Monday, 23 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Asal Khatra Kahan Se Hai?

Asal Khatra Kahan Se Hai?

اصل خطرہ کہاں سے ہے؟

یہ بات اب کسی دلیل کی محتاج نہیں رہی کہ گلگت بلتستان اور چترال عالمی طاقتوں کی نظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سب سے بڑا خطرہ باہر سے ہے؟ یا وہ خاموش دراڑیں اندر سے ہمیں کھوکھلا کر رہی ہیں ہم برسوں سے مغرب عالمی قوتوں اور جغرافیائی سازشوں کا ذکر کرتے آئے ہیں کبھی چین و امریکہ کی کشمکش کبھی روس کی گرم پانیوں تک رسائی اور کبھی سی پیک جیسے منصوبوں کو بنیاد بنا کر ایک بڑا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے مگر اس ساری بحث میں ایک بنیادی سوال دب جاتا ہے، کیا ہم خود اس خطے کے ساتھ مخلص ہیں؟

گلگت بلتستان صرف پہاڑوں، گلیشیئرز اور دریاؤں کا نام نہیں یہ ایک احساس ہے ایک شناخت ہے ایک قربانی کی داستان ہے مگر بدقسمتی سے اس داستان کے کرداروں کو ہمیشہ حاشیے پر رکھا گیا یہاں کے لوگوں کو آئینی شناخت نہ دینا وسائل پر مکمل اختیار نہ دینا اور ترقی کے نام پر محض وعدوں کا بوجھ ڈال دینا یہ سب وہ زخم ہیں جو کسی بیرونی دشمن نے نہیں بلکہ اپنے ہی نظام نے دیے۔ آج جب ہم کہتے ہیں کہ عالمی طاقتیں یہاں عقاب کی مانند نظریں جمائے بیٹھی ہیں تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم نے خود اپنی زمین کو کس حد تک غیرمحفوظ بنایا کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ باہر کا عقاب ہمیشہ وہاں اترتا ہے جہاں اندر سے کمزوری ہو۔

یہ خطہ جغرافیائی طور پر جتنا اہم ہے اتنا ہی سیاسی طور پر نظرانداز کیا گیا چترال اور گلگت بلتستان کو محض سرحدی پٹی سمجھ کر ان کے عوام کو فیصلہ سازی سے دور رکھا گیا وسائل نکالے گئے مسائل پیدا کئے گئے مگر مقامی لوگوں کو اس کا حقیقی فائدہ نہ ملا شناخت دی گئی مگر ادھوری حقوق جو ملے وہ بھی ادھورے یہی وہ خلا ہے جہاں سے اصل خطرہ جنم لیتا ہے۔

آج اگر کوئی بیرونی قوت یہاں اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہے تو وہ براہِ راست حملہ نہیں کرتی بلکہ اسی اندرونی کمزوری محرومی اور احساسِ بیگانگی کو استعمال کرتی ہے۔ جنگیں اب بندوق سے کم اور احساسات سے زیادہ لڑی جاتی ہیں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کو مغرب سے کم اور اپنے اندر کے رویوں سے زیادہ خطرہ ہے۔

وہ رویے جو اس خطے کو صرف ایک اسٹریٹجک کارڈ سمجھتے ہیں نہ کہ ایک زندہ سانس لیتا ہوا معاشرہ۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بیانیہ بدلیں سوال یہ نہیں کہ دنیا ہمیں کیوں دیکھ رہی ہے سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود اپنے لوگوں کو دیکھ رہے ہیں؟ کیا ہم نے ان کے زخم سنے؟ کیا ہم نے انہیں اپنا سمجھا؟ یا ہم نے بھی انہیں نقشے پر ایک خاموش جگہ سمجھ کر چھوڑ دیا؟

اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے، تو یاد رکھیں عقاب باہر سے نہیں آئیں گے بلکہ ہمارے اپنے فیصلے ہمیں کمزور کر دیں گے ہمارے اپنے گدھ اس خطے کےلئے خطرہ ہیں گلگت بلتستان اور چترال طاقت کی کنجی ضرور ہیں مگر کنجی اس کے ہاتھ میں آتی ہے جو دروازے کی حفاظت بھی کرے اور اندر والوں کا اعتماد بھی جیتےاب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم محافظ بنیں گے یا تاریخ کے ایک اور خاموش تماشائی لہذا ضروری ہے باہر کے عقاب سے زیادہ اندر کے گدھوں پر نظر رکھی جائے۔

Check Also

Jab Pakistan Ki Taraqi Ka Khwab Chakna Choor Hua

By Muhammad Aamir Hussaini