Wazir e Azam, Sindh Hukumat Ki Nakami Par Tawajo Dein
وزیرِ اعظم، سندھ حکومت کی ناکامی پر توجہ دیں

یہ قتل نہیں، ریاستی ناکامی کا اعلان ہے۔ سانگھڑ کے رحمت شاہ چوک پر بہنے والا خون کسی ایک شخص کا نہیں تھا، یہ ریاستِ سندھ کے اختیار، رِٹ اور وقار کا خون تھا۔ ڈاکٹر سلیم آرائیں آج کراچی کے ہسپتال میں نہیں مرے، وہ اس دن مار دیے گئے تھے جب انہیں "پنجابی سیٹلر" کہہ کر گولی ماری گئی اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہی۔ یہ قتل نہیں تھا۔ یہ نظریاتی نسل کشی تھی۔
محترم وزیرِ اعظم پاکستان! محترم وزیرِ اعلیٰ سندھ! کیا اب پاکستان میں انسان کی جان کی قیمت اس کی زبان، نسل اور صوبے سے لگائی جائے گی؟ کیا اب سفید کوٹ بھی شناخت پوچھ کر پہنا جائے گا؟ اور اگر جواب "نہیں " ہے تو پھر قاتلوں کے بیانات سرِ عام کیوں گھوم رہے ہیں؟
سندھودیش ریوولیوشنری آرمی (SRA) نے نہ صرف اس حملے کی ذمہ داری قبول کی بلکہ پورے اعتماد سے اعلان کیا کہ وہ سندھ میں آباد "سیٹلرز" کے خلاف حملے جاری رکھیں گے۔ یہ اعلان نہیں، یہ ریاست کو کھلا چیلنج ہے اور سوال یہ ہے کہ اس چیلنج کا جواب کہاں ہے؟
اگر یہی بیان کسی مذہبی تنظیم نے دیا ہوتا تو اب تک شہر بند، آپریشن شروع اور فہرستیں تیار ہو چکی ہوتیں۔ مگر چونکہ یہ نفرت "لسان" کے نام پر ہے، اس لیے شاید قابلِ برداشت ہے؟ یہ دہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟
ڈاکٹر سلیم آرائیں کوئی فوجی نہیں تھے جنہیں ریاستی پالیسیوں کا نمائندہ کہا جا سکے۔ وہ کوئی صنعت کار نہیں تھے جن پر وسائل لوٹنے کا الزام لگایا جائے۔ وہ کوئی سیاست دان نہیں تھے جو طاقت کا کھیل کھیلتے ہوں۔ وہ تو ایک غریبوں کا ڈاکٹر نما ڈسپنسر تھے، جو فیس کم اور وقت زیادہ دیتے تھے، جو سماجی کاموں میں حصہ لیتے تھے، جو انسان کو انسان سمجھتے تھے۔
مگر نفرت اندھی ہوتی ہے۔ وہ دلیل نہیں دیکھتی۔ وہ سفید کوٹ نہیں پہچانتی۔ وہ صرف شناخت دیکھتی ہے اور گولی چلا دیتی ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ "پنجابی سیٹلرز" سندھ کے وسائل لوٹ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا ڈاکٹر سلیم آرائیں کے پاس کوئی کنواں تھا؟ کوئی تیل کا کنواں؟ کوئی بندرگاہ؟ یا وہ بھی اپنے ہاتھوں کی محنت سے جینے والا عام پاکستانی تھا؟
نفرت کے نظریات ہمیشہ کمزور دماغوں کو مضبوط ہتھیار پکڑا دیتے ہیں۔
وزیرِ اعظم صاحب!
آپ قومی یکجہتی کی بات کرتے ہیں، مگر یہ یکجہتی نعروں سے نہیں آئے گی۔ یہ اس دن آئے گی جب نفرت پھیلانے والوں کو ریاستی طاقت کا اصل چہرہ دکھایا جائے گا۔ جب یہ واضح کیا جائے گا کہ پاکستان میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ طے کرے کون مقامی ہے اور کون غیر مقامی۔ یہ ملک 1947ء میں اس لیے نہیں بنا تھا کہ 2026ء میں لوگ ایک دوسرے کو "سیٹلر" کہہ کر ماریں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ صاحب!
