Sunday, 15 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Aik Sham Apne Naam

Aik Sham Apne Naam

ایک شام اپنے نام

دن بھر کی بھاگ دوڑ لوگوں کی توقعات رشتوں کی ذمہ داریاں اور معاشرے کے تقاضے انسان کو اس حد تک گھیر لیتے ہیں کہ وہ خود اپنی ذات کے ساتھ اجنبی ہو جاتا ہے۔ ہم آئینے میں چہرہ تو دیکھ لیتے ہیں، مگر اندر کے انسان سے ملاقات ملتوی کرتے رہتے ہیں اپنے نام کی ایک شام دراصل خود سے مکالمہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب آپ کسی محفل کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ اپنی کہانی کے مرکزی کردار ہوتے ہیں نہ کوئی تالیاں بجاتا ہے نہ کوئی تنقید کرتا ہے بس خاموشی ہوتی ہے اور خاموشی میں چھپی ہوئی سچائی ایسی شام انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ کمزور ہونا عیب نہیں تھک جانا جرم نہیں اور کبھی رک جانا شکست نہیں۔ اصل شکست تو یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات کو دفن کر دیں اپنے خوابوں کو حالات کے ہاتھ بیچ دیں اور ہجوم میں کھو کر خود کو بھول جائیں۔ ایک شام اگر آپ اپنے نام کر لیں کسی سنسان گوشے میں آسمان کے نیچے یا اپنے کمرے کی تنہائی میں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ سب سے ضروری رشتہ وہ ہے جو آپ کا خود سے ہے جب یہ رشتہ مضبوط ہو جائے تو دنیا کی کوئی طوفانی ہوا آپ کو گرا نہیں سکتی۔

میں نے خود سے کہا، آ ذرا بات کریں

کیوں نہ اک شام، اپنے ہی نام کریں

یہ لمحے وقت کے عام اوراق نہیں ہوتے یہ زندگی کی ڈائری کے وہ سنہرے صفحے ہوتے ہیں جن پر تقدیر بھی ٹھہر کر مسکرا دیتی ہے۔ ساحلِ سمندر کی خاموشی میں ایک عجب سرگوشی چھپی ہوتی ہے رات کی تاریکی جب آسمان کے دامن کو اپنی آغوش میں لیتی ہے تو ستارے بھی گویا تماشائی بن کر جھک آتے ہیں ریت پر بیٹھے چند احباب کوئلوں کی مدھم آنچ برتنوں کی ہلکی سی جھنکار اور سیخ کے چٹخارے یہ سب مل کر زندگی کی ایک سادہ مگر مکمل تصویر بنا دیتے ہیں۔ وہ آگ صرف کھانے کو نہیں پکاتی، وہ یادوں کو بھی سنہری کر دیتی ہے وہ دھواں صرف فضاء میں نہیں اٹھتا، وہ لمحوں کو فریم کرکے دل کی دیواروں پر ٹانگ دیتا ہے۔ کچھ باتیں ہنسی میں گم ہو جاتی ہیں کچھ خاموشیوں میں محفوظ ہو جاتی ہیں اور کچھ آنکھوں کی چمک میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہتی ہیں زندگی واقعی انجانے میں گزر جاتی ہے۔ اگر ہم اسے محسوس نہ کریں مگر جو شخص لمحوں کو تھامنا جانتا ہو وہ عام شام کو بھی خاص بنا لیتا ہے انسان کے اختیار میں شاید بہت کچھ نہیں مگر اپنے وقت کو یادگار بنا دینا اس کے بس میں ضرور ہے۔

یہ شام بھی ایسی ہی تھی سادگی میں لپٹی، خلوص سے سجی اور دوستی کی روشنی سے منور یہ صرف ایک پکنک نہیں تھی یہ زندگی سے ایک خاموش وعدہ تھا کہ ہم ہجوم کے شور میں بھی اپنے لیے کچھ پرسکون لمحے چرا لیا کریں گے ایسی شامیں گزر نہیں جاتیں دل کے کسی گوشے میں چراغ بن کر ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔

Check Also

Mosam Badal Raha Hai

By Syed Mehdi Bukhari