Ghareebon Ka Tail Na Nikalein
غریبوں کا تیل نہ نکالیں

آپ کی خارجہ پالیسی کی کامیابیوں پر بلاشبہ داد دی جا سکتی ہے اگر واقعی آبنائے ہرمز پاکستان کے بحری جہازوں کے لیے کھلی رکھنے میں آپ کی سفارت کاری کا کردار ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر عالمی رہنما حتیٰ کہ Donald Trump جیسے افراد بھی آپ کے بیانیے کو سراہ رہے ہی تو اس کا مطلب ہے کہ عالمی اسٹیج پر آپ کی آواز سنی جا رہی ہے مگر سوال وہی پرانا وہی تلخ اور وہی عوامی ہے کیا یہ کامیابیاں صرف تقریروں اور ٹویٹس تک محدود ہیں یا ان کا کوئی عکس عوام کی زندگیوں میں بھی نظر آنا چاہیے؟
یہاں اس ملک میں وہی پچیس کروڑ عوام جنہیں اکثر پالیسی ساز محض اعداد و شمار سمجھتے ہیں مہنگائی کے ایسے عذاب سے گزر رہے ہیں جس کی کوئی نظیر نہیں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اب محض معاشی فیصلہ نہیں رہا بلکہ ایک سماجی سانحہ بن چکا ہے۔ یہ اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں پر نہیں بلکہ رکشہ ڈرائیور، مزدور، کسان اور دیہاڑی دار طبقے کے سانسوں پر بوجھ بن چکا ہے۔
آپ کہتے ہیں عالمی حالات خراب ہیں جنگیں ہو رہی ہیں منڈی غیر مستحکم ہے لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ جن ممالک میں واقعی جنگ جاری ہے وہاں عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے مثال کے طور پر Iran جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس نے اپنے عوام کے لیے تیل، پانی بھی نہیں ہے گیس اور بجلی میں غیر معمولی سہولتیں فراہم کی ہیں سوال یہ نہیں کہ ایران بہتر ہے یا پاکستان سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کا کام اپنے عوام کو ریلیف دینا نہیں؟ یا صرف باتیں کرنا ہے۔
اگر United States نے ایران کو محدود مدت کے لیے تیل بیچنے کی اجازت دی ہے تو کیا یہ موقع نہیں کہ پاکستان اپنی عوام کے لیے سستا تیل حاصل کرے؟ یا پھر ہماری خارجہ پالیسی صرف طاقتوروں کی خوشنودی تک محدود ہے؟ انکی خوشامدی کےلئے ہے۔
اور پھر ایک اور المیہ تعلیمی اداروں کی بندش جنگ زدہ علاقوں میں بھی اسکول کھلے رہتے ہیں کیونکہ قومیں جانتی ہیں کہ تعلیم بند ہو جائے تو مستقبل تاریک ہو جاتا ہے مگر یہاں ایک ایسا ملک جو جنگ کا فریق بھی نہیں وہاں اسکول بند کیے جا رہے ہیں کیا یہ فیصلہ سکیورٹی کا ہے یا نااہلی کا؟ کیا یہ احتیاط ہے یا اعترافِ شکست؟
ریاست جب اپنے عوام سے قربانیاں مانگتی ہے تو اس کے بدلے میں سہولت۔ تحفظ اور انصاف دینا بھی اس کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے، عوام قربانیاں دے رہے ہیں اور بدلے میں مہنگائی بے یقینی اور محرومی حاصل کر رہے ہیں یہ کیسی پالیسی ہے جس میں عالمی سطح پر تالیاں تو بجتی ہیں مگر گھروں کے چولہے بجھ جاتے ہیں؟ یہ کیسی حکمت عملی ہے جس میں ٹویٹس تو وائرل ہوتے ہیں مگر عوام کی آہیں دب جاتی ہیں؟
ریاستیں صرف سفارتی کامیابیوں سے نہیں بلکہ اپنے شہریوں کی خوشحالی سے مضبوط ہوتی ہیں اگر آپ واقعی کامیاب ہیں تو اس کامیابی کا پہلا حق اسلام آباد کے ایوانوں پر نہیں بلکہ اس غریب کے چولہے پر ہونا چاہیے جو آج بھی خالی برتن لیے بیٹھا ہے وقت آ گیا ہے کہ پالیسیوں کا رخ ٹویٹر سے ہٹ کر گلیوں بازاروں اور گھروں کی طرف موڑا جائے ورنہ تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ حکمرانوں نے دنیا جیتنے کی کوشش کی مگر اپنی عوام پیٹرول کے بم سے زخمی ہوئی۔
دعوے نہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہے قوم کا مہنگائی جیسی لعنت سے دم گھٹنے چکا ہے جبکہ سی ایم پنجاب جو خود کو ماں کہتی ہے مہنگے جہازوں کے جھولے لے رہی ہے اور اس ماں کے بچوں کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے یہ منافقانہ رویہ اور پالیسیوں کو چھوڑیں ان غریبوں پر رحم کریں ورنہ آنے والے لمحے تم پر رحم نہیں کریں گے یہ وقت کسی کا نہیں۔

