Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Aqal Ki Mojoodgi Tehqeeq Ki Mehroomi

Aqal Ki Mojoodgi Tehqeeq Ki Mehroomi

عقل کی موجودگی تحقیق کی محرومی

انسان کو جب تخلیق کیا گیا تو اسے محض گوشت پوست کا پیکر بنا کر نہیں چھوڑا گیا۔ بلکہ اس کے اندر ایک ایسی روشنی رکھی گئی جسے عقل کہتے ہیں۔ یہی عقل اس کی پہچان بنی، یہی اس کی برتری کا سبب ٹھہری اسی عقل کے سہارے اس نے زمین کے سینے کو چاک کیا، سمندروں کی تہہ تک جا پہنچا اور آسمان کی وسعتوں میں اپنی پرواز ثبت کر دی مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی انسان نے اپنی عقل کا وہ حق ادا کیا جس کے لیے اسے یہ نعمت عطا کی گئی تھی۔ حقیقت کچھ اور کہتی ہے آج کا انسان عقل رکھتا ضرور ہے مگر اس کا استعمال کم ہی کرتا ہے وہ سوچ سکتا ہے مگر سوچنے سے کتراتا ہے تحقیق اس کے لیے ایک بوجھ بن چکی ہے غور و فکر ایک غیر ضروری مشقت اس کی ساری جدوجہد اب صرف ایک دائرے میں قید ہو کر رہ گئی ہے روٹی، روزگار اور بقا کی دوڑ۔

یہ دوڑ بظاہر ضروری سہی مگر جب یہی زندگی کا کل مقصد بن جائے تو انسان اپنی اصل حیثیت کھو دیتا ہے۔ وہ اس عظیم کائنات کے رازوں کو سمجھنے کے بجائے اپنے ہی بنائے ہوئے معمولات کا قیدی بن جاتا ہے۔ آسمان پر بکھرے ستارے اسے نہیں بلاتے سمندر کی گہرائیاں اسے نہیں کھینچتیں اور قدرت کے عجائبات اس کے لیے محض دیکھنے کی چیز رہ جاتے ہیں، سمجھنے کی نہیں عقل کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ انسان اپنے لیے آسانیاں پیدا کرے بلکہ یہ بھی تھا کہ وہ اس کائنات کے پیچھے کارفرما حکمت کو جانے سوال اٹھائے، تلاش کرے اور اپنی سوچ کو وسعت دے۔ مگر آج کا انسان اس جستجو سے دور ہوتا جا رہا ہے اس کے اندر تحقیق کا شوق مدھم پڑ چکا ہے اور حیرت کا جذبہ کہیں کھو گیا ہے۔ اصل المیہ یہی ہے کہ انسان نے اپنی عقل کو محدود کر لیا ہے وہ اس نعمت کو صرف دنیاوی مسائل کے حل تک لے آیا ہے جبکہ یہ اسے حقیقت کی گہرائیوں تک لے جانے کے لیے دی گئی تھی جب عقل صرف ضرورت کی غلام بن جائے تو وہ اپنی اصل شان کھو دیتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان ایک بار پھر اپنے اندر جھانکے اپنے شعور کو جگائے اور اس نعمت کا حق ادا کرے وہ صرف جینے کے لیے نہ جیے بلکہ سمجھنے کے لیے جیے وہ صرف حاصل کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ جاننے کی جستجو بھی پیدا کرے کیونکہ جو انسان اپنی عقل کو پہچان لیتا ہے وہی دراصل اس کائنات کے حسن کو سمجھ پاتا ہے اور جو اس نعمت سے غافل ہو جائے وہ جیتے جی بھی ایک محدود دائرے کا اسیر بن کر رہ جاتا ہے۔

انسان عقل و شعور رکھنے کے باوجود تحقیق سے اس لیے محروم ہوتا جا رہا ہے کہ اس کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ وہ بقا کی دوڑ معاشی دباؤ اور وقتی آسائشوں کے حصول میں اس قدر الجھ گیا ہے کہ غور و فکر اس کے لیے غیر ضروری عمل بن گیا ہے سہل پسندی نے اس کی جستجو کو کمزور کر دیا ہے اور تیار شدہ معلومات نے اس کے اندر سوال اٹھانے کی صلاحیت کو ماند کر دیا ہے مزید یہ کہ ناکامی کا خوف اور معاشرتی دباؤ بھی اسے نئی راہوں پر چلنے سے روکتے ہیں یوں انسان اپنی عقل کو صرف روزمرہ ضروریات تک محدود کر دیتا ہے اور تحقیق جیسی بلند فکری کاوش اس کی زندگی سے بتدریج غائب ہوتی جاتی ہے۔

Check Also

Zara Nam Ho To

By Dr. Ijaz Ahmad