Gilgit Ki Wadi Mein Goonjti Sadayen
گلگت کی وادی میں گونجتی صدائیں

گلگت کی صبح ہمیشہ برفانی چوٹیوں سے اترتی ہے روشنی جب ہنزہ کے پہاڑوں پر پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے قدرت نے عدل کا کوئی فرمان صادر کیا ہو مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس روشنی کا عکس اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہنچتا ہے گلگت بلتستان ایک حسین خطہ ضرور ہے مگر آئینی و انتظامی ابہام کا شکار بھی ہے یہاں کا وزیرِ اعلیٰ بظاہر ایک آئینی عہدہ رکھتا ہے، مگر عوامی تاثر یہ ہے کہ اصل فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں یہ تاثر خود جنم نہیں لیتا، اسے حالات جنم دیتے ہیں، خاموش فیصلے جنم دیتے ہیں اور وہ احکامات جن کی بازگشت عوامی نمائندوں کے لبوں پر نہیں آتی۔
جمہوریت کی اصل روح اختیار کی منتقلی میں ہے اگر منتخب نمائندے اپنے ہی حلقوں میں بے اختیار دکھائی دیں تو سوال اٹھتے ہیں۔ اگر امن و امان کے نام پر کرفیو نافذ ہو اور عوام کو یہ سمجھ نہ آئے کہ اس کی ناگزیریت کیا تھی تو بے اعتمادی بڑھتی ہے۔ اگر گولی کی آواز مکالمے پر غالب آجائے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے۔
یہ سوال محض سیاسی نہیں اخلاقی بھی ہے فیصلے کہاں ہوتے ہیں؟ ذمہ داری کس کے کاندھوں پر ہے؟ اور جواب دہی کس سے طلب کی جائے؟
جمہوری نظام میں اصل طاقت پارلیمان اور عوام کے منتخب ایوان ہوتے ہیں اگر اختیارات کا توازن بگڑ جائے تو نظام کی صورت تو باقی رہتی ہے مگر روح کمزور پڑ جاتی ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سول بالادستی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ریاستی استحکام کی شرط بن جاتی ہے پاکستان کے آئین اور سیاسی تاریخ میں عسکری و سیاسی اداروں کے درمیان طاقت کے توازن پر بحث نئی نہیں لیکن گلگت بلتستان کا معاملہ اس لیے زیادہ پیچیدہ ہے کہ یہاں مکمل آئینی صوبائی حیثیت بھی تاحال ایک سوال بنی ہوئی ہے جب شناخت ہی غیر واضح ہو تو اختیار کیسے واضح ہوگا؟
یہ بھی سچ ہے کہ طاقت بندوق سے زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی، اعتماد سے رہتی ہے اعتماد تب بنتا ہے جب عوام کو محسوس ہو کہ ان کے ووٹ کی حرمت ہے ان کا نمائندہ بااختیار ہے اور ان کی آواز فیصلہ سازی کا حصہ ہے۔
امیر ایاز کے اسلوب میں اگر بات کی جائے تو یوں کہہ لیجیے ریاست اگر ماں ہے تو اسے اپنے بچوں سے خوف کیسا اور اگر بچوں کو اپنی ہی ماں سے ڈر لگے تو گھر کی فضا پر سوال ضرور اٹھتے ہیں۔
آج گلگت بلتستان میں اصل تقاضا تصادم نہیں، شفافیت ہے احتساب صرف سیاست دان کا نہیں اداروں کا بھی ہونا چاہیے آئینی دائرے میں قانون کے تحت اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق کسی بھی سانحے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونا متاثرین کو انصاف ملنا اور طاقت کے استعمال کی وضاحت ہونا یہ سب ریاست کی ساکھ کے لیے ضروری ہے ورنہ خاموشیاں احتجاج میں بدلتی ہیں اور احتجاج تاریخ میں درج ہو جاتے ہیں۔ بااختیار گلگت بلتستان کوئی بغاوت نہیں یہ انکا بنیادی حق ہے کب تک اس خطے کے بادیوں کو بے آئیں رکھا جائے گا 78 برس سے جھوٹے وعدوں پر کھٹ پتلی نمائندوں کے ذریعے بد معاشی اور ظالمانہ نظام نافذ ہے جب یہاں کے لوگ ایک ہوجاتے ہیں پیار محبت سے رہنے لگتے ہیں تو شیعہ سنی فسادات کو ہوا دیکر ایک دوسرے کے دست گریباں کیا جاتا ہے یہ شیطانی کھیل لڑاو اور حکومت کرو کب ختم ہوگا کوئی ان بدمعاشوں سے پوچھنے والا ہے۔
مقامی خود مختاری کمزوری نہیں پائیدار استحکام کی بنیاد ہے عوامی اعتماد کوئی رعایت نہیں ریاست کی بقا کی ضمانت ہے۔ وقت آگیا ہے کہ فیصلوں کی باگیں وہیں ہوں جہاں اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہر ادارے کو اپنے حدود میں رہ کام کرنا چاہئے۔ یہ زبردستی کی اجارہ داری غنڈہ گردی اب مزید برداشت کے قابل نہیں۔ یہ جو لاوا اندر اندر سے پک رہا ہے ایک دن ایسا پھٹے گا کہ سب کے پرکھنچیے اڑیں گے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ظلم اتنا کرو جو کل تم خود بھی برداشت کرسکو۔ گلگت بلتستان کی یہ گونجتی صدائیں بتا رہی ہیں احتجاج کر رہی ہیں کہ یہاں کے باسیوں کو جینے دو یہ ملک چند غنڈوں بدمعاشوں کا نہیں سب کا ہے۔

