹ کر کھڑے ہوں اور اللہ کے فضل سے ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں عاجزی اور ایمانداری کی یہ داستان ہمیشہ زندہ رہے گی۔

Check Also

Iss Sadi Ka Azeem Fitna

By Saleem Zaman