Friday, 04 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shaheen Kamal
  4. Do Neem Mulk e Khudadad (3)

Do Neem Mulk e Khudadad (3)

دو نیم ملکِ خداداد (3)

مشرقی پاکستان میں نیشنل اسمبلی کی 162 میں 160 سیٹ اور صوبائی اسمبلی کی 300 نشستوں پر 288 نشست پر عوامی لیگ فاتح ٹھہری۔ عوامی لیگ کی یہ شاندار فتح مجیب کے چھ نکات کے سبب تھی۔

مغربی پاکستان میں 138 نشستوں میں 81 نشست لے کر پیپلز پارٹی کامیاب قرار پائی۔ پیپلزپارٹی سندھ اور پنجاب میں فاتح رہی تھی جب کہ عوامی لیگ صرف بنگال میں جیتی تھی۔ عوامی لیگ نے مغربی پاکستان میں اپنا کوئی نمائندہ کھڑا نہیں کیا تھا۔ سو مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی نمائندگی شنؤ اور ٹھیک اسی طرح مشرقی پاکستان میں پیپلز پارٹی صفر۔

اب ہونا تو یہی چاہیے تھا تمیز سے اقتدار شیخ مجیب کے حوالے کر دیا جاتا مگر خود آرمی اور بٹھو بھی اس خیال کے شدید مخالف تھے۔ مغربی پاکستان کی نوکر شاہی کسی بنگالی کو اپنا حکمران ماننے کو تیار نہ تھی۔

جانے "انا" منفی جزبہ ہے کہ نہیں مگر کبھی کبھی یہ بہت بھاری پڑتا ہے۔ خاص طور پر تب، جب وہ لوگ جو فیصلے کی طاقت اور اختیار رکھتے ہیں گو وہ ہوتے قلیل ہی ہیں مگر چٹکی بجاتے ہی اکثریت کی قسمتوں کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔

ایسا ہی غلط فیصلہ 1971 میں بھی ہوا تھا۔

الیکشن کے بعد کی گمبھیر صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستانی حکومت نے گورنر مشرقی پاکستان جو کہ اس وقت مشرقی پاکستان کے ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی تھے، جناب سید محمد احسن کو یہ ذمہ داری سونپی کہ بیچ کی کوئی راہ نکالی جائے تا کہ اس ہزیمت سے بچا جا سکے جو اب نوشتہ دیوار تھی۔

ایڈمرل ایس ایم احسن جو یکم ستمبر 1969 سے یکم مارچ 1971 تک مشرقی پاکستان کے گورنر اور ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی رہے تھے۔

22 فروری 1971 کو ایڈمرل احسن نے راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے ایک انتہائی اہم اجلاس میں شرکت کی جہاں وہ مشرقی پاکستان کے واحد نمائندہ تھے۔ وہاں تمام افسران بالا مشرقی پاکستان میں جاری کشاکشِ کو ملٹری جارحیت سے کچلنے کے ہمنوا تھے۔ صرف واحد ایڈمرل سید محمد احسن، ملٹری کے طاقت کے اظہار کے خلاف تھے۔ ایڈمرل نے شیخ مجیب کے چھ نکات کو سامنے رکھتے ہوئے افہام و تفہیم کی راہ نکالی۔ ایڈمرل ایس ایم احسن کی چار نکاتی سفارشات جو "احسن فارمولا" کے نام سے مشہور ہیں۔

وہ چار نکات درجہِ ذیل ہیں۔

1۔ مرکزی حکومت کو دفاع، ملٹری، فارن پالیسی، قومی سلامتی اور کرنسی پر مکمل اختیار ہوگا۔

2۔ صوبے کو ریونیو بڑھانے اور اکٹھا کرنے کا اختیار، تاہم اسے وفاقی حکومت کو مطلوبہ ریونیو مہیاء کرنا پڑے گا تا کہ وفاق دیگر امور پر خرچ کر سکے۔

3۔ مغربی پاکستان کے شہری اور اہل کار کو وآپس مغربی پاکستان جانا ہوگا اور جو مشرقی پاکستان کے شہری اور بیوروکریٹ مغربی پاکستان میں ہیں انہیں مشرقی پاکستان لوٹ کر آنا ہوگا۔

4۔ آبادی کے لحاظ سے قومی اثاثوں کی منصفانہ تقسیم کی جائے۔

مغربی پاکستان کے بیشتر سیاست دانوں کو یہ چاروں نکات قبول تھے مگر یحییٰ خان اور ان کی ٹیم اور ساتھ ہی ذوالفقار علی بھٹو ان چاروں نکات کے سخت خلاف تھے۔ یہاں تک ان نکات کی بنا پر ایڈمرل ایس ایم احسن کو بنگالیوں کا بکاؤ بھی کہا گیا۔

