Tuesday, 03 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Dollar, Darbar Aur Dareeda Zameer

Dollar, Darbar Aur Dareeda Zameer

ڈالر، دربار اور دریدہ ضمیر

تاریخ کبھی مرتی نہیں وہ صرف لباس بدلتی ہے۔ چودہ سو برس پہلے ریت کے ایک تپتے میدان میں جو سوال اٹھا تھا وہ آج بھی ہماری سیاست ہماری ریاستوں اور ہمارے ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ اُس روز ریگزارِ کربلا میں طاقت ایک طرف تھی اور حق دوسری طرف۔ لشکر خزانے اور اقتدار ایک صف میں کھڑے تھے اور سچ چند سروں کی صورت میں تنہا مگر وقت نے ثابت کیا کہ فیصلہ نیزوں نے نہیں، نظریے نے کیا تھا۔

کربلا ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ اکثریت ہمیشہ غلط ہوتی ہے یا اقلیت ہمیشہ درست وہ یہ سکھاتی ہے کہ حق کو تعداد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بظاہر فتح کبھی کبھی باطل کے حصے میں چلی جاتی ہے مگر وہ فتح تاریخ کے کٹہرے میں شکست میں بدل جاتی ہے جو سر کٹوا دیتے ہیں وہ لازوال ہوجاتے ہیں اور جو تخت بچا لیتے ہیں وہ مثالِ عبرت بن جاتے ہیں۔ آج کا منظر بدل چکا ہے مگر کہانی نہیں بدلی ایک طرف پابندیوں اور دباؤ کا سامنا کرتا ہوا ایران ہے دوسری طرف جدید عسکری طاقت اور عالمی حمایت سے لیس اسرائیل بظاہر طاقت کا پلڑا واضح ہے مگر تاریخ کا میزان ظاہر سے نہیں باطن سے وزن لیتا ہے۔ رہبر کی شہادت اگر ایک بڑا صدمہ ہے تو وہی شہادت ایک نظریے کے تسلسل کا اعلان بھی ہے خون جب نظریہ بن جائے تو وہ ہار نہیں، حوالہ بن جاتا ہے۔

مگر اس ساری بساط میں سب سے بڑی خاموشی اُن درباروں کی ہے جہاں تیل کے کنوؤں سے دولت ابلتی ہے مگر غیرت کے کنویں خشک ہوچکے ہیں۔ عرب دنیا کی بے حسی محض سیاسی مصلحت نہیں اخلاقی بحران ہے۔ اڈے دینا معاہدے کرنا خاموش رہنا یہ سب ریاستی فیصلے ہوسکتے ہیں مگر جب ضمیر بھی سفارتی دستاویز بن جائے تو پھر زوال کی گھنٹی بج چکی ہوتی ہے۔

اور ہم؟ اسلامی دنیا کے اس ہنگامے میں پاکستان بھی کوئی الگ داستان نہیں۔ یہاں بھی اقتدار کے ایوانوں میں اصول سے زیادہ مفاد کی گونج سنائی دیتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی خوشنودی اگر قومی وقار پر حاوی ہوجائے تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ہم تاریخ کے کس موڑ پر کھڑے ہیں امن کے نام پر طاقت کی چاپلوسی مفادات کے نام پر خاموشی اور قومی غیرت کے نام پر کھوکھلے بیانات۔ یہ سب مل کر ایک ایسا منظر بناتے ہیں جس میں سب کچھ ہے۔ سوائے جرأت کے۔

یہ وہ لمحہ بھی ہے جس میں سوال صرف حقائق کا نہیں ضمیر کا ہے وہ 56 اسلامی ممالک جنہیں ہم اتحاد، امت یا مشترکہ شعور کی علامت مانتے تھے آج کہاں ہیں؟ کسی کی آواز بلند نہیں کسی کی زبان حرکت میں نہیں اور کسی کی آنکھوں میں ذرا سی اخلاقی جرات دکھائی نہیں دیتی یہ خاموشی محض عدم دلچسپی نہیں یہ ایک اجتماعی بے غیرتی ہے جہاں مفاد، ڈالر اور خوف نے امت کے فکری اور اخلاقی ستون کو کھوکھلا کر دیا ہے مظلوم کے حق میں ایک مشترکہ بیان تک جاری نہیں کیا جا رہا اور یہ خاموشی تاریخ میں ایک شرمناک باب کے طور پر رقم ہوگی۔

مسئلہ افراد کا نہیں مزاج کا ہے ہر دور میں کچھ چہرے دربار کے قریب اور کچھ سچ کے قریب ہوتے ہیں کربلا کا سوال آج بھی یہی ہے تم کس کے قریب ہو؟ طاقت کے یا اصول کے؟ وقتی فائدے کے یا دائمی وقار کے؟

