Hijrat Wohi Karta Hai Jo Baiyat Nahi Karta
ہجرت وہی کرتا ہے جو بیعت نہیں کرتا

یہ جملہ نہ صرف ایک فلسفیانہ حقیقت کو بیان کرتا ہے بلکہ تاریخ کی گہرائیوں سے نکل کر آج کے دور کی سیاسی اور سماجی حقیقتوں کو بھی چھوتا ہے۔ ہجرت کوئی بزدلی نہیں بلکہ یہ ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے کی سب سے مہذب اور پرامن صورت ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو فرد کی شناخت ایمان اور اصولوں کو محفوظ رکھتے ہوئے جابرانہ نظاموں سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ ظالموں کی بیعت کرتے ہیں وہ عارضی طور پر تخت و تاج کی شان و شوکت میں دفن ہو جاتے ہیں جبکہ ہجرت کرنے والے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ہم اسی تناظر میں ہجرت کی اہمیت اس کی تاریخی مثالیں اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت پر بات کریں گے خاص طور پر امام حسینؑ کی جدوجہد اور ہمارے ملک (پاکستان) میں صحافیوں۔ تاجروں اور کاروباری افراد کی ہجرت کے پس منظر میں۔
اسلام کی تاریخ میں ہجرت ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کی ہجرت مکہ سے مدینہ کی طرف تھی جو ظلم و جبر کے خلاف ایک واضح انکار تھا مکہ کے مشرکین نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر دی تھی لیکن رسول اللہ نے تلوار اٹھانے کی بجائے ہجرت کا راستہ اختیار کیا یہ ہجرت نہ صرف مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت تھی بلکہ ایک نئی اسلامی ریاست کی بنیاد بھی رکھی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جو لوگ (مہاجرین کو) پناہ دی اور مدد کی یہی لوگ سچے مومن ہیں (سورۃ الانفال: 74)۔ یہ آیت ہجرت کو ایمان کی پہچان قرار دیتی ہے نہ کہ فرار کی علامت۔
اب آئیے امام حسینؑ کی طرف جو ہجرت کی ایک زندہ مثال ہیں۔ یزید بن معاویہ جو ایک ظالم اور فاسق حکمران تھا نے امام حسینؑ سے بیعت کا مطالبہ کیا یزید کا دور اقتدار ظلم فسق اور اسلامی اصولوں کی پامالی سے بھرا ہوا تھا وہ خود کو خلیفہ کہلاتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ وہ انصاف قائم کرے گا مگر حقیقت میں اس نے خانوادۂ رسول کو مدینہ سے ہجرت پر مجبور کیا امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا اور مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کی، پھر کوفہ کی دعوت پر وہاں کی طرف روانہ ہوئے جو بالآخر کربلا کے میدان میں ختم ہوئی۔
یہ ہجرت کوئی بھاگنا نہیں تھی بلکہ اصولوں پر ڈٹے رہنے کی علامت تھی امام حسینؑ نے فرمایا میں نے یزید کی بیعت نہیں کی کیونکہ وہ فاسق ہے اور میں اسے خلیفہ نہیں مانتا یہ انکار ظلم کے دربار میں سر نہ جھکانے کی مثال ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یزید کا تخت تو فنا ہوگیا، مگر امام حسینؑ دلوں میں زندہ ہیں ان کی ہجرت نے ثابت کیا کہ جب بیعت کا مطالبہ اصولوں کے خلاف ہو، تو راستے بدل لیے جاتے ہیں مگر ایمان اور ضمیر نہیں بیچے جاتے۔
یزید کا دور ایک ایسا دور تھا جہاں ظالم خود کو انصاف کا علمبردار کہتے تھے وہ کہتا تھا کہ وہ اسلامی سلطنت کو مضبوط کرے گا، مگر اس نے مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے اور خانوادۂ رسول پر ظلم ڈھائے آج بھی ایسے حکمران موجود ہیں جو انصاف کے دعوے کرتے ہیں، مگر ان کی پالیسیاں لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرتی ہیں۔
