Etedal Ki Talash Mein Be Chain Muashra
اعتدال کی تلاش میں بے چین معاشرہ

معاشرہ کبھی یکایک نہیں بگڑتا، وہ آہستہ آہستہ اپنی سمت کھوتا ہے آج ہم اسی کھوئی ہوئی سمت کے مسافر ہیں ہم خود کو جدید کہتے ہیں باشعور کہتے ہیں سوشل میڈیا کے دور کا شہری کہتے ہیں۔ مگر ذرا سا اختلاف سامنے آئے تو ہمارے اندر بیٹھا قدیم انسان جاگ اٹھتا ہے وہ انسان جو دلیل سے زیادہ دنگل پر یقین رکھتا ہے جو بات سے پہلے برچھی تیز کرتا ہے اور جو رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے کچل دینے کو ایمان کی غیرت سمجھتا ہے۔
ایک طرف ہمارے ہاں ایک ایسا لبرل بیانیہ پروان چڑھا ہے جو مذہب کو سماجی پسماندگی کی جڑ قرار دے کر خود کو ترقی کا واحد ترجمان سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک داڑھی، حجاب، یا مذہبی حوالہ گویا تاریکی کی علامت ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ شناخت کی ہر مذہبی پرت کو اتار پھینکنے سے معاشرہ خودبخود روشن ہو جائے گا مگر تاریخ اتنی سادہ نہیں۔ قومیں اپنی تہذیبی بنیادوں کو مٹا کر ترقی نہیں کرتیں انہیں نئے معانی دے کر آگے بڑھتی ہیں۔
مسئلہ مذہب نہیں مسئلہ مذہب کی تعبیر ہے اور بعض اوقات اس کا سیاسی استعمال دوسری طرف مذہب کا علم اٹھائے ایک ایسا طبقہ ہے جو مسلک کو دین اور اختلاف کو گمراہی سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک دنیا دو حصوں میں منقسم ہے۔ ہم اور وہ یہاں دلیل کی گنجائش کم اور فتویٰ زیادہ ہے۔ یہ ذہنیت اختلاف کو علمی روایت کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ اسے دشمنی کا استعارہ بنا دیتی ہے حالانکہ ہماری فکری تاریخ اختلافات سے بھری ہوئی ہے مگر وہ اختلاف دلوں میں دراڑ نہیں ڈالتا تھا۔ آج فرق صرف یہ ہے کہ اختلاف کتابوں سے نکل کر اسکرینوں پر آ گیا ہے اور اسکرین پر لکھی ہوئی بات دل پر زیادہ ضرب لگاتی ہے۔
گلگت بلتستان کے حالیہ واقعات ہمیں یہ سبق دے گئے کہ ایک معمولی سوشل میڈیا پوسٹ بھی کس طرح پورے خطے کا درجہ حرارت بڑھا سکتی ہے کسی دور افتادہ گاؤں میں بیٹھا ایک جذباتی نوجوان شاید چند سطور لکھ کر سو جاتا ہے مگر اس کے الفاظ جاگتے رہتے ہیں۔ کوئی اسکرین شاٹ لیتا ہے کوئی اسے مسلکی رنگ دیتا ہےکوئی اپنی تحلیل کا لبادہ اوڑھ کر اسے آگے بڑھاتا ہے اور یوں چند الفاظ شعلہ بن جاتے ہیں پھر وہی منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ واٹس ایپ گروپس میں تند و تیز پیغامات، بازاروں میں چہ مگوئیاں، مساجد میں جذباتی تقاریر، سڑکوں پر احتجاج اور ایک دوسرے کے لیے ایسے الفاظ جو شاید دشمن ملک کے لیے بھی استعمال نہ کیے جائیں لفظ بارود بن جاتا ہے اور اسکرین شاٹ ماچس کی تیلی۔
اس سارے منظر میں ایک دلچسپ مگر افسوسناک پہلو بھی ہےکچھ لوگ اس نفرت کو سرمایہ بناتے ہیں۔ ان کے لیے تنازع روزگار ہے۔ اشتعال انگیزی شہرت کی ضمانت ہے اور مسلکی تقسیم فالوورز بڑھانے کی کنجی وہ جانتے ہیں کہ ٹھنڈی بات نہیں بکتی مگر گرم جملہ ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ یوں وہ آگ لگا کر خود روشنی میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اصل المیہ عوامی شعور کی ناپختگی ہے۔ ہم تحقیق کے بغیر خبر کو سچ مان لیتے ہیں سیاق و سباق کے بغیر جملے پر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ جذبات ہمیں سوچنے کی مہلت نہیں دیتے ہم شیئر کرنے سے پہلے یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا ایک کلک کسی کے لیے اذیت اور کسی علاقے کے لیے کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ وقت انتہاؤں کے بیچ کھڑے ہو کر توازن تلاش کرنے کا ہے نہ اندھی روشن خیالی مسائل کا حل ہے اور نہ اندھا تعصب معاشرے کو جڑوں سے کاٹ دینا بھی نقصان دہ ہے اور جڑوں کو زہر آلود کر دینا بھی اعتدال وہ راستہ ہے جہاں مذہب انسانیت کے ساتھ چلتا ہے جہاں اختلاف دلیل کے ساتھ جڑا رہتا ہے اور جہاں سوشل میڈیا جذبات کا بازار نہیں بلکہ مکالمے کا میدان بنتا ہے۔
قومیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی انتشار سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔ جب دلوں میں دراڑ پڑ جائے تو سرحدوں کی مضبوطی بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ہم سوشل میڈیا کے مجاہد بننا چاہتے ہیں یا معاشرتی امن کے محافظ۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم علم کو جذبات پر حکمت کو اشتعال پر اور اخوت کو تعصب پر ترجیح دیں اگر ہم نے اپنے رویوں کا محاسبہ نہ کیا تو شاید کل ایک اور اسکرین شاٹ کسی اور شہر کو بے چین کر دے۔ اعتدال کمزوروں کی پناہ نہیں، باشعوروں کی پہچان ہے اور شاید اب یہی پہچان ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے۔

