Tuesday, 24 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Imam Khomeini Ka Qoul Aur Aaj Ki Aalmi Haqiqat

Imam Khomeini Ka Qoul Aur Aaj Ki Aalmi Haqiqat

امام خمینی کا قول اور آج کی عالمی حقیقت

چار دہائیاں پہلے جب روح اللہ خمینی نے امریکا کے بارے میں یہ تمثیل پیش کی کہ امریکا اس کتے کی مانند ہے اگر تم اس سے ڈر کر بھاگو گے تو یہ تمہارا پیچھا کرے گا اور اگر ڈٹ کر کھڑے ہو جاؤ گے تو یہ دم دبا کر بھاگ جائے گا تو اس وقت بہت سے لوگوں نے اسے محض جذباتی نعرہ یا انقلابی خطابت سمجھا۔ مگر وقت جو سب سے بڑا منصف ہوتا ہے آج اس قول کی معنویت کو ایک نئی شدت کے ساتھ آشکار کر رہا ہے۔ یہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ ایک مکمل سیاسی فلسفہ تھا دور اندیشی اور سمجھداری کا مظہر تھا۔ مزاحمت کا فلسفہ خود اعتمادی کا نظریہ اور سامراجی قوتوں کے نفسیاتی حربوں کو سمجھنے کا ایک گہرا ادراک امام خمینی نے دراصل طاقت کے اس عالمی توازن کو چیلنج کیا جس میں کمزور اقوام کو خوفزدہ رکھ کر ان پر غلبہ قائم رکھا جاتا ہے۔

آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ خوف اور پسپائی ہمیشہ جارحیت کو بڑھاتی ہے جبکہ استقامت اور مزاحمت طاقتور ترین قوتوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے مسلسل دباؤ، پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کی پالیسی اپنائی اور کبھی ان طاغوتی طاقتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا نتیجتاً وہی قوتیں جو کبھی اسے تنہا کرنے کی کوشش کرتی تھیں آج محتاط انداز میں اس کے ساتھ معاملہ کرنے پر مجبور نظر آتی ہیں۔ پوری دنیا کے لئے یہ منظر آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔

یہاں سوال صرف ایران یا امریکا کا نہیں بلکہ یہ ایک آفاقی اصول ہے۔ تاریخ ہمیں بارہا یہ سبق دیتی ہے کہ جو قومیں خوف کے سائے میں جیتی ہیں وہ اپنی آزادی خودمختاری اور عزتِ نفس سب کچھ کھو دیتی ہیں جبکہ جو قومیں مشکلات کے باوجود ڈٹ کر کھڑی رہتی ہیں وہ نہ صرف اپنی بقا کو یقینی بناتی ہیں بلکہ دنیا کو اپنی طاقت کا لوہا بھی منواتی ہیں۔

امام خمینی کا یہ قول دراصل نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کی ایک گہری سمجھ کا عکاس ہے۔ بڑی طاقتیں صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ خوف میڈیا اور معاشی دباؤ کے ذریعے بھی اپنی برتری قائم رکھتی ہیں لیکن جب کوئی قوم اس خوف کی زنجیر کو توڑ دیتی ہے تو وہی طاقتیں اپنی حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ آج کے تناظر میں اگر ہم اس قول کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے، یک قطبی نظام کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے اور ایک کثیر القطبی دنیا (Multipolar World) جنم لے رہی ہے جہاں چھوٹی اور درمیانی طاقتیں بھی اپنی جگہ بنا رہی ہیں ایسے میں امام خمینی کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ خوف سے آزادی ہی اصل آزادی ہے۔

لیکن یہاں ایک نکتہ اور بھی قابلِ غور ہے مزاحمت کا مطلب محض جنگ یا تصادم نہیں بلکہ یہ ایک فکری معاشی اور سفارتی خودمختاری کا نام بھی ہے۔ اگر کوئی قوم صرف نعروں تک محدود رہے اور عملی میدان میں کمزور ہو تو وہ اس فلسفے کا حق ادا نہیں کر سکتی اس لیے ضروری ہے کہ مزاحمت کے ساتھ حکمت، اتحاد اور اندرونی استحکام بھی ہو۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امام خمینی کا یہ قول وقت کی دھول میں دبنے والا نعرہ نہیں۔ بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو آج بھی دنیا کے سیاسی منظرنامے میں اپنی گونج رکھتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت کا اصل منبع ہتھیار نہیں بلکہ حوصلہ، یقین اور ڈٹ جانے کا عزم ہوتا ہے بڑی معذرت کے ساتھ میں یہ لکھنے پر مجبور ہوں۔ آج ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود طاقتوروں کی غلامی کر رہے ہیں ٹکہ ٹکے کے محتاج ہیں ہر وقت بھیک مانگتے انکے دروازوں پر جاتے ہیں۔

ہماری مجبوری کا عالم یہ ہے کہ ایک قاتل کو ایوارڈ سے نوازنے کی چاپلوسی کرتے نظر آتے ہیں۔ ہماری وہ مولوی جو دن رات اسلام کے راگ الاپتے ہیں وہ حرام کے ناشتوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں آج اسلئے ہماری دنیا میں کوئی عزت ہے نہ وقار سبھی ہمیں بھکاری منگتے کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ہمارا پورا سسٹم بگڑا ہوا ہے ہر سسٹم میں بیٹھا شخص اپنی جگہ انسان نہیں فرعون ہے اب بھی موقع ہے کہ ایران جیسے چھوٹے ملک سے سبق حاصل کریں کچھ غیرت ادھار لیں اور اپنے پاوں پر کھڑا ہونے سیکھیں یہ کب تک بھکاری کے روپ میں ہم دنیا کے سامنے ذلیل ہوتے نظر آئیں گے۔

آج کا سوال یہی ہے ہم خوف کے پیچھے بھاگنے والی قوم بننا چاہتے ہیں یا ڈٹ کر کھڑے ہونے والی؟ یہ فیصلہ ہم سب نے کرنا ہے اقتدار والے تو کشکول کو ہی بہتر سمجھیں گے کیونکہ انکا نظام کشکول سے بہتر طریقے سے چل رہا ہے بچے باہر ملک کاروبار باہر ملک بس بھیک مانگ مزید مفادات لے رہے ہیں اور قوم کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے۔

Check Also

Salahuddin Ayubi Ki Ghairat, Istanbul Ki Khawateen Aur Hamari Khamoshi

By Peer Intizar Hussain Musawir