آج ہمارے ملک پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے بہت سارے صحافی، بزنس مین تاجر اور دانشور اس ملک سے ہجرت کر گئے ہیں کیونکہ یہاں کے ظالم لوگوں نے انہیں اتنا مجبور کر دیا ہے یہ ہجرت کوئی معاشی وجوہات کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی جبر آزادی اظہار کی پابندی اور انصاف کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہے مثال کے طور پر حالیہ برسوں میں متعدد صحافیوں کو دھمکیاں ملیں، مقدمات درج ہوئے اور بعض کو جبری طور پر ملک چھوڑنا پڑا۔ یہ لوگ یزید کی طرح کے حکمرانوں کی بیعت کرنے سے انکار کرتے ہیں، جو خود کو انصاف کا ضامن کہتے ہیں مگر حقیقت میں مخالفین کو کچلتے ہیں۔
پاکستان میں سیاسی بحرانوں نے ہجرت کو ایک عام رجحان بنا دیا ہے۔ 2022-2023 کے سیاسی انتشار میں جب ایک جماعت کی حکومت گئی اور دوسری آئی، تو مخالفین پر مقدمات کی بوچھاڑ ہوگئی صحافی جو سچ لکھتے تھے انہیں "غدار" قرار دیا گیا۔ بزنس مین جو آزادانہ کاروبار کرنا چاہتے تھے، انہیں ٹیکسوں، ریڈز اور سیاسی دباؤ سے تنگ کیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ بہت سے لوگ دبئی، لندن، کینیڈا اور امریکہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہ ہجرت ان کی بزدلی نہیں بلکہ اصولوں پر ڈٹے رہنے کی نشانی ہے۔ وہ کہتے ہیں "ہم نے مکان بدلا ہے، پر اپنا ایمان نہیں یعنی، وہ اپنی جائیداد اور گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں، مگر ضمیر نہیں بیچ رہے"۔
یزید کی طرح، آج کے یہ ظالم بھی کہتے ہیں کہ ہم انصاف لائیں گے ملک میں عدل قائم کریں گے مگر ان کے اعمال دیکھیں صحافیوں پر حملے جبری گمشدگیاں اور سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالنا۔ یزید نے بھی یہی دعوے کیے تھے، مگر اس نے حرم مدینہ کو لوٹا اور کربلا میں خانوادۂ رسول کا قتل عام کیا۔ تاریخ دہرائی جا رہی ہے اور ہجرت اس کا جواب ہے۔
ہجرت کو اکثر بھاگنے سے تعبیر کیا جاتا ہے مگر یہ غلط فہمی ہے۔ یہ انکار کی مہذب صورت ہے۔ جو شخص ظلم کے دربار میں سر جھکا دے، وہ مقیم رہتا ہے یعنی وہ نظام کا حصہ بن جاتا ہے اور اس کی برائیوں میں شریک ہو جاتا ہے۔ لیکن جو سر اٹھائے، وہ ہجرت کرتا ہے اور اپنی شناخت بچاتا ہے۔ فلسفی طور پر، یہ ایک وجودی انتخاب ہے رہنا اور غلام بننا، یا نکلنا اور آزاد رہنا امام حسینؑ سے سیکھنے کی بات کریں تو انہوں نے ہجرت کو مزاحمت کا ہتھیار بنایا جب بیعت کا مطالبہ ہوا تو انہوں نے راستے بدلے مدینہ سے مکہ پھر کوفہ مگر اصول نہیں بدلے آج بھی جو لوگ ہجرت کرتے ہیں وہ یہی سبق دہراتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انصاف کے دعووں پر یقین نہیں کیونکہ یزید جیسے لوگ ہمیشہ ایسے دعوے کرتے رہے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ بیعت کرنے والے تختوں میں دفن ہوئے جیسے یزید اور اس کے حواری مگر ہجرت کرنے والے جیسے امام حسینؑ اور ان کے ساتھی دلوں میں زندہ ہیں آج پاکستان میں جو لوگ ہجرت کر رہے ہیں وہ بھی تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں وہ ظلم کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہیں ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہجرت پہچان ہے یہ بتاتی ہے کہ کون اصول پرست ہے اور کون مصلحت پسند اگر ہم واقعی انصاف چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے نظام کی مخالفت کرنی چاہیے جو لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرے۔ یزید کا انجام ہمارے سامنے ہے وہ فنا ہوگیا، مگر حسینؑ زندہ ہے اسی طرح آج کے ظالم بھی فنا ہوں گے اور ہجرت کرنے والے دلوں میں رہیں گے۔ ہجرت نہ صرف ایک عمل ہے بلکہ ایک پیغام ہے ظلم کے سامنے سر نہ جھکانا اور اصولوں پر ڈٹے رہنا۔

