Dair Ho Chuki Hogi
دیر ہوچکی ہوگی

جمہوریت کے نام پر یہ جو تماشا لگا ہے اسے اگر کوئی کھیل سمجھتا ہے تو وہ یا تو بہت معصوم ہے یا پھر بہت مفاد پرست۔ یہ کھیل نہیں ایک ایسا اسٹیج ڈرامہ ہے جس میں کردار بدلتے ہیں مکالمے وہی رہتے ہیں اور تماشائی یعنی عوام ہر بار پہلے سے زیادہ لُٹے ہوئے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ یہ نورا کشتی اب محاورہ نہیں ایک مکمل نظام بن چکی ہے ایک طرف زرداری کی سیاسی ذہانت ہے جو ہر موسم میں زندہ رہنے کا ہنر جانتی ہے تو دوسری طرف شہباز سپیڈ کی وہ رفتار ہے جو صرف بیانات میں نظر آتی ہے زبان سے ادا ہوتی ہے۔ زمینی حقیقت میں نہیں دونوں کی سیاست کا نچوڑ اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے اقتدار نہ نظریہ نہ عوام نہ اصول اور اس سارے کھیل کے اوپر ایک سایہ ہے وہ جسے حرف عام میں چوکیدار کہا جاتا ہے۔ یہ چوکیدار کبھی محافظ بنتا ہے کبھی منصف اور کبھی خود ہی کھلاڑی جمہوریت کی بساط پر اصل چالیں وہی چلتا ہے باقی مہرے صرف حرکت کرتے ہیں عوام؟
عوام ایک عجیب مخلوق ہے اس سرزمین پر یہ مہنگائی سے مرتی ہے مگر ووٹ دیتے وقت زندہ ہو جاتی ہے یہ ظلم پر روتی ہے مگر ظالم کے سامنے خاموش ہو جاتی ہے بلکہ اسکے حق میں نعرے لگاتی نظر آتی ہے۔ یہ وہی عوام ہیں جو پٹرول کی قیمت بڑھنے پر چائے کی میز پر انقلاب لاتے ہیں مگر پولنگ اسٹیشن پر جا کر خاموشی سے اسی نظام کی توثیق کر آتے ہیں بلکہ پوری طرح مدد کرتے ہیں۔ انکی یہ حرکت دیکھ کر مردے بھی قبر سے اٹھیں گے مگر یہاں مسئلہ یہ ہے کہ زندہ لوگ مردہ ہو چکے ہیں ضمیر کے اعتبار سے سوچ کے اعتبار سے اور سب سے بڑھ کر جرات کے اعتبار سے یہاں سچ بولنا جرم ہے اور جھوٹ بولنا ہنر۔
یہاں صحافت بھی دو حصوں میں بٹ چکی ہے ایک وہ جو سچ کو دفن کرتی ہے اور دوسری وہ جو اشاروں کنایوں میں سچ کو زندہ رکھنے کی ناکام کوشش کرتی ہے جیسے منیب فاروق جیسے ٹاوٹ کبھی کبھی اپنے جملوں میں چھپے کانٹوں سے نظام کو چبھونے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنی اوقات مین رہنے کا اعلان کرتے ہیں جہاں سے انہیں ڈکٹیشن ملتا ہے تو پھر اس سبق کو عوام تک پہنچانا انکی ڈیوٹی بنتی ہے۔ اسی ڈیوٹی کی انہیں پیسے ملتے ہیں بلکہ یوں کہیں انکی یہ نوکری اسی وجہ سے ہے ورنہ جنہوں نے انکار کیا آج وہ سارے دیار غیر میں بیچارے خجل و خوار ہو رہے ہیں بلکہ کچھ کو سزا کے طور پر آف ائیر کردیا گیا ہے۔ ہمارے ادارے اور حکومت ڈالر اور ریال کے درمیان جکڑے ہوئے ہیں انہیں سمجھ نہیں آتی کہ کس سمت جھکیں اور کس سمت نہ جھکیں اسلئے یہ تذبذب کا شکار ہیں ادھر تین سو ارب ریال ادھر معاشی پابندی کا خطرہ اب جائیں تو کہاں جائیں یہ۔۔
قومیں جب اپنے فیصلے خود کرنا چھوڑ دیں تو پھر ان کی کرنسی نہیں ان کی غیرت ڈی ویلیو ہوتی ہے اور پھر ہم مذہب کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ اذانیں بلند مگر کردار پست ہم یزید اور فرعون کو کوستے ہیں مگر اپنے اندر جھانکنے کی زحمت نہیں کرتے کہ کہیں ان کی جھلک ہم میں تو نہیں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ حکمران خراب ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ نظام خراب ہے نظام سے وابستہ لوگوں کی نیت خراب ہے وہ نہیں چاہتے کہ نظام ٹھیک ہو اور اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس نظام کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ ایک اجتماعی بے حسی ہے ایک ایسا سکوت جو چیخ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے تو سوال یہ نہیں کہ عوام جاگیں گے یا نہیں سوال یہ ہے کہ جب جاگیں گے تو کیا بچا ہوگا کیونکہ تاریخ کا ایک اصول ہے۔
قومیں جب دیر سے جاگتی ہیں تو ان کے پاس صرف پچھتاوا بچتا ہے اختیار نہیں اب بھی وقت ہے مگر وقت ہمیشہ نہیں رہتا دوسرے لفظوں میں جب عوام جاگ چکی ہوگی اسوقت بہت دیر ہوچکی ہوگی پھر وہی مثال اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چک گئی کھیت۔