یہ تھے وہ چار نکات جن کو اگر دانشمندی سے وقت کا تقاضا سمجھتے ہوئے قبول کر لیا جاتا تو کم از کم فوج ہتھیار ڈالنے کی ہزیمت سے بچ جاتی اور جو لاکھوں معصوم غیر بنگالی بے دردی سے قتل کیے گئے، ہزارہا عورتوں کی عصمتیں روندی گئیں اور وہ ہزاروں غیر بنگالی لڑکیاں جو کلکتہ کے بازار حسن میں بیچی گئی وہ بچ جاتیں۔ اس سقوط کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان غیر بنگالیوں، جن میں اکثریت بہاریوں کی تھی انہیں کا ہوا۔ لاکھوں مظلوم و معصوم افراد شہید ہوئے اور جو بچ رہے وہ شدید جزباتی اور مالی بحران کا شکار رہے۔ ان میں بھی سب سے مظلوم طبقہ ان محب وطن پاکستانیوں کا ہے جو آج بھی بنگلہ دیش کے کیمپوں میں اذیت بھری انسانیت سوز زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

22 فروری 1971 میں راولپنڈی ہیڈ کوارٹر میں ایڈمرل ایس ایم احسن نے اس ہائی لیول میٹنگ میں شرکت کی اور ہر ممکن کوشش کی کہ معاملہ طاقت کے استعمال کی طرف نہ جائے مگر وہ اپنے میشن میں بری طرح ناکام رہے۔ شکستہ دل ایڈمرل، ناکام و نامراد ڈھاکہ وآپس آئے اور پہلی مارچ 1971 کو جنرل پیرزادہ نے راولپنڈی سے خود بنفس نفیس فون کرکے بحکم جی ایچ کیو ان کی گورنری کا خاتمہ کر دیا۔

یہی حال دوسرے متوازن لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب خان کا ہوا۔ مشرقی پاکستان کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر ان کا اصرار تھا کہ اس وقت صدرِ پاکستان کی ڈھاکہ میں موجودگی اشد ضروری ہے۔ 4/5 کی شب صدر صاحب نے اپنی بلغمی آواز میں خود جنرل یعقوب کو فون کرکے ڈھاکہ آنے سے انکار کیا۔ جنرل یعقوب کے شدید اصرار پر بھی صدر کا انکار برقرار رہا کہ ان کی ذاتی مصروفیات بہت اہم تھیں سو مشرقی پاکستان کی بگڑی سنبھلنے کی آخری کوشش بادہ و ساغر میں ڈوب ڈوب گئی۔

علامہ اقبال خواہ مخواہ ہی میں نوجوانوں کو درس دیتے رہے کہ

شمشیر و سناں اول طاوس و رباب آخر

پاکستان کی تاریخ پر تو ہمیشہ طاوس و رباب اور ساغر و بادہ ہی کا اجارہ رہا ہے۔

نیشنل اسمبلی کے اجلاس کا التواء شیخ مجیب الرحمٰن کے صبر کا پیمانہ لبریز کر گیا۔

شیخ مجیب مرکزی حکومت بنانے کا حق رکھتا تھا مگر ذوالفقار علی بھٹو اڑ گئے اور آرمی بھی صرف ایک ہی صوبے میں شیخ مجیب الرحمٰن کی اکثریت کی وجہ سے، اس کی حکومت بنانے کے خیال کی حامی نہیں تھی۔ نہ جنرل یحیٰی خان حکومت، شیخ مجیب الرحمان کے حوالے کرنے پر تیار تھے اور نہ ہی مغربی پاکستان کے سیاست دان بنگالی پرائم منسٹر کے ماتحت کام کرنے پر راضی تھے۔ یہ سنگین صورت حال بنگالیوں کے لیے نا قابل برداشت تھی لہذا مشرقی پاکستان میں ہڑتال اور احتجاج کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ کے انتظار سے تنگ آکر 3 جنوری 1971 کو عوامی لیگ نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے تمام اراکین جن کی تعداد 417 بنتی تھی ڈھاکہ میں جمع کیا اور سر عام ان سے چھ نکات پہ حلف وفاداری لے لیا۔

