Friday, 03 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Hun Araam Je

Hun Araam Je

ہن آرام جے

آج واقعی اس قوم کو جشن منانا چاہیے ڈھول بجانے چاہئیں مٹھائیاں بانٹنی چاہئیں اور پھر پورے قومی وقار کے ساتھ اپنے حال پر فخر کرنا چاہیے کیونکہ قسمت والوں کو ہی ایسی ذمہ دار اور سنجیدہ قیادت نصیب ہوتی ہے جو مشکل ترین حالات میں بھی عوام کو ریلیف دینے کے خواب کم از کم بیانات میں ضرور دیتی ہے بلکہ اگل رہی ہے جبکہ عملی میدان میں قوم کی کمر توڑ رہی ہے وہی ریلیف جو پیٹرول کی قیمتوں میں احسان بن کر اترتا ہے اور اگلے ہی موڑ پر کسی اور مد میں عوام کی جیب سے دوگنا نکل جاتا ہے مگر کیا فرق پڑتا ہے؟

آخر قوم نے سیکھ لیا ہے بلکہ اس موقعے پر ایک شہر آفاق جملہ ہون آرام جے کہنے میں مجھے مزہ آرہا ہے۔ یہ وہی قوم ہے جو کبھی چار روپے پیٹرول بڑھنے پر سینہ کوبی کرتی تھی سڑکوں پر ماتم برپا ہوتا تھا ٹی وی چینلز پر قیامت کا سماں ہوتا تھا رپورٹر بازاروں میں گھوم گھوم کر ٹماٹر، چینی، آٹے کے ریٹ پوچھتے تھے جیسے ملک کی تقدیر انہی نرخوں سے جڑی ہو بلکہ ایک جہل جماعت کھ جاہل نمائندے کہتے تھے پیٹرول مہنگا وزیر اعظم چور تو آج اس موقعے پر اس بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمت پر کیا کہنا چاہئے۔

میرا سوال ان نمائندوں سے آج چپ کیوں ہیں بولتے کیوں نہیں ہیں یہ منافقت کیوں ہے نیز اور آج وہی ریٹ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں مگر زبانیں زمین میں گاڑھی جا چکی ہیں زبانوں کو تالے لگا چکے ہیں وہی اینکرز وہی تجزیہ کار وہی ضمیر کے رکھوالے ضمیر فروش صحافی اب ایسے خاموش ہیں جیسے کسی نے سچ پر تالہ لگا دیا ہو اور تلوار سر پر رکھی خبر دار تواڑی ایسی کی تیسی جو زنجبار کھولنے کی کوشش کی شاید ضمیر بھی مہنگائی کے ساتھ مہنگا ہوگیا ہے یا پھر لفافے کا وزن سچ سے زیادہ ہوگیا ہے۔

ادھر عوام کا حال یہ ہے کہ مزدور کا پسینہ سستا اور روٹی مہنگی ہو چکی ہے ماں کی ممتا بے بس ہے اور بازار بے رحم باپ کی آنکھ میں نمی ہے مگر جیب خالی لیکن اوپر سے اعلانات کا سیلاب ہے ریلیف، ترقی، استحکام! اور ہمیشہ زندہ باد پاکستان کے کھوکھلے نعرے ہیں گویا زمین پر نہیں، کسی اور سیارے پر پاکستان بسایا جا رہا ہو اور پھر وہی تماشہ کہ قوم کو صبر کا درس دیا جا رہا ہے قربانی کا سبق پڑھایا جا رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ یہ قربانی ہمیشہ غریب ہی کیوں دیتا ہے؟ یہ بوجھ ہمیشہ کمزور کے کندھوں پر ہی کیوں رکھا جاتا ہے؟

جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں

نہ مہنگائی کا درد ہے

نہ خالی چولہے کی فکر

نہ بچوں کی ادھوری خواہشوں کا احساس۔

وہاں تو سب کچھ کنٹرول میں ہے

سوائے عوام کے حالات کے۔

تو آؤ۔

آج پھر اسی خاموش۔ برداشت کی عادی اور ہر ظلم کو تقدیر سمجھنے والی قوم کو۔ بائیس توپوں کی سلامی دی جائے کہ اس نے۔ مہنگائی کو معمول، ناانصافی کو نظام

اور خاموشی کو اپنی پہچان بنا لیا ہے یہ وہ قوم ہے جو ہر بار پس کر بھی کہتی ہے کوئی بات نہیں ہر بار لٹ کر بھی مسکرا دیتی ہے۔ سب ٹھیک ہو جائے گا اور جب سب کچھ حد سے گزرنے کے باوجود بکل چپ ہے میں پچھلے چار سال کی اس منافقانہ طنز واویلا دو روپے پیٹرول بڑھنے پر شور مچانے والی قوم کی جاہلانہ روئے کو دیکھتا ہوں تو یہی کہتا ہوں سونیو

یوں آرام جے

مگر ایک سوال پھر بھی باقی ہے کیا واقعی سب ٹھیک ہو جائے گا؟

یا ہم نے ٹھیک کی تعریف ہی بدل دی ہے؟

فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، مگر فی الحال تو قوم کو یہی مشورہ ہے۔ یوں ہی برداشت کرتے رہو ایک دن تمہارہ قصہ ختم ہوجائے گا اور وہ محب وطن وہ نمائندے بہتوپئے یوں سدائیں بلند کرکے آگے بڑھیں گے پاکستان ہمیشہ زندہ باد میں پھر وہی جملہ دہراؤں گا ہون آرام جے۔

Check Also

Petrol Bomb Gir Gaya

By Nouman Ali Bhatti