قومیں ڈالر سے مضبوط نہیں ہوتیں وہ کردار سے مضبوط ہوتی ہیں دربار وقتی آسرا دے سکتا ہے مگر تاریخ کی عدالت میں وہی سرخرو ہوگا جس کا ضمیر سلامت ہو کیونکہ آخرکار میدان نہیں معیار فیصلہ کرتا ہے اور معیار ہمیشہ حق، استقامت اور حوصلہ ہوتا ہے۔

آج کے منظرنامے میں اگر نگاہ دوڑائیں تو ایک طرف ایران کھڑا ہے سیاسی تنہائی معاشی پابندیوں اور عسکری دباؤ کے باوجود اپنے بیانیے پر قائم دوسری طرف اسرائیل ہے، جدید اسلحے عالمی لابی اور پوشیدہ اتحادوں کے سہارے بظاہر طاقت کا توازن واضح دکھائی دیتا ہے مگر تاریخ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف ہتھیاروں کا وزن نہیں تولتی وہ ارادوں کی دھات بھی پرکھتی ہے۔

رہبر کی شہادت اگر اسے اسی تناظر میں دیکھا جائے ایک بڑا صدمہ ضرور ہے۔ قیادت کا خلا محض ایک منصب کا خالی ہونا نہیں وہ حوصلوں کا امتحان ہوتا ہے مگر خون جب کسی نظریے کے دفاع میں گرتا ہے تو وہ ضائع نہیں ہوتا وہ زمین میں جذب ہو کر وقت کے ساتھ درخت بنتا ہے تاریخ میں کچھ لہو ایسے بھی ہیں جو زخم نہیں پرچم بن جاتے ہیں۔

لیکن اصل سوال صرف ایران یا اسرائیل کا نہیں اصل سوال اُن عرب ریاستوں کا ہے جو دولت کے انبار پر بیٹھی ہوئی ہیں مگر جرات کے باب میں مفلس ہیں۔ فضائی اڈے کرائے پر دے دینا شاید سفارتی مصلحت ہو، مگر ضمیر بھی اگر لیز پر چلا جائے تو پھر اسے سیاست نہیں اخلاقی دیوالیہ پن کہتے ہیں۔ امت کا تصور اگر محض سربراہی کانفرنسوں تک محدود رہ جائے تو پھر وہ روح سے خالی جسم بن جاتا ہے اور اب بات گھر کے اندر کی۔

اسلامی دنیا کے اس ہنگامے میں پاکستان بھی خاموش تماشائی نہیں بلکہ بعض حوالوں سے اس خاموشی کا علمبردار دکھائی دیتا ہے۔ یہاں بھی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے بے ضمیر مفاد پرست لوگ اصول کے بجائے مفاد کی زبان سمجھتے ہیں جب ضمیر کی قیمت طے ہونے لگے اور ڈالر کی جھنکار فیصلوں کی بنیاد بن جائے تو پھر قومیں اپنے قد سے چھوٹی ہو جاتی ہیں۔ قیادت جب خارجی طاقتوں کی خوشنودی داخلی وقار پر بھاری پڑنے لگے تو سوال صرف سیاسی نہیں رہتا اخلاقی ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا خطہ جو خود دہشت گردی عدم استحکام اور بیرونی دباؤ کا شکار رہا ہو اگر وہی طاقت کے مراکز کے سامنے سرنگوں نظر آئے تو یہ محض حکمتِ عملی نہیں فکری بحران کی علامت ہے۔

تاریخ مسلمانوں کی شجاعت سے بھی بھری ہے اور غداری سے بھی مسئلہ افراد کا نہیں کردار کا ہے ہر دور میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو وقتی فائدے کے لیے بڑے اصول گروی رکھ دیتے ہیں اور کچھ وہ بھی ہوتے ہیں جو سب کچھ لٹا کر بھی سر نہیں جھکاتے۔ کربلا ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ حق ہمیشہ اکثریت کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچائی کو ہجوم کی تائید کی ضرورت نہیں ہوتی مگر شرط یہ ہے کہ ہم فیصلہ کریں کہ ہم کس صف میں کھڑے ہیں مصلحت کی یا مزاحمت کی خاموشی کی یا صداقت کی۔

تاریخ کا پہیہ چل رہا ہے نام سب کے لکھے جا رہے ہیں کل جب اگلی نسلیں ورق پلٹیں گی تو وہ یہ نہیں دیکھیں گی کہ کس کے پاس کتنے ڈالر تھے وہ یہ دیکھیں گی کہ کس کے پاس کتنا ضمیر تھا۔

Check Also

Buddu Ka Oont Aur Iran

By Saleem Zaman