Ab Aisa Nahi Hoga
اب ایسا نہیں ہوگا

دنیا کے نقشے پر کچھ طاقتیں خود کو خدا سمجھنے لگتی ہیں ان کے لیے سرحدیں محض لکیریں ہیں۔ قومیں مہرے اور خون صرف کاروبار ڈونلڈ ٹرمپ اسی پرانی روایت کا نیا چہرہ ہے فرق صرف انداز کا ہے وہ سفارتکاری کو کاروبار سمجھتا ہے جنگ کو سرمایہ کاری اور کھلے عام اعلان کرتا ہے ہم لڑیں گے تم قیمت ادا کرو گے ایسی آوازیں آج واشنگٹن سے بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔
یہ جملہ کوئی اتفاقی بات نہیں یہ ایک صدیوں پرانی ذہنیت کا عکاس ہے جو مشرق کو ہمیشہ اپنی چراگاہ سمجھتی آئی ہے۔ یہ وہی منطق ہے کہ آگ کوئی اور لگائے لاشیں کسی اور کی گریں اور بل کوئی تیسرا ادا کرے۔ پہلے خوف پیدا کرو پھر تحفظ کا چورن بیچو اور آخر میں کروڑوں ڈالر وصولی کا تقاضا کرو۔ 1991 کی خلیجی جنگ میں سعودی عرب اور کویت نے امریکہ کی قیادت میں چلنے والے آپریشن کے لیے 60 ارب ڈالر سے زیادہ ادا کیے آج بھی وہی کھیل دہرایا جا رہا ہے صرف اسکرپٹ تھوڑا بدلا ہوا ہے لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔
عرب دنیا اب صرف تیل کے کنوؤں تک محدود نہیں رہی ریگستانوں میں اب شعور کے چشمے پھوٹ رہے ہیں وہ نسل جو حکم پر سر جھکاتی تھی آج سوال اٹھا رہی ہے تاریخ پڑھ رہی ہے اور اپنے مستقبل پر خود سوچ رہی ہے واشنگٹن کی ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ریگستان کے لوگ ریت کی طرح بکھر جائیں گے انہیں یہ خبر نہیں کہ یہی ریت جب طوفان بنتی ہے تو طاقت کے بلند محلوں کے در و دیوار بھی اڑا لے جاتی ہے۔
اصل مسئلہ ٹرمپ نہیں اصل مسئلہ وہ عالمی نظام ہے جو جنگ کو ضرورت اور امن کو کمزوری بنا کر بیچتا ہے ٹرمپ جائے گا کوئی اور آ جائے گا۔ لیکن بڑا سوال ہمارا ہے کیا ہم اب بھی وہی غلام ذہنیت کے حامل رہیں گے یا جاگ جائیں گے تاریخ بار بار چیخ کر بتا چکی ہے کہ جو قومیں دوسروں کی جنگوں کا ایندھن بنتی ہیں وہ خود اپنی کہانیوں سے مٹ جاتی ہیں۔ یہ جنگ اب صرف میزائلوں اور ٹینکوں کی نہیں ہوگی یہ شعور اور غلامی کی جنگ ہوگی یہ خون کا سودا ہے غیرت کا سودا خودمختاری کا سودا۔
تم کہتے ہو عرب دنیا اخراجات دے کیوں؟ کیونکہ تیل ہے یا کیونکہ کچھ حکمرانوں کی رگوں میں خون سے زیادہ مفاد بہتا ہے یاد رکھو جو قومیں اپنی سرزمین کو دوسروں کی جنگوں کا ایندھن بننے دیتی ہیں، وہ آخر کار راکھ بن جاتی ہیں تمہارا غرور، تمہاری طاقت، تمہاری دھمکیاں یہ سب تاریخ کے کچرے دان میں پڑی ان سلطنتوں جیسے ہیں جو خود کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ شکست سمجھتی تھیں۔ برطانوی سلطنت رومی سلطنت اور بہت سی دوسری طاقتیں جو ایک وقت میں آسمان چھو رہی تھیں وقت نے انہیں مٹی میں ملا دیا آج تم کہتے ہو خرچہ دو کل شاید کہو گے زمین دو پرسوں شاید شناخت بھی مانگ لو یہی تو صدیوں سے ہوتا آیا ہے لیکن اب نہیں۔۔
اب عرب دنیا ہمیشہ کی طرح سر جھکا کر چیک پر دستخط نہیں کرے گی اس بار ہاتھ روک لے گی یہ میرا تجزیہ ہے ممکن ہو نتیجہ الٹ نکلے کیونکہ خاموشی اب حکمت نہیں رہی یہ خودکشی بن چکی ہے۔ یاد رکھیں جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں کبھی کبھی ایک سادہ سا انکار ہی سب سے بڑی فتح بن جاتا ہے تو انشاءاللہ اس دفعہ جواب نا میں ملے گا تمہاری حسرت تمہارے دل میں ہی رہے گی بس اب بہت ہوگیا۔
اپنی مکار چالاکیوں سے تم نے بہت فائدہ اٹھایا یقین مانو اب ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔

