Ishteharon Ki Siasat Kab Tak?
اشتہاروں کی سیاست کب تک؟

پنجاب کی سیاست میں اس وقت سب سے نمایاں کردار مریم نواز کا ہے۔ انہیں بعض حلقے ٹک ٹاکر سی ایم کہتے ہیں کیونکہ ان کی حکمرانی کا ایک نمایاں پہلو میڈیا مینجمنٹ اور تشہیری مہمات ہیں مگر اصل سوال سوشل میڈیا کی ویڈیوز نہیں صوبے کی زمینی حقیقت ہے۔
پنجاب میں مہنگائی کا بوجھ کم نہیں ہوا بیروزگاری کی قطاریں مختصر نہیں ہوئیں اور سرکاری ہسپتالوں کے دروازوں پر اب بھی مریض امید اور مایوسی کے درمیان کھڑے ہیں ایسے میں اگر سرکاری خزانے سے اشتہارات کی بھرمار ہو اور دس ارب کا زاتی عیاشی کے لئے جہاز خریدا جائے تو عوام کے ذہن میں سوال اٹھنا فطری ہے کیا کارکردگی کو اشتہار کی ضرورت ہوتی ہے؟ اقتدار صرف کرسی نہیں ذمہ داری بھی ہوتا ہے اگر ایک حکومت کا زیادہ زور تشہیر پر اور کم زور تدبیر پر ہو تو عوام کو خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں تصویر اصل پر حاوی نہ ہو جائے۔
سیاست دانوں کی صحت اور بیماریوں کا تذکرہ ہمارے ہاں اکثر طنز کا موضوع بنتا رہا ہے اقتدار میں آئیں تو توانا اقتدار سے باہر ہوں تو علیل مگر اصل بحث افراد کی صحت نہیں نظام کی صحت ہے اگر ریاست کی معیشت کمزور ہے خزانہ دباؤ میں ہے اور عوام دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں تو کسی نئے جہاز یا پرتعیش منصوبے کی خبر عوامی حساسیت کو مجروح کرتی ہے۔
یہاں سوال شخصیت کا نہیں ترجیحات کا ہے۔
کیا واقعی پنجاب کے مسائل اتنے معمولی ہو چکے ہیں کہ وسائل کا بڑا حصہ تشہیر اور نمائشی منصوبوں پر صرف کیا جائے؟ یا پھر یہ ایک ایسی سیاست ہے جہاں حکمران سمجھتے ہیں کہ بیانیہ مضبوط ہو تو حقیقت خود دب جائے گی؟ سیاست میں سب سے بڑی طاقت اعتماد ہوتی ہے اگر حکمران طبقہ عوام کو یہ یقین دلا دے کہ ہر فیصلہ طویل المدتی بہتری کے لیے ہے تو اعتراض کی شدت کم ہو جاتی ہے لیکن اگر تاثر یہ بن جائے کہ عوامی مشکلات ثانوی اور ذاتی یا جماعتی تشہیر اولین ترجیح ہے، تو پھر نکتہ چینی بڑھتی ہے۔
جمہوریت میں تنقید دشمنی نہیں ہوتی بلکہ احتساب کا دروازہ ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ متحرک ہیں یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا ان کی متحرکیت عوام کے مسائل کم کر رہی ہے یا صرف اس کی تصویر زیادہ دکھا رہی ہے۔ آخر میں بات وہی اقتدار وقتی ہوتا ہے مگر عوام کی یادداشت اتنی کمزور بھی نہیں جتنی سمجھ لی جاتی ہے اگر کارکردگی ہو تو اشتہار خود بن جاتا ہے۔ اگر کارکردگی نہ ہو تو اشتہار بھی سوال بن جاتا ہے۔
سیاست اگر اشتہاروں سے چلنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ حقیقت نے خود کو پردے کے پیچھے چھپا لیا ہے اور جب پردہ گرتا ہے تو اس کے پیچھے کھڑا اسٹیج اکثر خستہ حال نکلتا ہے۔
سیاست کا موجودہ منظر کچھ ایسا ہی ہے جیسے ایک گھر کی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہوں چھت لرز رہی ہو بنیادیں نمی سے کھوکھلی ہو رہی ہوں مگر مستری ہاتھ میں برش لیے رنگ و روغن کی تہیں چڑھا رہا ہو۔ تصویروں میں گھر چمک رہا ہے حقیقت میں اینٹیں دعا مانگ رہی ہیں کہ بس آج کی رات سلامت گزر جائے سوال یہ نہیں کہ دیواروں کا رنگ کیسا ہے سوال یہ ہے کہ دیوار باقی بھی رہے گی یا نہیں سوال یہ نہیں کہ تقریر کتنی پُرجوش تھی سوال یہ ہے کہ بازار کی رونق کیوں بجھ گئی ہے؟
معیشت کا حال ایسا ہے جیسے نبض چل تو رہی ہو مگر کمزور، تاجر پریشان ہیں صنعت کار خاموش ہیں مزدور کے چہرے پر بے بسی کی گرد جمی ہوئی ہے مہنگائی وہ مہمان ہے جو دروازہ توڑ کر اندر آئی اور اب صوفے پر پیر پھیلائے بیٹھی ہے ایسے میں اگر اقتدار کے ایوانوں سے زیادہ تر آوازیں ترقی کے اشتہاروں اور سوشل میڈیا کے کلپس کی صورت آئیں تو عوام کے دل میں ایک خلش ضرور جنم لیتی ہےیہ زمانہ ٹک ٹاک کا ہے یہ سچ ہے۔
سیاست بھی اب کیمرے کے زاویوں میں قید ہو چکی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ریاستیں فلٹر سے چلتی ہیں؟ کیا بجٹ انسٹاگرام اسٹوری سے متوازن ہوتا ہے؟ کیا بیروزگار نوجوان کو ریَلز میں روزگار مل جاتا ہے جب عام آدمی آٹے، بجلی اور کرائے کے بوجھ تلے دبا ہو اور حکمران طبقہ شاہانہ انداز میں جلوہ گر ہو تو فاصلے صرف معاشی نہیں رہتے وہ نفسیاتی بھی ہو جاتے ہیں عوام کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ حکمران اور محکوم دو الگ دنیاؤں کے باسی ہیں۔
سیاست صرف تقریر اور تشہیر کا نام نہیں سیاست وہ فن ہے جس میں آپ بحران کو خاموشی سے سنبھالتے ہیں اور کامیابی کو شور کے بغیر بانٹتے ہیں اگر گھر کی بنیادیں کمزور ہوں تو سمجھدار مالک سب سے پہلے بنیاد مضبوط کرتا ہے نہ کہ بالکونی میں جھنڈیاں سجاتا ہےاصل امتحان یہ ہے کہ کیا معیشت کے بگڑتے اشاریے سنبھل رہے ہیں؟ کیا کاروبار کو ریلیف مل رہا ہے؟ کیا عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو اشتہار وقتی تسلی تو دے سکتے ہیں فل کو خوش تو کرسکتے ہیں مگر تاریخ کو قائل نہیں کر سکتے۔
سیاست کا مستقبل رنگ و روغن سے نہیں مضبوط اینٹوں سے بنتا ہے اور اینٹیں وہی مضبوط ہوتی ہیں جو عوام کی دعاؤں اعتماد اور خوشحالی سے تیار کی جائیں نہ کہ صرف کیمرے کی آنکھ سے۔۔

