Gaun Se Shehr Tak Ikhlaq Ya Zawal Ka Safar?
گاؤں سے شہر تک اخلاق یا یا زوال کا سفر؟

یہ بات اب محض ایک جملہ نہیں رہی بلکہ ایک مکمل المیہ بن چکی ہے کہ نوجوانوں میں اخلاقیات گاؤں کی آبادی کی طرح کم اور بداخلاقی شہر کی آبادی کی طرح بڑھتی جا رہی ہے کبھی گاؤں کی پگڈنڈیوں پر چلنے والا نوجوان اپنے بڑوں کی نظر جھکنے سے پہلے اپنی نگاہ جھکا لیتا تھا اور آج شہر کی سڑکوں پر دوڑتا نوجوان اپنی آواز بلند کرنے کو ہی خود اعتمادی سمجھ بیٹھا ہے۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی اس کے پیچھے ایک مکمل کہانی ہے ہم نے ترقی کے نام پر اپنی جڑوں کو کاٹ دیا۔ ہم نے تہذیب کو پرانا خیال اور بدتمیزی کو بولڈنس کا نام دے دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جو چیز کبھی شرم سمجھی جاتی تھی آج وہی فیشن بن چکی ہے گاؤں میں اگر کوئی بزرگ آتا تھا تو نوجوان کھڑے ہو جاتے تھے شہر میں اگر کوئی بزرگ بات کرے تو نوجوان موبائل سے نظریں اٹھانے کو بھی تیار نہیں یوں لگتا ہے جیسے ہم نے اپنے اندر کے گاؤں کو قتل کر دیا ہے اور شہر کو صرف اینٹوں اور سیمنٹ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے رویوں میں بھی بسا لیا ہے یہ شہر اب صرف جگہ نہیں ایک ذہنیت بن چکا ہے جہاں جلدی ہے خودی ہے اور دوسروں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔
تعلیم بڑھ رہی ہے مگر تربیت کم ہو رہی ہے۔ ڈگریاں دیواروں پر سج رہی ہیں مگر کردار زمین پر بکھر رہا ہے۔ والدین مصروف ہیں اساتذہ مجبور ہیں اور سوشل میڈیا استاد بن بیٹھا ہے وہاں سے جو سبق ملتا ہے وہ اخلاقیات نہیں بلکہ دکھاوے، مقابلے اور انا کا سبق ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واپسی ممکن ہے؟
جواب آسان بھی ہے اور مشکل بھی اگر ہم نے اپنے گھروں میں دوبارہ ادب احترام اور سچائی کی بنیاد رکھ دی اگر ہم نے اپنے بچوں کو صرف کامیاب نہیں بلکہ اچھا انسان بنانے کی فکر کی، تو شاید یہ گرتی ہوئی دیوار سنبھل جائے ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہم بڑے بڑے شہروں میں رہتے ہوئے بھی اخلاق کے لحاظ سے ایک ویران گاؤں بن چکے ہوں گے جہاں نہ کوئی سلام کرے گا نہ کوئی لحاظ رکھے گا اور نہ ہی انسان، انسان کو پہچانے گا۔
نوجوانوں میں اخلاقیات کا زوال آج کے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ بنتا جا رہا ہے کبھی دیہات کی سادہ فضا میں پلنے والی وہ قدریں جن میں احترام حیا اور برداشت شامل تھے آج سکڑ کر گاؤں کی گھٹتی آبادی کی مانند محدود ہوتی جا رہی ہیں جبکہ بدتمیزی خودغرضی اور بےحسی شہر کی پھیلتی ہوئی آبادی کی طرح ہر طرف اپنے پنجے گاڑ رہی ہے جدیدیت کے نام پر آزادی کی ایسی تعبیر پیش کی جا رہی ہے جس میں حدود و قیود کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔ سوشل میڈیا کی چمک دمک نے کردار کی روشنی کو ماند کر دیا ہے اور وقتی شہرت کی دوڑ میں نوجوان اپنی اصل پہچان اور اخلاقی بنیادوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب ہم ترقی کے بلند دعووں کے باوجود ایک اخلاقی کھنڈر میں کھڑے ہوں گے جہاں عمارتیں تو بلند ہوں گی مگر انسان چھوٹا ہو چکا ہوگا۔

