Jab Iqtedar Usoolon Ko Nigal Jaye
جب اقتدار اصولوں کو نگل جائے

جب اقتدار اصولوں کو نگل جائے تو ریاست تماشہ بن جاتی ہے اور عوام محض ہجوم پھر فیصلے آئین سے نہیں مصلحت سے ہوتے ہیں سچ جرم اور جھوٹ حکمت کہلاتا ہے۔ ترقی کے نام پر ضمیر گروی رکھ دیا جاتا ہے اور انصاف فائلوں میں دفن ہو جاتا ہے۔ ایسے نظام میں سڑکیں بنتی ہیں مگر راستہ بھٹک جاتا ہے، منصوبے مکمل ہوتے ہیں مگر انسانی وقار نامکمل رہتا ہے اقتدار اگر اصولوں کا اسیر نہ ہو تو وہ یزیدیت میں ڈھل جاتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسے اقتدار کی عمر طویل نہیں اس کا انجام عبرت ہوتا ہے۔
یزید کے دور کی مثال یونہی نہیں دی جاتی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سڑکیں محل قلعے اور خزانے کبھی حق و باطل کا معیار نہیں ہوتے اصل کسوٹی یہ ہوتی ہے کہ اقتدار کس اصول پر قائم ہے اور کس قیمت پر چلایا جا رہا ہے۔ یزید کے عہد میں بھی نظم و نسق تھا تعمیرات تھیں خزانہ بھرا ہوا تھا مگر وہ سب کچھ اس وقت بے معنی ہوگیا جب اقتدار نے دین کو اپنی خواہشات کے تابع کر لیا اور حق کے مقابلے میں طاقت کو کھڑا کیا۔
آج بھی منظرنامہ مختلف نہیں صرف کردار بدل گئے ہیں موجودہ حکومت کا قیام جس انداز میں ہوا وہ کسی راز کی بات نہیں یہ وہ سچ ہے جسے ہر گلی ہر چوک ہر چائے خانے میں دہرایا جاتا ہے مگر ایوانوں میں سننے والا کوئی نہیں ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ یہ نظام مظلوم کو انصاف دے گاایک خوش فہمی نہیں تو اور کیا ہے؟
78 سال گزر گئے، مگر آئینی شناخت آج بھی ادھوری ہے حقوق آج بھی وعدوں کے قیدی ہیں بجلی، روزگار، تعلیم، علاج سب الیکشن کے موسم میں یاد آتے ہیں وفاقی نمائندے آتے ہیں اسٹیج سجاتے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں یہ تو ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
یہ وہی کھیل ہے جو دہائیوں سے کھیلا جا رہا ہےالفاظ کو پالش کرکے جھوٹ کو سچ کے لباس میں لپیٹ کر اور عوام کے زخموں پر تقریروں کا مرہم رکھ کرحقیقت یہ ہے کہ وسائل ہیں صلاحیت ہے مگر نیت ندارد نام لینے کی نہیں تو کم از کم کردار پہچاننے کی ہمت تو ہونی چاہیے۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہےظالم ہر دور میں شکست کھاتا ہے بشرطیکہ حق شناس حق کے ساتھ کھڑا ہونے والے زندہ ہوں یہ جنگ سڑکوں اور منصوبوں کی نہیں یہ جنگ حق دیانت اور شعور کی ہے اور گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان کا مستقبل اسی بات سے جڑا ہے کہ ہم ترقی کے شور میں سچ کی آواز کو زندہ رکھ پاتے ہیں یا نہیں آج المیہ یہ نہیں کہ غلط کام ہو رہے ہیں المیہ یہ ہے کہ غلط کو درست، ظلم کو مصلحت اور خاموشی کو دانشمندی کہا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی عالم کوئی خطیب کوئی صاحبِ ضمیر شخص کھڑے ہو کر سچ بولتا ہے تو یہ اس کا جرم نہیں اس کی ذمہ داری ہے ممبر کا تقاضا یہی ہے کہ ظلم کی نشاندہی ہو چاہے اس کے بدلے طعنہ ملے یا مزاحمت سچ ہمیشہ طاقت کو ناگوار گزرتا ہے اسی لیے سچ بولنے والوں پر مرچیں لگتی ہیں۔
حکمرانی آج ایک ایسے طبقے کے ہاتھ میں مرکوز ہے جس کی جڑیں اس دھرتی میں کم اور مفادات سرحدوں سے باہر زیادہ ہیں۔ جن کے بچے کاروبار، مستقبل سب محفوظ دیار غیر میں ہوں ان سے یہ کیسے توقع رکھی جائے کہ وہ اس غریب لاچار قوم کا درد محسوس کریں گے؟ جن کے اپنے گھروں میں انصاف اجنبی ہو وہ قوموں کو کیا انصاف دیں گے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں یزیدیت محض ایک تاریخی کردار نہیں رہتی، بلکہ ایک مزاج بن جاتی ہےایسا مزاج جو ترقی کو ڈھال بنا کر اصولوں پر وار کرتا ہےایسا مزاج جو اقتدار بچانے کے لیے دین قانون اور اخلاق سب کو استعمال کرتا ہے لہٰذا آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت خاموشی نہیں بلکہ نشاندہی ہے نام لینے کی نہیں تو کم از کم کردار پہچاننے کی ہمت تو ہونی چاہیے۔
تاریخ گواہ ہے ظالم ہر دور میں شکست کھاتا ہے بشرطیکہ حق شناس حق کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یہ جنگ سڑکوں اور منصوبوں کی نہیں یہ جنگ حق دیانت اور شعور کی ہےاور گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان کا مستقبل اسی بات سے جڑا ہے کہ ہم ترقی کے شور میں سچ کی آواز کو زندہ رکھ پاتے ہیں یا نہیں ہر دور میں ممبر کی زمداری اولین ترجیع رہی ہے۔ آج اس ذمہ داری کی شدت بڑھ گئی ہے جب منبر سے حق بیان کیا جاتا ہے تو جھوٹوں کو ناگواری گزرتی ہے۔ یہ روش کل بھی تھی آج بھی ہےاور آنے والے دنوں میں نظر زاتی رہے گی آج کا اقتدار اصولوں کو نگل چکا ہے انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ظلم کا بازار گرم ہے۔

