Amarat Ka Aaina Aur Khittay Ki Aag
امارات کا آئینہ اور خطے کی آگ

خطۂ عرب اس وقت بارود کی ایک ایسی ڈھلوان پر کھڑا ہے جہاں ایک چنگاری پوری وادی کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایک طرف United States اپنی عالمی بالادستی کے نشے میں ڈوبا ہوا ہے دوسری طرف ایران اپنے وجود، خودمختاری اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع پر مصر ہے مگر سوال ان دونوں کے بیچ کا نہیں۔ سوال ان کرداروں کا ہے جو خاموش تماشائی بھی ہیں اور پس پردہ کھلاڑی بھی۔ جب آپ کسی عالمی طاقت کو اپنی سرزمین پر پناہ گاہیں دیں اسے ہوائی اور بحری اڈے مہیا کریں۔ اس کے بیڑوں کو اپنی بندرگاہوں میں لنگر انداز ہونے دیں تو پھر یہ توقع رکھنا کہ آپ جغرافیائی طور پر غیر جانبدار رہیں گے سیاسی سادہ لوحی نہیں تو اور کیا ہے؟
United Arab Emirates اس وقت اسی تضاد کی علامت بنا کھڑا ہے بظاہر تجارت سیاحت اور چمکتے ٹاورز باطن میں عالمی اسٹریٹجک اتحادوں کی گرہیں ابو ظہبی کی روشن راتوں میں جب نیون لائٹس جگمگاتی ہیں تو ان کے سائے میں عسکری معاہدوں کی سیاہی بھی پھیلتی ہے۔
خطہ جب جلتا ہے تو عمارتیں نہیں بچتیں، خواہ وہ شیشے کی ہوں یا فولاد کی اگر ایران نے کسی امریکی تنصیب یا اڈے کو نشانہ بنایا تو یہ محض غصے کی کارروائی نہیں۔ بلکہ وہ پیغام ہے جو تہران برسوں سے دے رہا ہے کہ جو ہمارے خلاف اڈہ بنے گا، وہ دفاعی خطہ نہیں رہے گا سیاست میں جذبات نہیں مفادات بولتے ہیں اور مفادات کا جغرافیہ نقشوں سے نہیں اتحادوں سے بنتا ہے یہ سوال بھی اہم ہے کہ عالمِ اسلام کی وحدت کا نعرہ کہاں گیا؟ کیا اقتصادی مفادات نے نظریاتی اخوت کو نیلام گھر تک پہنچا دیا؟
مسلم دنیا پہلے ہی داخلی تقسیم، مسلکی خلیج اور قیادت کے بحران کا شکار ہے ایسے میں کسی ایک ریاست کا عالمی طاقتوں کا بازو بن جانا پورے بیانیے کو کمزور کرتا ہے مگر یہاں ایک اور پہلو بھی ہے۔ ریاستیں اپنے مفاد کے مطابق فیصلے کرتی ہیں امارات کا استدلال یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی سلامتی، معیشت اور عالمی حیثیت کے لیے دفاعی شراکت داریاں قائم کرتا ہے لیکن سوال پھر وہی ہے اگر آپ کسی طاقت کے عسکری منصوبے کا حصہ ہیں تو کیا آپ خود کو اس کے ممکنہ ردعمل سے الگ رکھ سکتے ہیں؟
خطے کی سیاست میں فرشتے نہیں بستے صرف کردار ہوتے ہیں اور کردار تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں خطرہ صرف ایران اور امریکہ کی کشمکش تک محدود نہیں۔ خلیج کی بندرگاہیں تیل کی ترسیل کے راستے، آبنائے ہرمز یہ سب عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں اگر یہاں کشیدگی بڑھی تو اس کے اثرات ریاض سے استنبول تک اور کراچی سے قاہرہ تک محسوس ہوں گے لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ کون کس کا حمایتی ہے مسئلہ یہ ہے کہ کیا خطہ ایک اور پراکسی جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے؟ کیا مسلم ریاستیں واقعی خودمختار خارجہ پالیسی کی طرف بڑھنا چاہتی ہیں یا عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک بساط پر مہرے بن کر رہنا ان کی تقدیر ہے؟
یہ وقت نعروں کا نہیں تدبر کا ہے۔ اگر امارات یا کوئی اور ریاست واقعی خود کو خطے کا ذمہ دار فریق سمجھتی ہے تو اسے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا نہ کہ ایسی شراکت داریوں کو وسعت دینا ہوگا جو اسے ممکنہ ہدف بنا دیں
خطہ پہلے ہی شام، یمن، عراق اور غزہ جیسے زخموں سے چور ہے ایک اور محاذ شاید اس زنجیر کو توڑ دے جس سے ابھی تک استحکام بندھا ہوا ہے تاریخ گواہ ہے۔ جو ریاستیں وقتی فائدے کے لیے طوفان کو گھر میں جگہ دیتی ہیں وہ اکثر خود بھی اس کی لپیٹ میں آتی ہیں۔ تمام مسلم ممالک اس وقت تماشائی بنے ہوئے ہیں انہیں اپنے انجام کی ذرا بھی خبر نہیں ہے وہ سمجھتے ہیں یہود و نصاری انکے دوست ہیں جبکہ قرآن میں اللہ نے واضع طور پر کہا اے مسلمانوں یہود و نصاری ہر گز ہرگز تمہارے دوست نہیں بن سکتے تو آج کے عیاش پرست مسلمانوں نے اللہ کے حکم کو بھی اگنور کیا آج ہماری بربادی کی مین وجہ یہی ہے کہ ہم یہودیوں کے اہلکار بن گئے ہیں آج ایران ہے تو کل ان تمام اسلامی ممالک کی بھی باری آئے گی بس ذرا توقف سے انتظار کیجئے۔

