April Fool Mubarak Ho
اپریل فول مبارک ہو

یہ دور بڑا عجیب ہے بھائی ایک زمانہ تھا جب یکم اپریل آتا تو لوگ پورا سال کی محنت ایک دن میں لگا دیتے جھوٹ کی ایسی ایسی کہانیاں گھڑتے کہ شیطان بھی شرم سے کانپ جاتا پھر دوپہر کو قہقہے لگاتے ہوئے سچ بتا دیتے اور کہتے بس یار آج کا اپریل فول ہوگیا مگر اب اب تو یکم اپریل کو ریٹائرمنٹ دے دی گئی ہے۔ کچھ خاص شخصیات نے یہ مقدس فریضہ اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے کہ سال کے بارہ مہینے تین سو پینسٹھ دن چوبیس گھنٹے ساٹھ منٹ۔ ساٹھ سیکنڈ ہر لمحہ لائیو اپریل فول کا براڈکاسٹ چلتا رہے کوئی وقفہ نہیں کوئی بریک نہیں کوئی اشتہار نہیں۔
مریم نواز کا سیاسی بیانیہ تو بالکل ایسا لگتا ہے جیسے ہر روز اپریل فول سپیشل ایڈیشن کا پرائم ٹائم شو ہو رہا ہو اعلان کچھ اور حقیقت کچھ اور اور انجام بالکل الٹا۔ کبھی ترقی کے ایسے خواب دکھائے جاتے ہیں کہ پیرس لندن دبئی، سنگاپور اور نیویارک بھی شرم سے زمین میں گھس جائیں۔ پنجاب جنت بن جائے گا ہر گھر میں بجلی مفت ہر سڑک پر چار لین ہائی وے ہر بچے کو ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ غریب کا درد ہم نے اپنے دل میں اتار لیا ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ گلی کا پرانا کھڈا اب بھی اپنی جگہ پر بیٹھا مسکرا رہا ہے۔ وہ اب تو خود کو ہیرٹیج کھڈا کہلوانے لگا ہے جیسے کوئی بڑا نظریاتی پروجیکٹ ہو سہولت کے لیے کھڈا ترقی کے لیے کھڈا ووٹ کے لیے کھڈا عوام اعتبار کرکے اس کھڈے میں دوبارہ گر جاتی ہے یا سہولت کار زبردستی کھڑے میں گراتے ہیں۔ عوام اب سادہ لوح نہیں رہے وہ ہر نئے دعوے کو سنتے ہیں تو مسکرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور دل ہی دل میں کہتے ہیں اچھا جی، آج کا اپریل فول بھی آ گیا نیا سیزن نیا ایپی سوڈ، وہی پرانا ڈائیلاگ کے ساتھ۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اب کیلنڈر کی کوئی ضرورت نہیں نہ یکم اپریل کا انتظار نہ الارم لگانے کی زحمت بس ایک پریس کانفرنس ایک جلسہ ایک ٹوئٹ، ایک انٹرویو یا ایک میگا پروجیکٹ کا اعلان سب سے وائرل اعلان تین سو یونٹ فری کا اور دل خود بخود بول اٹھتا ہے مبارک ہو آج پھر اپریل فول ڈے ہے کل بھی ہوگا اور پرسوں بھی اور اگلے پانچ سال بھی اور اگلے دس سال بھی ممکن ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ پہلے جھوٹ بولنے والے تھوڑا ہچکچاتے تھے دل میں ڈر لگتا تھا کہ کہیں پکڑے نہ جائیں کہیں سچ نکل نہ آئے اب تو اعتماد ایسا ہے کہ سچ کو بھی شک ہونے لگتا ہے کہ ارے یار یہ خود تو جھوٹ نہیں بن گیا۔ وعدے ایسے کیے جاتے ہیں جیسے کل ہی انقلاب آ جائے گا پھر وہی وعدہ اگلے جلسے میں نیا پیکنگ نیا ریپ، نیا رنگ، نیا لوگو لگا کر دوبارہ پیش کر دیا جاتا ہے جیسے کوئی پرانی فلم ہو جس کے ڈائیلاگ تو وہی ہوں مگر ہیروئن ہر بار بدل جائے۔
اب تو حالات یہ ہو گئے ہیں کہ اپریل فول خود بھی کنفیوز ہوگیا ہے وہ کہتا ہے بھائی میرے ایک دن کا راج تھا یہ لوگ تو مجھ سے بھی آگے نکل گئے میں تو صرف ایک دن جھوٹ بولتا تھا یہ تو ہر روز ہر گھنٹے، ہر منٹ جھوٹ بولتے ہیں اور پھر خود کو بھی یقین دلاتے ہیں کہ یہ سچ ہے جب کہا جاتا ہے انفراسٹرکچر انقلاب آ رہا ہے تو کھڈے جواب دیتے ہیں۔ بی بی ہم تو انقلاب کا انتظار کر رہے ہیں مگر انقلاب ہمیں دیکھ کر بھاگ جاتا ہے شاید وہ بھی اپریل فول سمجھ کر بھاگا ہو جب کہا جاتا ہے غریب کا درد ہم سمجھتے ہیں تو غریب مسکرا کر جواب دیتا ہے بی بی درد تو ہم سمجھتے ہیں مگر آپ کا درد ہم نہیں سمجھ پاتے وہ درد ووٹ کا ہے یا واقعی غریب کا کیونکہ جب ووٹ مل جاتا ہے تو درد خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے اور جب وعدہ کیا جاتا ہے کہ اگلے سال ہر چیز بدل جائے گی تو عوام اب جواب دیتے ہیں ٹھیک ہے جی ہم تو پانچ سال سے اگلے سال کا انتظار کر رہے ہیں اب تو اگلے سال بھی اگلے سال بن چکا ہے اگلے سال کا اگلے سال کا اگلے سال، بس یہی چکر چل رہا ہے اب اگر حکومت کوئی سچ بول بھی دے تو عوام اسے بھی اپریل فول سمجھ کر مسکرا دیتی ہے اور کہتی واہ جی کیا کہنا کیونکہ اعتماد کا یہ زور ہے کہ اب جھوٹ بھی سچ لگتا ہے اور سچ بھی جھوٹ تو اگر واقعی قومی سطح پر یکم اپریل منانا ہے تو کوئی خاص دن کی ضرورت نہیں بس ایک تقریر سن لیں ایک پریس کانفرنس دیکھ لیں، یا ایک نیا "ریولیوشنری وعدہ سن لیں دل خود کہہ اٹھے گا مبارک ہو بھائی! آج پھر اپریل فول ہے اور یہ اپریل فول اب کبھی ختم نہیں ہونے والا
یہ سدا بہار اپریل فول ہے۔۔

