Astor Ki Khamosh Fizaon Ka Ba Waqar Chehra
استور کی خاموش فضاؤں کا باوقار چہرہ

ضلع استور کی سرزمین ہمیشہ سے ایسے باوقار انسانوں کی جنم بھومی رہی ہے جن کے چہروں پر سادگی لہجوں میں شائستگی اور کردار میں پہاڑوں جیسی استقامت بسی ہوتی ہے۔ یہاں کے لوگ شہرت کے شور سے نہیں بلکہ اپنے ظرف اپنی وضع داری اور اپنے اخلاق سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہی برف پوش چوٹیوں انہی خاموش وادیوں اور انہی غیرت مند فضاؤں نے ایک ایسی شخصیت کو بھی جنم دیا جسے لوگ ڈاکٹر عارف صاحب کے نام سے جانتے ہیں۔ ایک ایسا انسان جس کی پہچان کسی عہدے تختی یا تعارف کی محتاج نہیں بلکہ اس کے رویّے، کردار اور محبت بھرے انداز سے خود بخود قائم ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر عارف صاحب ان لوگوں میں سے نہیں جو گفتگو میں فلسفے جھاڑ کر خود کو بڑا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ لفظوں کی نمائش نہیں کرتے بلکہ خاموشی میں وقار اور سادگی میں دانش رکھتے ہیں۔ ان کے لہجے میں وہ ٹھہراؤ ہے جو آج کے شور زدہ معاشرے میں کم یاب ہوتا جا رہا ہے۔ بعض لوگ علم حاصل کرکے غرور کا شکار ہو جاتے ہیں کچھ لوگ منصب پا کر انسانیت بھول جاتے ہیں اور کچھ لوگ سیاست میں آکر اخلاق کو دفن کر دیتے ہیں مگر ڈاکٹر عارف صاحب ان نایاب انسانوں میں سے ہیں جن کے اندر علم بھی ہے شعور بھی، بصیرت بھی اور عاجزی بھی۔ کچھ لوگ شور سے نہیں اپنے سکوت سے پہچانے جاتے ہیں ڈاکٹر عارف صاحب بھی انہی شخصیات میں سے ہیں جن کی محفل میں بیٹھ کر انسان محسوس کرتا ہے کہ تہذیب ابھی زندہ ہے شرافت ابھی باقی ہے اور خلوص ابھی مرا نہیں ان کی گفتگو میں مصنوعی پن نہیں بلکہ ایک دیہی سادگی کی خوشبو ہے وہ خوشبو جو پہاڑوں سے اترتی ٹھنڈی ہوا کی طرح انسان کے دل کو چھو جاتی ہے۔
سیاست کے میدان میں آج کل کردار کم اور نعروں کی منڈی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ لوگ نظریات سے زیادہ مفادات کے اسیر ہو چکے ہیں ہر طرف چہروں کا ہجوم ہے مگر شخصیتیں ناپید ہوتی جا رہی ہیں ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص نرم لہجے کشادہ ظرفی اور تدبر کے ساتھ لوگوں کے درمیان آئے تو لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عارف صاحب کی استور آمد کے بعد سیاسی منظرنامے میں ایک عجیب سی ہلچل دکھائی دے رہی ہے مخالفین کی بے چینی بھی دیدنی ہے اور عوام کی محبت بھی قابلِ غور۔ وہ لوگ جو برسوں سے سیاست کو صرف اقتدار کی سیڑھی سمجھتے رہے شاید اب پہلی بار کسی ایسے شخص سے واسطہ پڑا ہے جو سیاست کو خدمت محبت اور وقار کے دائرے میں دیکھتا ہے۔ ڈاکٹر عارف صاحب کی کمپین میں شور کم اور نظم زیادہ دکھائی دیتا ہے ان کے قافلے میں شامل ہونے والے لوگ وقتی مفاد کے اسیر نہیں بلکہ ان کے اخلاق خلوص اور انسان دوستی سے متاثر نظر آتے ہیں یہ وہ سرمایہ ہوتا ہے جو کسی خزانے سے نہیں خریدا جا سکتا۔
استور کی سیاست میں پہلی بار شاید لوگ کسی ایسے انسان کو دیکھ رہے ہیں جو تقریروں سے زیادہ تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔ وہ دل جیتنے کا ہنر جانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جوق در جوق لوگ ان کے قریب آتے جا رہے ہیں ایک خاموش اعتماد ان کے چہرے پر دکھائی دیتا ہے اور یہی اعتماد ان کے چاہنے والوں کے اندر بھی منتقل ہو رہا ہے انتخابات ابھی ہونے باقی ہیں مگر فضا میں ایک عجیب سا احساس گردش کر رہا ہے کہ شاید استور کی سیاست ایک نئے موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ڈاکٹر عارف صاحب کی سب سے بڑی خوبی شاید یہ ہے کہ وہ مشکل کو الجھاتے نہیں بلکہ سلجھاتے ہیں ان کے اندر ایک فطری بصیرت موجود ہے وہ معاملات کو جذبات کے شور میں نہیں بلکہ حکمت کے دائرے میں دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کی بات کو اہمیت دیتے ہیں آج کے دور میں نرم لہجہ کمزوری سمجھا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اصل طاقت وہی ہوتی ہے جو انسان کو تحمل برداشت اور شائستگی عطا کرے۔ ڈاکٹر صاحب کے اندر یہ تمام اوصاف موجود ہیں یہ دنیا عہدوں والوں سے بھری پڑی ہے مگر کردار والے لوگ ہمیشہ کم رہے ہیں کچھ لوگ دولت جمع کرتے ہیں کچھ شہرت اور کچھ لوگ انسان جمع کرتے ہیں ڈاکٹر عارف صاحب شاید انہی لوگوں میں شامل ہیں جو دلوں میں جگہ بناتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالف بھی ان کے اخلاق کے معترف دکھائی دیتے ہیں یہ مقام تقریروں سے نہیں بلکہ کردار کی مسلسل ریاضت سے حاصل ہوتا ہے۔
استور کی فضائیں شاید ایک نئے موسم کی آہٹ سن رہی ہیں برفانی ہواؤں میں شاید امید کی کوئی کرن شامل ہو چکی ہے لوگ اب صرف وعدوں سے نہیں بلکہ رویّوں سے متاثر ہوتے ہیں اور ڈاکٹر عارف صاحب کے اندر وہ تمام اوصاف موجود ہیں جو کسی بھی بڑے عوامی رہنما کو معتبر بناتے ہیں۔ ان کی سیاست اگر اسی خلوص اسی حکمت اور اسی محبت کے ساتھ آگے بڑھتی رہی تو بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں استور کی سیاسی تاریخ ایک نئے باب کے ساتھ لکھی جائے۔ خدا ایسے نفیس اوصاف ہر کسی کو عطا نہیں کرتا یہ صرف انہی خوش نصیب انسانوں کے حصے میں آتے ہیں جنہیں قدرت عاجزی دانائی، محبت اور انسان دوستی کا حسین امتزاج بنا کر دنیا میں بھیجتی ہے اور ڈاکٹر عارف صاحب بلا شبہ انہی لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کو یقین آتا ہے کہ کردار ابھی مرا نہیں شرافت ابھی زندہ ہے اور استور کی مٹی آج بھی بڑے انسان پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے استور کی فضاؤں کا یہ باوقار چہرہ انشاءاللہ اپنے مشن میں سرخرو ہوکر استور کی عوام کے لیے امید، ترقی، شعور اور حقیقی خدمت کی نئی داستان رقم کرے گا۔

