Iran Se Ziada Islam Aham Hai
ایران سے زیادہ اسلام اہم ہے

ایران سے زیادہ اسلام اہم ہے، ہم اسلام بچائیں گے چاہے اس کے لیے ایران قربان کرنا پڑے امام خمینیؒ کا یہ جملہ محض انقلابی نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل فکری معیار ہے۔ یہ اس توحیدی سوچ کا اظہار ہے جس میں دین کو ریاست، قومیت اور جغرافیے پر فوقیت دی جاتی ہے۔ امام خمینیؒ کے نزدیک اسلام محض مذہبی رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو سیاست، معیشت اور معاشرت کو الٰہی اصولوں کے تابع کرتا ہے۔ اسی لیے ان کے نزدیک ایران مقصد نہیں بلکہ اسلام کے قیام کا ایک وسیلہ تھا۔ اگر ایران باقی رہے مگر اسلام مسخ ہو جائے تو ایسی ریاست بے معنی ہے اور اگر ریاست قربان ہو جائے مگر اسلام زندہ رہے تو یہی حقیقی کامیابی ہے۔
یہ فکر اسلامی تاریخ کے اس تسلسل سے جڑی ہے جہاں حق و اقتدار آمنے سامنے آئے تو مومنانِ حق نے اقتدار کو قربان کرکے دین کو بچایا۔ امام خمینیؒ کا مؤقف کربلا کے اس اعلان کی معاصر تعبیر ہے کہ قیام اقتدار کے لیے نہیں بلکہ دین کی اصلاح کے لیے ہوتا ہے۔
انقلابی ایران کی خارجہ پالیسی بھی اسی نظریے کی عکاس رہی، جہاں مستضعفینِ عالم کی حمایت کو قومی مفاد سے برتر سمجھا گیا، چاہے اس کے نتیجے میں پابندیاں، جنگ اور عالمی دباؤ کیوں نہ آئے یہ رویہ جدید قوم پرستانہ سیاست سے متصادم ضرور ہے، مگر توحیدی منطق میں یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ یہ جملہ آج مسلم اُمت کے لیے ایک فکری آئینہ ہے جب ریاستیں مفادات کی خاطر اسلامی اصولوں پر سمجھوتہ کرتی ہیں تو سوال اٹھتا ہے کیا ہم اسلام کے لیے ریاست قربان کرنے کو تیار ہیں یا ریاست کے لیے اسلام کو پہلے ہی قربان کر چکے ہیں؟ امام خمینیؒ کا پیغام واضح ہے کہ اسلام نعرہ نہیں بلکہ قربانی، استقامت اور عملی التزام کا نام ہے۔
آخرکار یہ اعلان ہر دور کے مسلمانوں کے لیے کسوٹی ہے۔ جو قوم اسلام کو قومیت سیاست اور اقتدار سے بالاتر رکھے وہی حقیقی معنوں میں امتِ محمدیہﷺ کی امین ہے اسلام زندہ رہے گا تو ریاستیں بھی معنویت پائیں گی ورنہ طاقتور ملک بھی اندر سے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔
امام خمینیؒ کی سیاست کا مرکز خدا اور رسولﷺ کی محبت تھی نہ کہ کرسی اور تاج انہوں نے واضح کر دیا کہ اگر اسلامی حکومت بھی اسلام کے بنیادی اصولوں سے ہٹ جائے تو وہ قابلِ قبول نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو انہیں دنیا کے بیشتر مذہبی سیاست دانوں سے ممتاز کرتا ہے انہوں نے مذہب کو سیاست کا آلہ نہیں بنایا بلکہ سیاست کو مذہب کا تابع کیا اسلام ان کے نزدیک نعرہ نہیں ضابطۂ حیات تھا۔ یہ جملہ دراصل مسلم اُمت کے لیے ایک آئینہ ہے آج جب مسلم ریاستیں اپنے مفادات سرحدوں کرسیوں اور عالمی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے اسلام کے اصولوں پر سمجھوتہ کر لیتی ہیں تو امام خمینیؒ کا یہ اعلان ایک سوال بن کر سامنے آتا ہے۔

