Wednesday, 18 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Ghuroor Khaak Mein Milne Mein Dair Nahi Lagti

Ghuroor Khaak Mein Milne Mein Dair Nahi Lagti

غرور خاک میں ملنے میں دیر نہیں لگتی

کہانی کچھ یوں ہے کہ دنیا بدل رہی ہے، مگر ہمارے بیانات نہیں بدل رہے طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تاریخ ان کے اشاروں پر چلتی ہے حالانکہ تاریخ کا مزاج کبھی کسی کا تابع نہیں رہا کبھی ایک ٹویٹ دنیا کو ہلا دیتا تھا کبھی ایک دھمکی پورے خطے کو خاموش کرا دیتی تھی۔ Donald Trump کے دور کی وہ گونج ابھی زیادہ پرانی نہیں جب طاقت کا لہجہ حکم دیتا تھا اور دنیا سر جھکا دیتی تھی مگر وقت، جناب وقت نہ کسی کا دوست ہوتا ہے نہ دشمن بس اپنا حساب برابر کرتا ہے۔

آج منظر کچھ بدلا بدلا سا ہے اتحادی بلانے والے آوازیں دے رہے ہیں مگر جواب میں خاموشی ہے۔ عالمی سیاست کی بساط پر مہرے اپنی مرضی سے چلنے لگے ہیں ہر ملک اب یہ سوچ رہا ہے کہ آگ سے کتنا فاصلہ رکھنا ہے اور کس حد تک ہاتھ گرم کرنے ہیں۔

ادھر Iran اپنی مزاحمت کی کہانی کو تاریخ کا عنوان بنا کر پیش کر رہا ہے ایک بیانیہ ہے جو کہتا ہے کہ یہ صرف جنگ نہیں طاقت کے غرور کے خلاف ایک علامتی مقابلہ ہے۔ دوسری طرف Israel اور اس کے حمایتی ایک پیچیدہ صورتحال میں الجھے ہوئے ہیں جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھنا پڑ رہا ہے کیونکہ دنیا اب صرف دیکھ نہیں رہی رائے بھی قائم کر رہی ہے، مگر اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے وہ کہانی جو ہم سننا نہیں چاہتے مسلم دنیا جو کبھی ایک آواز ہونے کا دعویٰ کرتی تھی آج کئی آوازوں میں بٹ کر خاموشی کا شور پیدا کر رہی ہے۔ Organisation of Islamic Cooperation کے اجلاس ہوں یا بیانات، سب کچھ ایسا لگتا ہے جیسے رسم نبھائی جا رہی ہو فرض ادا نہیں کیا جا رہا۔

اندر کی کہانی کچھ اور ہے ہر دارالحکومت میں حساب کتاب ہو رہا ہے کہ کس کے ساتھ کھڑا ہونا مہنگا پڑے گا اور کس سے دور رہنا فائدہ دے گا۔ اصولوں کی جگہ مفادات نے لے لی ہے اور ضمیر نے سفارتی زبان سیکھ لی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے سب نے اپنے اپنے دامن بچانے کی ٹھان لی ہو چاہے آگ پورے محلے کو ہی کیوں نہ جلا دے۔

ایسے میں کسی شاعر کی آواز کہیں دور سے سنائی دیتی ہے۔۔

مکان سب کے جلیں گے ہوا کسی کی نہیں

یہ شعر اب محض ادب نہیں رہا ایک سیاسی سچائی بنتا جا رہا ہے کیونکہ جنگیں کبھی تنہا نہیں رہتیں وہ پھیلتی ہیں، سرحدوں کو عبور کرتی ہیں اور آخرکار سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں قصہ مختصر یہ ہے کہ ہم سب ایک ایسے کمرے میں بیٹھے ہیں جس میں آگ لگ چکی ہے اور ہر شخص یہ سمجھ رہا ہے کہ شعلے اس تک نہیں پہنچیں گے کوئی کھڑکی بند کر رہا ہے کوئی پردہ گرا رہا ہے اور کوئی آنکھیں بند کرکے خود کو محفوظ تصور کر رہا ہے۔ مغرور ترمپ کی اب یہ حالت ہے جنگ رخوانے کے لئے منتیں کر رہا ہے مگر کوئی بھی اسکی بات سننے کےلئے تیار نہیں کیونکہ یہ ناقابل اعتبار رہا ہے ایران اسرائیل کی پہلی جنگ میں جنگ بندی کے معاہدے کو توڑ کر اس شیطان واضع کیا ہے کہ میں ناقابل اعتبار ہوں اب بھلا کون ثالثی کا کردار نبھائے گا دھوکہ دینا پیٹ پر چھڑا گھومنا یہودیوں کی پرانی روایت ہے۔ ایران بیشک ایک چھوٹا سا کمزور ملک ہے مگر اللہ انکے ساتھ ہے اس جنگ میں ایران سرخرو ہو کر رہے گا انشاءاللہ۔ اسلامی ممالک کی خاموشی انکی بے حسی اور ایمان کی کمزوری کو ثابت کرتی ہے اللہ نے اپنے کلام میں واضع بطور پر کہا ہے یہود و نصای تمہارے کبھی بھی دوست نہیں بن سکتے تو آج کے عرب کے یہ عیاش بادشاہ کیونکر ان پر اعتبار کرکے اللہ کے حکم کی نافرمانی کر رہے ہیں یہ یہودیوں کی دوستی بہت جلد انہیں مہنگی پڑے گی۔

تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ وہ کسی کی خوش فہمی کا لحاظ نہیں کرتی جب آگ پھیلتی ہے تو پھر یہ نہیں دیکھتی کہ کون تماشائی تھا اور کون کردار تب صرف راکھ بچتی ہے اور ایک سوال کیا واقعی ہم نے وقت کو پہچانا تھا یا مفاد پرستی کے چکر میں خود کو دھوکہ دیتے رہے؟

Check Also

Clinical Depression

By Mehran Khan