Aap Bhi Chain Se Na Baithen Ge
آپ بھی چین سے نہ بیٹھ سکیں گے

دل کے پھپھولے جل اٹھے، سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
یہ شعرِ جاوداں جیسے ایک پیش گوئی کی مانند اس خطے کی داستانِ غم سناتا ہے جہاں 1988ء میں ریاستی سرپرستی میں اپنے ہی ہم وطنوں پر لشکر کشی ہوئی اس ایک سانحے نے نفرتوں کی ایسی آگ بھڑکائی کہ فرقہ وارانہ خون کی ہولی کھیل دی گئی اس سے پہلے ہم بھائی چارے کی چادر اوڑھے ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھتے تھےمگر اس آگ نے سماجی ہم آہنگی کو اس طرح چاک کیا کہ زخم کئی عشروں تک سلگتے رہے۔
وسیع تر افق پر نگاہ ڈالیں تو یہ سرزمین ہر قومی جنگ میں سب سے بھاری قیمت ادا کرتی رہی۔
1965ء کی جنگ ہو 1971ء کی تباہی ہو یا کرگل کا وہ خون آلود باب ہر محاذ پر یہاں کے لوگوں نے سینہ سپر ہو کر قربانیاں دیں مگر بدلے میں ملا کیا؟ کرگل کے دوران تو دیہات ویران ہو گئے گھر بار چھوڑ کر لوگ سنگلاخ پہاڑوں اور ریگزاروں کی آغوش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے افسوس کہ ان متاثرہ خاندانوں کی آبادکاری کے لیے ریاستی سطح پر کوئی خاطر خواہ کاوش نہ ہوئی انسان تو کیا جانور بھی نہ سمجھا گیا۔
بعد میں پرانے تجارتی اور سفری راستے کھولے گئے مظفرآباد تک آمدورفت ممکن ہوئی مگر وہ محروم، بچھڑے ہوئے خاندان آج بھی اٹھہتر برس گزر جانے کے باوجود اپنے پیاروں سے ملنے کی آس میں تڑپ رہے ہیں۔ جب بھی عوام نے جائز حقوق کا مطالبہ کیا سننے کے بجائے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو غداری کے طوق پہنائے گئے متعدد مقدمات، پابندیاں سلاسل اور الزامات کی بوچھاڑ جن میں شہیدِ قوم حیدر شاہ رضوی سرفہرست رہے کبھی را کا ایجنٹ کبھی ایم آئی سکس کامگر کوئی الزام ثابت نہ ہو سکا۔
اسی دوران ایک نئی نسل پروان چڑھی جو اکیسویں صدی کی کرنوں میں پل کر دنیا سے جڑ گئی انہوں نے حالات کا موازنہ کیا سوالات اٹھائے مگر تعلیم کے بعد روزگار کی تلاش میں دربدر انٹرنیٹ سے روزی کمانے کی کوشش کی تو معیاری سروس نہ ملی بجلی کی ضرورت پڑی تو وہ بھی نایاب صحت کا بحران بنا تو دہائیاں دیں مگر سننے والا کوئی نہ تھا مائننگ والوں کو بارود کی کمی نے کاروبار سے دور کر دیا کنسٹرکشن والوں کو ادائیگیوں سے محروم رکھا گیا گویا ہر سمت سے معاشی استحصال کا شکار زخموں کی فہرست طویل ہے چند سطروں میں سمیٹنا محال۔
پھر بھی یہ لوگ صبر کا دامن تھامے پیٹ پر پتھر باندھ کر حالات سے نبردآزما رہے گمان ہونے لگا کہ ہم اپنی ہی راجدھانی میں مسافر ہیں۔ افسوس کہ آج ہماری ہی سرزمین پر ایک ایسے مرجع تقلید کی یاد میں جنہوں نے زندگی بھر امریکہ اور اسرائیل کے سامنے حق کا جھنڈا بلند رکھا اور بالآخر شہادت کے منصب پر فائز ہوئےان کے سوگواروں کو کھل کر غم منانے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ہمارے بعض ذمہ داران خصوصاً انسپکٹر جنرل آف پولیس محترم ناصر اکبر کو تاریخ اور جغرافیہ کی کتابیں کھول کر پڑھ لینی چاہییں شاید معلوم ہو کہ وہ کس مقام پر کھڑے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم و جبر کبھی پائیدار نہیں رہتےجبکہ حق، آزادی اور عزتِ نفس کا پیغام ہمیشہ زندہ رہتا ہے لہٰذا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو طاقت کے زعم میں رجس خوانی چھوڑ کر ٹھنڈے دماغ سے نفرت کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بندوق کی نلی دکھا کر آزادی دینے کا دعویٰ ترک کرکے حالات کو نارمل کرنے اور زندگی کی رونقیں بحال کرنے میں کردار ادا کریں ورنہ عوام کو بے چین کرکے آپ بھی چین سے نہ بیٹھ سکیں گے یہ جملے تلخ ہیں مگر یہی حقیقت ہے زخم ناسور بننے کے بعد بھی اگر کوئی یک طرفہ محبت کا خواہاں ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہا ہے۔

