Wednesday, 07 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Insani Takhleeq, Zindagi Bator Azmaish

Insani Takhleeq, Zindagi Bator Azmaish

انسانی تخلیق، زندگی بطور آزمائش

قرآنِ مجید انسانی وجود کو محض ایک فطری حادثہ نہیں بلکہ ایک بامقصد تخلیق قرار دیتا ہے انسان کی پیدائش نشوونما اور زندگی کے مختلف مراحل دراصل ایک مسلسل امتحانی سفر ہیں، جس میں تنگی، آسانی پریشانی اور آسائش سب شامل ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے وَلَقَدُ خَلَقُنَا الُإِنسَانَ مِن نُّطُفَةٍ أَمُشَاجٍ نَّبُتَلِيهِ اور یقیناً ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا تاکہ ہم اسے آزمائیں (سورہ الدہر: 2)۔

قرآن واضح کرتا ہے کہ انسان کو اس دنیا میں مکمل آرام کے لیے نہیں بلکہ جدوجہد اور امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے۔

لَقَدُ خَلَقُنَا الُإِنسَانَ فِي كَبَدٍ یقیناً ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ (سورہ البلد: 4)

ان تنگیوں اور پریشانیوں کا مقصد انسان کو توڑنا نہیں بلکہ نکھارنا ہے کبھی خوف کبھی فقر کبھی بیماری اور کبھی محرومی کے ذریعے انسان کے صبر توکل اور ایمان کو پرکھا جاتا ہے قرآن کی وسعت یہ بتاتی ہے کہ آزمائش صرف دکھ میں نہیں بلکہ خوشحالی میں بھی ہے نعمتیں بھی ذمہ داری اور امتحان ہیں تاکہ دیکھا جائے انسان شکر گزار بنتا ہے یا غفلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

وَنَبُلُوكُم بِالشَّرِّ وَالُخَيُرِ فِتُنَةً (سورہ الانبیاء: 35)

پس قرآنی تعلیم یہ ہے کہ زندگی کے نشیب و فراز عارضی ہیں مگر ان میں اختیار کیا گیا رویہ مستقل انجام کا فیصلہ کرتا ہے جو انسان آزمائش میں صبر نعمت میں شکر اور ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے وہی اس امتحانی دنیا میں سرخرو قرار پاتا ہے۔

قرآنِ مجید انسانی زندگی کو محض حادثاتی وجود یا وقتی قیام گاہ نہیں بلکہ ایک با مقصد منظم اور با شعور تخلیقی منصوبہ قرار دیتا ہے انسان کی تخلیق سے لے کر موت تک کا ہر مرحلہ ایک حکیمانہ نظام کے تحت طے کیا گیا ہے جس میں آسانی اور تنگی خوشی اور غم وسعت اور محرومی سب باقاعدہ امتحان کے اجزاء ہیں۔ انسانی زندگی نہ مکمل سکون کا وعدہ ہے اور نہ دائمی پریشانی کی سزا بلکہ یہ ایک ایسی تجربہ گاہ ہے جہاں انسان کے ایمان کردار صبر اور شکر کو عملی طور پر پرکھا جاتا ہے۔

قرآن سب سے پہلے انسان کو اس کی اصل یاد دلاتا ہے کہ وہ ایک حقیر نطفے سے پیدا کیا گیا تاکہ وہ غرور میں مبتلا نہ ہو مگر اس دنیا میں اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے بہت فرعون انسانیت کی دھجیاں اڑانے نظر آرہے ہیں یہ غرور یہ فرعونیت ان انسانوں کو شیطان کی صف میں ایک دن کحڑا کرے گی جہاں سوائے ندامت پیشانی کے کچھ نہیں۔

قرآن انسانی زندگی کی فطری حقیقت کو ایک مختصر مگر گہرے جملے میں بیان کرتا ہے۔ یقیناً ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔

یہ مشقت صرف جسمانی محنت تک محدود نہیں بلکہ ذہنی دباؤ جذباتی آزمائشیں معاشی مسائل اور سماجی ناانصافیاں بھی اسی کرب میں شامل ہیں قرآن کے مطابق یہ سب فطرتِ زندگی کا حصہ ہیں ان سے فرار ممکن نہیں البتہ ان میں کامیاب یا ناکام ہونا انسان کے اختیار میں ہے۔

تنگیاں، پریشانیاں اور مصیبتیں بعض اوقات خوف کی صورت میں آتی ہیں، کبھی بھوک اور فقر کے روپ میں کبھی عزیزوں کی جدائی یا صحت کے زوال کی شکل میں قرآن ان آزمائشوں کو اتفاقی حادثہ قرار نہیں دیتا بلکہ ایک طے شدہ سنتِ الٰہی کے طور پر پیش کرتا ہے۔

وَلَنَبُلُوَنَّكُمُ بِشَيُءٍ مِّنَ الُخَوُفِ وَالُجُوعِ وَنَقُصٍ مِّنَ الُأَمُوَالِ وَالُأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، کچھ بھوک اور مالوں جانوں اور پیداوار کی کمی کے ذریعے (سورہ بقرہ: 155)۔

لیکن قرآن کی وسعتِ نظر یہ ہے کہ وہ آزمائش کو صرف تکلیف تک محدود نہیں رکھتا خوشحالی مال و دولت، اقتدار، صحت اور فراغت بھی اسی طرح امتحان ہیں جیسے مصیبت بلکہ بسا اوقات نعمت کی آزمائش زیادہ سخت ہوتی ہے کیونکہ انسان نعمت پا کر غفلت غرور اور خود فراموشی کا شکار ہو جاتا ہے۔

وَنَبُلُوكُم بِالشَّرِّ وَالُخَيُرِ فِتُنَةً، "ہم تمہیں برائی اور بھلائی دونوں کے ذریعے آزماتے ہیں"۔

قرآن بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ تنگی یا آسانی اللہ کی ناراضگی یا رضا کی حتمی علامت نہیں انبیاء علیہم السلام کی زندگیاں اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ شدید ترین آزمائشیں بھی اللہ کے محبوب بندوں پر آتی رہیں حضرت نوحؑ کی طویل جدوجہد، حضرت ایوبؑ کی بیماری حضرت یوسفؑ کی قید اور حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے مصائب اس امر کی دلیل ہیں کہ آزمائش قربِ الٰہی سے متصادم نہیں بلکہ اکثر اسی کا زینہ بنتی ہے قرآن کے مطابق ان تمام مراحل کا ایک ہی بنیادی مقصد ہے انسان کی اصلاح تطہیر اور ارتقاء۔

أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتُرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمُ لَا يُفُتَنُونَ، "کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟" (سورہ العنکبوت: 2)

زندگی کی آزمائشوں میں انسان کے لیے سب سے قیمتی سبق یہ ہے کہ نتیجہ حالات کا نہیں بلکہ رویّے کا ہوتا ہے جو انسان تنگی میں صبر اختیار کرے آسانی میں شکر ادا کرے اور ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع رکھے وہی اس قرآنی امتحان میں کامیاب قرار پاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن صبر کرنے والوں کو اللہ کی معیت اور کامیابی کی بشارت دیتا ہے اور شکر گزاروں کے لیے نعمتوں میں اضافہ وعدہ کرتا ہے۔

یوں قرآن کی روشنی میں انسانی زندگی ایک مسلسل سفرِ امتحان ہے جس میں ہر مرحلہ انسان کے باطن کو سامنے لے آتا ہے جو شخص اس حقیقت کو سمجھ لے وہ تنگیوں میں شکستہ دل نہیں ہوتا اور نعمتوں میں سرکش نہیں بنتا بلکہ متوازن با شعور اور خدا آشنا زندگی گزارتا ہے اللہ ہمیں دنیا کی ان آزمائشوں سے بچائے اگر کوئی آزمائش آتی ہے تو اس میں ہمیں سرخرو کرے۔

Check Also

Ye Pegham Hai Ke

By Hameed Ullah Bhatti