Ghulam Mulkon Ka Ittehad Kese Mumkin Ho?
غلام ملکوں کا اتحاد کیسے ممکن ہو؟

مسلم دنیا میں اتحاد کی بات کچھ اس طرح کی جاتی ہے جیسے کسی گہرے زخم پر خوشبو لگا دی جائے مہک تو آ جاتی ہے، مگر زخم وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ ہر سربراہی اجلاس میں امتِ مسلمہ کی وحدت پر لمبی تقریریں ہوتی ہیں، ہر کیمرہ اینگل پر درد ٹپکتا ہے، مگر جیسے ہی اجلاس ختم ہوتا ہے اتحاد بھی فائلوں میں بند ہو جاتا ہے۔ اصل مسئلہ شاید اتحاد کی خواہش کا نہیں آزادی کی سکت کا ہے جس ملک کا فوجی سربراہ کی نشاندہی واشنگٹن سے آتی ہو جس کی معیشت کا آکسیجن ماسک آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہو جس کے بجٹ کی زبان ڈالر بولتی ہو وہ ملک قوم کو چاہے جتنی جھوٹی تسلیاں دے لے عملی طور پر وہ غلامی کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔
ایسے ممالک کے سربراہ قوم کو یہ تو یقین دلا سکتے ہیں کہ ہم باوقار ہیں ہم خودمختار ہیں، ہم فیصلہ کر رہے ہیں مگر اصل فیصلے کہیں اور لکھے جا رہے ہوتے ہیں یہ وہی جھوٹی تسلیاں ہیں جن سے قوم وقتی طور پر بہل جاتی ہے مگر تاریخ کبھی بہلتی نہیں۔
آج عالمِ اسلام پچاس سے زائد ملکوں پر مشتمل ہے مگر اجتماعی حالت یہ ہے کہ ہر ریاست اپنی بقا کے لیے کسی نہ کسی طاقت کی گود میں بیٹھی ہے کہیں تیل کے بدلے تحفظ بک رہا ہے۔ کہیں جغرافیے کے بدلے خاموشی اور کہیں نظریے کے بدلے چند ارب ڈالر۔ فلسطین جل رہا ہے، مگر مسلم دنیا بیلنسڈ اسٹیٹمنٹ کے انتظار میں ہے۔ کشمیر سسک رہا ہے مگر ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کہیں کسی سفارت خانے میں ناگواری تو نہیں ہو جائے گی۔
اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اب اتحاد کی علامت نہیں رہی بلکہ مشترکہ بے بسی کا میوزیم بن چکی ہے وہاں مذمتیں خوب صورت لفظوں میں ہوتی ہیں فیصلے ایسے کمزور ہوتے ہیں کہ ظالم بھی انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتا ہر قرارداد کے بعد سوال وہی رہتا ہے اب عملی قدم کون اٹھائے گا؟ جواب کوئی نہیں۔
پاکستان کو اگر اس تصویر میں دیکھیں تو نقشہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے ایک ایٹمی طاقت ایک پیشہ ور فوج ایک نظریاتی بنیاد اور اس کے باوجود خارجہ پالیسی مصلحتوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔ ہم امت کی بات ضرور کرتے ہیں مگر اس حد تک جہاں تک ماسٹر ناراض نہ ہو ہم خودمختاری کے دعوے بھی کرتے ہیں مگر فنانشل ایمرجنسی میں دروازہ وہی کھٹکھٹاتے ہیں جہاں سے بھیک بھی آتی ہے اور ہدایات بھی۔ یہاں سوال اتحاد کا نہیں جرأتِ انکار کا ہے کیا ہم اتنی ہمت رکھتے ہیں کہ نہیں کہہ سکیں؟ کیا ہم یہ طے کر سکتے ہیں کہ ہماری فوجی قیادت ہماری معاشی سمت اور ہمارے قومی فیصلے کسی بیرونی دارالحکومت کی خوشنودی کے تابع نہیں ہوں گے؟
معاشی اتحاد کی بات بڑی دلکش لگتی ہے مگر غلام معیشتیں اتحاد نہیں کرتیں وہ صرف قطار میں کھڑی ہوتی ہیں۔ دفاعی تعاون کا خواب بھی تبھی حقیقت بنتا ہے جب فیصلے اپنے ہوں ورنہ مشترکہ مشقیں تو ہو سکتی ہیں۔ مشترکہ ارادہ نہیں سچ تو یہ ہے کہ مسلم دنیا کو بیرونی طاقتوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا اندرونی چمچہ گیری نے۔ ہم نے اصولوں کو نعروں میں بدل دیا غیرت کو سفارتی زبان میں اور اتحاد کو ایک ایسی تقریر بنا دیا جو ہر سال نئے لفظوں کے ساتھ دہرائی جاتی ہے۔ آخر میں سوال یہ نہیں کہ مسلم ممالک متحد کیوں نہیں ہوتے اصل سوال یہ ہے کہ کیا غلام اتحاد کر سکتے ہیں؟
جب تک نشاندہیاں باہر سے آتی رہیں گی جب تک معیشتیں بھیک پر چلتی رہیں گی اور جب تک حکمران قوم کو سچ کے بجائے تسلیاں دیتے رہیں گے تب تک اتحاد ایک خوبصورت فقرہ رہے گا حقیقت نہیں اور تاریخ وہ ہمیشہ سچ لکھتی ہے بغیر کسی قرارداد کے غلاموں کی کہیں بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
سچ یہ ہے کہ مسلم دنیا کو دشمنوں نے کم ہماری باہمی منافقت نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ہم نے اتحاد کو نعرہ بنا دیا اور مفاد کو مذہب۔ ہم نے اصولوں کو تقریروں میں قید کر دیا اور معاہدوں کو پردے کے پیچھے۔
سوال اب بھی باقی ہے: کیا مسلم اتحاد واقعی کوئی خواب ہے؟
نہیں خواب نہیں یہ ایک خوف ہے حکمرانوں کا خوف اقتدار کے حصار میں قید اُن لوگوں کا خوف جن کے لیے امت جھوٹے لفظوں مخں لپٹی یک تقریر کا موضوع ہے ذمہ داری نہیں۔
فیصلہ اگر آج بھی نہ ہوا تو تاریخ ہمارا تعارف کچھ یوں کرائے گی:
ایک بڑی امت بڑے وسائل اور چھوٹے حوصلے اور شاید یہی ہمارے انجام کا سب سے بڑا نوحہ ہو تو کہنے کا یہ مطلب ہے غلام ملک کبھی بھی اتحاد کی جرات نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان مین دم ہے۔

