PRSC-EO2 Ki Kamyab Launching
PRSC-EO2 کی کامیاب لانچنگ

قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو محض خبروں کی سرخی نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے ثبت ہو جاتے ہیں۔ آج کا دن بھی ایسا ہی ایک روشن دن ہے جب پاکستان نے اپنے جدید ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ PRSC-EO2 کی کامیاب لانچنگ کے ذریعے ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا۔ میں بطور پاکستانی اور بطور قلمکار پوری قوم کو اس عظیم کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
یہ سیٹلائٹ پاکستان کا پانچواں ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ اور دوسرا مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ ہے، جسے چین کے Yangjiang Seashore Launch Centre سے خلا میں بھیجا گیا۔ یہ منظر صرف ایک تکنیکی عمل نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، خاموش جدوجہد، سائنسی ریاضت اور قومی عزم کی کہانی پوشیدہ ہے۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں طاقت کا معیار صرف اسلحہ نہیں بلکہ علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی ہے۔ جو قومیں خلا کو مسخر کر رہی ہیں وہی زمین پر اپنی خودمختاری کو مضبوط بنا رہی ہیں۔ PRSC-EO2 کی کامیاب پرواز اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان نہ صرف خواب دیکھتا ہے بلکہ ان خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
میں اس موقع پر حکومتِ Peoples Republic of China کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کے تعاون اور ثابت قدم حمایت نے اس منصوبے کو عملی شکل دی۔ پاکستان اور چین کی آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ محض سفارتی تعلق نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی کا مظہر ہے۔ خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں یہ اشتراک نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
یہ کامیابی دراصل ہماری قومی خلائی ایجنسی Space and Upper Atmosphere Research Commission (سپارکو) اور اس کے قابل سائنسدانوں، انجینئرز اور تکنیکی ماہرین کی انتھک محنت کا ثمر ہے۔ وہ نوجوان دماغ جو لیبارٹریوں میں دن رات مصروف رہے، وہ انجینئر جنہوں نے ہر پیچ اور ہر سرکٹ میں اپنا ہنر ڈالا، وہ ماہرین جنہوں نے ڈیٹا، مدار اور نظام کی درستگی کو یقینی بنایا، آج سب سرخرو ہیں۔
ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس کسی ملک کی آنکھیں ہوتے ہیں۔ یہ زمین کی نگرانی کرتے ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہیں، زرعی پیداوار کا تخمینہ لگاتے ہیں، قدرتی آفات کی پیشگی اطلاع دیتے ہیں اور شہری منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ سیلاب ہو، خشک سالی ہو، گلیشیئرز کا پگھلاؤ ہو یا زرعی زمینوں کی نگرانی، ایسے سیٹلائٹس قومی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ ہماری معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کسانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے گی۔ فصلوں کی صحت، پانی کی دستیابی، زمین کی ساخت اور موسمی رجحانات کی درست معلومات حکومتی پالیسی سازی میں انقلاب برپا کر سکتی ہیں۔ یہ محض خلا کی کہانی نہیں بلکہ کسان کے کھیت تک پہنچنے والی روشنی کی کہانی ہے۔
قدرتی آفات کے حوالے سے بھی پاکستان ایک حساس خطہ ہے۔ سیلاب، زلزلے اور موسمیاتی تغیرات ہمیں اکثر آزماتے رہتے ہیں۔ جدید ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس بروقت معلومات فراہم کرکے نقصانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یوں یہ کامیابی انسانی جانوں کے تحفظ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
ہمیں اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ خلائی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری قومی خودمختاری کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب کوئی ملک اپنا ڈیٹا خود حاصل کرتا ہے تو وہ فیصلوں میں آزاد اور بااعتماد ہوتا ہے۔ PRSC-EO2 اس خود اعتمادی کی علامت ہے۔ یہ پیغام ہے کہ پاکستان محض صارف نہیں بلکہ تخلیق کار بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
اس موقع پر میں نوجوان نسل سے بھی مخاطب ہوں۔ میرے پیارے نوجوانو! یہ کامیابی آپ کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگر ہمارے سائنسدان محدود وسائل کے باوجود خلا تک پہنچ سکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں اپنے میدان میں نئی تاریخ رقم کر سکتے؟ ہمیں سوشل میڈیا کی وقتی چمک دمک سے نکل کر لیبارٹریوں، تحقیقی اداروں اور تعلیمی میدانوں کی طرف توجہ دینی ہوگی۔
بطور قوم ہمیں اپنی کامیابیوں کو سراہنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ ہم اکثر تنقید میں جلدی کرتے ہیں مگر تعریف میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ آج کا دن شکایتوں کا نہیں، فخر کا دن ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنی صلاحیتوں پر یقین کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔
میں سپارکو کے تمام سائنسدانوں، انجینئرز اور تکنیکی عملے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی دماغ کسی سے کم نہیں۔ ہمیں اپنی جامعات میں سائنسی تحقیق کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا، نوجوانوں کو اسکالرشپس، جدید لیبارٹریاں اور تحقیقی مواقع فراہم کرنے ہوں گے تاکہ ایسے منصوبے تسلسل کے ساتھ جاری رہیں۔
پاکستان اور چین کی دوستی ایک نئے باب میں داخل ہو چکی ہے۔ اقتصادی راہداری سے لے کر خلائی تعاون تک، ہر شعبہ باہمی اعتماد کی کہانی سنا رہا ہے۔ یہ تعلق وقتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ہے، جو آنے والے برسوں میں مزید مضبوط ہوگا۔
خلا کی وسعتیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ حدود صرف زمین پر ہوتی ہیں، ارادوں پر نہیں۔ اگر عزم مضبوط ہو تو مدار بھی مسخر کیے جا سکتے ہیں۔ PRSC-EO2 اسی عزم کی پرواز ہے۔ یہ ایک سیٹلائٹ نہیں، ایک پیغام ہے، پیغام امید، ترقی اور خود انحصاری کا۔
آئیے آج ہم سب مل کر اس قومی کامیابی کا جشن منائیں۔ اپنے سائنسدانوں کو خراجِ تحسین پیش کریں، اپنے نوجوانوں کو حوصلہ دیں اور اپنے ملک کے روشن مستقبل کے لیے دعا کریں۔ میں ایک بار پھر پوری پاکستانی قوم کو اس تاریخی سنگِ میل پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
پاکستان زندہ باد۔
سپارکو زندہ باد۔
خود انحصاری زندہ باد۔

