Aqal Ke Andhon Ko Kon Samjhaye
عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے

شہر میں ایک عجیب شور برپا ہےکوئی واقعہ نہیں ہوا کوئی انقلاب نہیں آیا بس ایک بیٹے نے اپنے باپ کے لیے چند جملے بول دیے ہیں اور پورا بازار جاگ اٹھا ہے۔ کہتے ہیں وہ لڑکا دور کسی ہال میں کھڑا تھا صاف لفظوں میں بات کر رہا تھا نہ اس کے ہاتھ میں لاٹھی تھی نہ زبان میں بارود وہ صرف کہہ رہا تھا میرے باپ کو انصاف دو۔
اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لوگ اس جملے کو سنتے تھوڑا رکتے سوچتے مگر ہمارے ہاں سوچنا ایک متروک فن ہے جیسے کسی پرانے شہر کی ویران حویلی۔ یہاں کیا ہوا؟
یہاں چند مخصوص نسل کے عقل سے پیدل جاہل لوگ فوراً حرکت میں آ گئے انہیں نہ جملہ سمجھ آیا نہ درد مگر بھونکنا شروع کر دیاجی ہاں، بھونکنا اب مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کیوں بھونک رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس زبان میں بھونک رہے ہیں کیونکہ جس تقریر پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ ان کی سمجھ کی زبان میں تھی ہی نہیں ان عقل کے اندھوں کو سمجھانے کے لئے شہر کے ایک سنجیدہ آدمی نے مشورہ دیا بھائیو! اس تقریر کا اردو ترجمہ کر دو ورنہ یہ مخلوق یونہی آوازیں نکالتی رہے گی اور ایک دن اپنی ہی گونج میں دم توڑ دے گی۔ یہ جاہل ہیں انکی عقل مین کوئی بات نہیں آتی یہ تجویز معقول تھی۔ کیونکہ جب دماغ کی اوپر والی منزل خالی ہو، تو نیچے والے کمروں میں شور بڑھ جاتا ہے۔ مگر پھر کسی نے آہستہ سے کہا ترجمہ کر بھی دو تو کیا ہوگا؟
خاموشی چھا گئی کیونکہ اصل مسئلہ زبان نہیں تھا۔
مسئلہ یہ تھا کہ اگر سچ اندر داخل ہوگیا تو سالوں سے بنائی گئی کہانی ٹوٹ جائے گی اور یہ لوگ کہانیوں کے محافظ ہیں حقیقت کے نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بھی اپنا چہرہ تسلیم نہیں کرتے انہیں اپنی آواز سے محبت ہے اپنی جہالت سے انس ہے چاہے وہ کتنی ہی کھوکھلی کیوں نہ ہو ادھر ایک بیٹا اپنے باپ کے لیے انصاف مانگ رہا ہے اور ادھر ایک پورا ہجوم اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے شور مچا رہا ہے۔
وفاداری نہیں جناب، یہ وفاداری نہیں یہ خوف ہے وہ خوف جو انسان کو سوچنے نہیں دیتا صرف ردِعمل پر مجبور کرتا ہے۔ آخر میں شہر کے درویش نے ایک عجیب بات کہی یہ جو بھونکنے والے ہیں نا ان کا علاج ترجمہ نہیں خاموشی ہے اور واقعی کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں جواب دینا بھی ان کی توہین ہوتی ہے۔
یہ جو پٹواریوں کی ایک پوری فوج ہے یہ دراصل الفاظ نہیں سنتی مفہوم کو نہیں سمجھتی یہ صرف اشارے سمجھتی ہے جہاں سے اشارہ ملے وہیں سر جھکا دیتی ہے اور جہاں سچ سامنے آ جائے وہاں شور مچا دیتی ہے تاکہ سچ کی آواز دب جائے سو اب مشورہ یہی ہے کہ قاسم کی تقریر کا اردو ترجمہ نہیں بلکہ فہم کا ترجمہ کیا جائے کیونکہ مسئلہ زبان کا نہیں مسئلہ اس اوپر والی منزل کا ہے جہاں سچ داخل ہونے سے پہلے ہی روک دیا جاتا ہے۔ آخر میں بات بہت سادہ ہے ایک بیٹا اپنے باپ کے لیے بول رہا تھا اور ایک پورا نظام اس آواز سے خوفزدہ ہوگیا یہ خوف ہی اصل کہانی ہے۔

