Aalim Ba Amal Safeer e Inqilab Allama Raja Nasir Abbas Jafri
عالم با عمل سفیر انقلاب علامہ راجہ ناصر عباس جعفر

علامہ ناصر عباس جعفری کی زندگی محض ایک فرد کی سوانح نہیں بلکہ ایک فکر ایک کردار اور ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے وہ ان چند باعمل علما میں شمار ہوتے ہیں جن کے ہاں علم کتابوں سے نکل کر معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھ لیتا ہے اور منبر محض وعظ کا مقام نہیں بلکہ حق گوئی کا اعلان بن جاتا ہے۔ ان کی ذات میں خاموشی کی گہرائی بھی ہے اور صداقت کی للکار بھی وہ جانتے ہیں کہ علم اگر عمل سے خالی ہو تو بوجھ بن جاتا ہے اور دین اگر مظلوم کے ساتھ کھڑا نہ ہو تو رسم بن کر رہ جاتا ہے۔ اسی لیے علامہ ناصر عباس جعفری کا ہر قدم ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ باوقار سیاست، باکردار قیادت اور باعمل دیانت ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔
ان کے لبوں پر حق کا نام آتا ہے تو لہجہ نرم مگر موقف غیر متزلزل ہوتا ہے۔ وہ اختلاف کو تہذیب کے دائرے میں رکھتے ہیں مگر ظلم کے سامنے خاموشی کو گناہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو محض سامع کو متاثر نہیں کرتی بلکہ سوچ کو بیدار اور ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔
کچھ لوگ سیاست مدرسے سے نہیں پڑھتے مگر ان کے قدموں میں عمامہ ہونے کے باوجود اقتدار کی لغت میں سازش مکاری اور موقع پرستی نہیں ملتی۔ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں اور جب مل جائیں تو سیاسی منظرنامے میں ذرا سی بے چینی ضرور پھیلا دیتے ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری بھی انہی چند ناموں میں شامل ہیں جنہیں دیکھ کر طاقت کے ایوانوں میں سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ یہ مولوی صاحب سیاست کو عبادت کیوں سمجھ بیٹھے ہیں؟
علامہ راجہ ناصر نہ تو روایتی سیاستدان ہیں اور نہ ہی وہ روایتی منبر کے خطیب وہ اس نسل کے عالم ہیں جنہوں نے کتاب بھی پڑھی حالات بھی فقہ بھی سمجھی اور وقت کی نبض بھی۔ 1960 میں پیدا ہونے والے اس عالمِ دین نے قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ اس معاشرے کی تلخیوں کو بھی ازبر کیا جہاں فرقہ نفرت کا ہتھیار اور مذہب اقتدار کی سیڑھی بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان میں جب فرقہ واریت ایک کاروبار بن چکی تھی اور دہشت گردی کے سوداگر دین کے نام پر خون بیچ رہے تھے اس وقت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے واضح اور دو ٹوک بات کی نہ طالبان کی خوشامد نہ تکفیری سوچ سے سمجھوتہ۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریاست اسلامی ہے تو فلاحی بھی ہونی چاہیے اور اگر امت ایک ہے تو پھر مسلک کے نام پر لاشیں کیوں گرتی ہیں؟ مجلس وحدت مسلمین کا قیام بھی کسی اقتدار کے خواب کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک ردِعمل تھا۔ تعصب کے خلاف خاموشی کے خلاف اور اس سیاست کے خلاف جو ہر مظلوم کو صرف الیکشن کے موسم میں یاد کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس جماعت کو صرف شیعہ جماعت کہہ کر محدود کرنے کی کوشش کی گئی وہی جماعت آہستہ آہستہ اتحاد بین المسلمین کی سب سے توانا آواز بنتی چلی گئی۔