یہ آپ کے صوبے میں ہو رہا ہے، آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور سرعام ہو رہا ہے۔ یہ آپ کی رٹ کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سندھ کی دھرتی نے کبھی نفرت کو قبول نہیں کیا۔ یہاں درگاہیں ہیں، مزار ہیں، صوفی ہیں، یہاں بندوق کی زبان اجنبی ہے۔
اگر آج آپ نے SRA جیسے گروہوں کو لگام نہ دی تو تاریخ آپ کو امن کے قتل کا شریک قرار دے گی۔ رکن قومی اسمبلی شازیہ عطا مری کی مذمت قابلِ قدر ہے، لائق تحسین ہے۔۔ مگر اب وقت مذمت سے آگے بڑھنے کا ہے۔ اب وقت گرفتاریوں، کریک ڈاؤن اور مثال قائم کرنے کا ہے۔
کیونکہ اگر آج قاتل آزاد گھوم رہے ہیں تو کل ہر ڈاکٹر، ہر استاد، ہر مزدور خوف میں جیے گا۔
یہ بھی یاد رکھیں: جو قتل کو "سیاسی جدوجہد" کہتا ہے۔ جو نسل پرستی کو "مزاحمت" کا نام دیتا ہے، وہ دہشت گردی کا فکری سہولت کار ہے۔ ریاست اگر ایسے سہولت کاروں کو پہچاننے سے انکاری رہی تو پھر ریاست اور مجرم میں فرق باقی نہیں رہتا۔
ڈاکٹر سلیم آرائیں کی لاش ہم سے سوال کر رہی ہے: کیا پاکستان صرف طاقتوروں کے لیے ہے؟ کیا کمزور، غریب اور خدمت گزار شہریوں کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا لسانی نفرت اب ریاست سے زیادہ طاقتور ہو چکی ہے؟
یہ کالم کسی ایک واقعے پر نہیں، یہ آنے والے خطرات کی وارننگ ہے۔ آج ایک ڈاکٹر مارا گیا ہے۔ کل کوئی صحافی۔ پرسوں کوئی استاد اور پھر شاید کوئی عام شہری، صرف اس لیے کہ وہ "غلط شناخت" رکھتا تھا۔ اگر اب بھی ریاست سندھ نہ جاگی تو پھر یہ لکھ لینا چاہیے کہ سندھ میں قانون نہیں، صرف بندوق بولتی ہے۔
آخر میں، یہ مطالبہ نہیں، ریاستی فرض کی یاد دہانی ہے: ڈاکٹر سلیم آرائیں کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ SRA اور اس جیسے تمام نفرت انگیز گروہوں پر مکمل پابندی لگائی جائے، لسانی نفرت پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنائی جائے، مقتول کے خاندان کو انصاف کے ساتھ ریاستی تحفظ دیا جائے کیونکہ اگر اس قتل پر بھی خاموشی رہی تو پھر یہ صرف ڈاکٹر سلیم آرائیں کی شہادت نہیں ہوگی۔
یہ سندھ کے خدانخواسطہ بکھرنے کی دستاویز ہوگی اور تاریخ خاموش حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ ڈاکٹر سلیم آرائیں کی شہرت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ سانگھڑ کے گلی کوچوں میں ان کا ذکر ایک نیک نام انسان کے طور پر ہوتا تھا۔ وہ سماجی کاموں میں پیش پیش رہتے، غریبوں کا مفت علاج کرتے، کسی کا مسلک نہیں پوچھتے تھے، کسی کی زبان نہیں جانچتے تھے۔ وہ صرف ایک سوال کرتے تھے: "درد کہاں ہے؟"
مگر افسوس!
انہیں درد دینے والوں نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ کس کے زخم بھرتے تھے۔۔
محترم وزیرِ اعظم پاکستان اور وزیرِ اعلیٰ سندھ!
آپ وقت کے حکمرانوں سے گزارش ہے کہ ڈاکٹر سلیم آرائیں کی شہادت صرف ایک انسان کا قتل نہیں، یہ انسانیت، شرافت اور پاکستانیت کے منہ پر ذور دار طمانچہ ہے۔ وہ ایک نیک، خاموش اور خدمت گزار شہری تھے جن کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ انسانوں کا علاج کرتے تھے۔ آپ سے اپیل ہے کہ اس شہادت کو محض فائلوں کی گرد میں دفن نہ ہونے دیں۔ قاتلوں، سہولت کاروں اور نفرت کے بیوپاریوں کے خلاف فوری، بے رحم اور فیصلہ کن کارروائی کریں۔ اس معصوم خون کو انصاف دیں، ورنہ تاریخ لکھے گی کہ ایک شریف انسان مارا گیا اور ریاست خاموش رہی۔