بین الاقوامی سیاست میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا مؤقف مغربی سفارت کاری کے لیے ہمیشہ ناگوار رہا ہے۔ فلسطین ہو یا لبنان، ایران ہو یا خطۂ مزاحمت وہ مظلوم کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ان کے نزدیک ظلم اگر اسرائیلی کرے یا کوئی اور اسے ظلم ہی کہا جائے گا۔ شاید یہی بات انہیں ناپسندیدہ مگر نظرانداز نہ کیے جانے والا رہنما بناتی ہے۔
سیاست کے عملی میدان میں بھی وہ محض نعرہ باز ثابت نہیں ہوئے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد، دھاندلی اور کرپشن کے خلاف احتجاج اور بالآخر 9 اپریل 2024 کو پنجاب سے سینیٹ آف پاکستان کے رکن بلامقابلہ انتخاب یہ سب اس بات کا اشارہ تھا کہ سیاست اگر مستقل مزاجی سے ایمانداری سے کی جائے تو منبر سے پارلیمان تک کا سفر ممکن ہے۔
اور پھر وہ لمحہ بھی آیا جب عمران خان نے انہیں سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف نامزد کیا یہ صرف ایک تقرری نہیں تھی یہ اس ریاست کے لیے ایک سوال تھا کیا ایک شیعہ عالم اس ملک میں اصولی سیاست کی علامت بن سکتا ہے؟
جواب شاید بہتوں کو ناگوار گزرا مگر تاریخ نے اسے ریکارڈ کر لیا علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سیاست میں شور کم اور وزن زیادہ ہے۔ وہ نعرے بیچنے کے بجائے مؤقف اٹھاتے ہیں وہ نعروں کے بجائے عملی طور پر کرکے دکھاتے ہیں اور شاید اسی لیے وہ ہر اس شخص کو ناگوار گزرتے ہیں جو سیاست کو صرف مفاد کی دکان سمجھتا ہے۔ اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سارے لوگ حیرت میں مبتلا ہیں کہ اس مولوی صاحب نے سیاست کس مدرسے میں پڑھی ہے؟
شاید اس مدرسے میں جہاں سچ پڑھایا جاتا ہے، وفاداری سکھائی جاتی ہے اور ایمانداری کا درس دیا جاتا ہے اور ضمیر کا پرچہ آج تک آؤٹ آف کورس نہیں ہوا۔ اسی انداز مستقل مزاجی سے آگے بڑھ رہا ہے بندہ حقیر اپنی کم علمی کی وجہ سے اس موضوع پر پورا انصاف کرنے سے قاصر ہے بس چند ٹوٹے جملوں کی ایک ادنی سی کاوش ہے قارئین قبول فرمائیں۔
علامہ ناصر عباس جعفری ہمیں یہ باور کراتے ہیں کہ عالم وہ نہیں جو سوالوں سے بچ جائے بلکہ عالم وہ ہے جو سوالوں کے بیچ کھڑا ہو کر حق کا ساتھ دے۔ ان کی زندگی اس بات کی گواہی ہے کہ اصلاحِ معاشرہ نعروں سے نہیں کردار سے ہوتی ہے اور حقیقی قیادت وہی ہے جو اپنی ذات سے زیادہ قوم کے مستقبل کا بوجھ اٹھائے۔ آج کے پرآشوب دور میں جہاں علم اکثر مفاد کی نذر ہو جاتا ہے اور قیادت ذاتی فائدے کا نام بن چکی ہے علامہ ناصر عباس جعفری جیسے باعمل علما ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر نیت صاف ہو، راستہ کٹھن بھی ہو تو منزل خود راستہ بن جاتی ہے۔
یہ تحریر یہ مختصر کالم محض خراجِ تحسین نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے کہ ہم بھی اپنے اپنے دائرے میں علم کو عمل سے جوڑیں سچ کو خوف پر ترجیح دیں اور کردار کو شہرت پر یہی علامہ ناصر عباس جعفری کی زندگی کا اصل پیغام ہے۔