اس حلف میں انہوں نے اقرار کیا کہ

خداوند رحیم و قدیر کے نام پر

ان شہیدوں اور مجاہدوں کے نام پر جنہوں نے جبر کے ہاتھوں مظالم سہےاور جان کی قربانیاں دیں

ان کسانوں، مزدوروں، طالب علموں، محنت کش عوام اور

ہر طبقے کے لوگوں کے نام پر ہم نو منتخب اراکینِ اسمبلی اس بات کا حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم چھ نکات کے وفادار رہیں گے کیونکہ یہ نکات عوام کے امنگوں کے مظہر ہیں۔

حکومت پاکستان کے لیے عوامی لیگ کا یہ قدم بہت تشویشناک تھا۔

مشرقی پاکستان میں حالات بدستور انتہائی کشیدہ تھے کہ مغربی پاکستان سے خیر کی ایک خبر آئی اور جنرل یحیٰی نے اعلان کیا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 3 مارچ کو ڈھاکہ میں منعقد ہوگا مگر بد قسمتی کہ دو روز بعد ہی مسڑ بھٹو نے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر پی پی پی کو نظر انداز کیا گیا تو خیبر سے کراچی تک طوفان برپا کر دوں گا۔ بھٹو کے اس اعلان کے بعد صدر یحییٰ نے کابینہ کو برخاست کر دیا اور ملک پھر مکمل طور پر مارشل لاء کی گرفت میں آ گیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کی منسوخی کے اعلان کے ساتھ ہی پورے مشرقی پاکستان میں نفرت کی آگ بھڑک اٹھی۔

اس اعلان کے آدھ گھنٹے اندر اندر ہی لوگ سڑکوں پر نکل آئے، بپھرے ہوئے عوام، گروہ در گروہ بانس کی لاٹھیاں اور لوہے کی سلاخیں اٹھائے نعرے لگانے لگے۔ مشتعل ہجوم نے غیر بنگالیوں کی دکانیں لوٹ لیں، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور ہر وہ چیز جو ان کی راہ میں آئی اسے تہس نہس کر دیا۔

دو مارچ کو طالب علموں کا جلوس جو نیو مارکیٹ سے ہوتے ہوئے یونیورسٹی میں جمع ہو رہا تھا اس پر فائرنگ کی گئی، متعدد زخمی ہوئے اور چھ افراد ہلاک بھی۔

3 مارچ کو ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال اور مڈفورڈ ہسپتال میں ایک سو پچپن زخمی داخل ہوئے۔

ان حالات کے پیش نظر عوامی جذبات اس قدر تپ چکے تھے کہ لوگ کرفیو کی پابندی سے بھی مبرا ہو چکے تھے۔ 7 جنوری کو پلٹن میدان میں شیخ مجیب الرحمٰن نے لاکھوں کے مجمع کے سامنے دھواں دھار تقریر کی اور عدم تعاون تحریک کا اعلان کیا۔ اس دن کے بعد حالات بے قابو ہو گئے۔ ڈھاکہ میں بھی بڑے پیمانے پر جلاؤ گھیراؤ ہوا مگر اندرون مشرقی پاکستان میں اس سے بھی بدتر صورت حال تھی کہ وہاں بنگالی اور غیر بنگالیوں میں فسادات پھوٹ پڑے اور غیر بنگالی بری طرح ذبح کیے گئے۔

اسمبلی کے اجلاس کے التوا کی وجہ سے اب معتدل بنگالی بھی پاکستانی حکومت کو شک کی نظر سے دیکھنے لگے تھے اور اب پورے مشرقی پاکستان میں، پاکستان کے حامی صرف اور صرف غیر بنگالی ہی رہ گئے تھے اور وہ مجبور و بے بس چھوٹے شہروں میں اپنی بقا کی امید پاکستانی فوج سے وابستہ کیے ان کی مدد کے منتظر تھے۔ ان کا انتظار، انتظار ہی رہا کہ فوج جانے کس مصلحت کے تحت بیرکوں میں بند تھی۔ فوج کی عدم موجودگی نے شر پسندوں کو کھل کر قتل و غارت کا موقع فراہم کر دیا اور تمام چھوٹے بڑے شہروں میں غیر بنگالیوں کے خون سے ہولی کھیلی جانے لگی۔ سول انتظامیہ کلی طور پر عوامی لیگ کے ماتحت تھی اور شیخ مجیب نے تخریب کاری کے لیے اپنے کارکنان کو بالکل فری ہینڈ دے دیا تھا۔ پورے مشرقی پاکستان میں کسی غیر بنگالی کی جان، عزت آبرو اور مال جائیداد محفوظ نہیں تھی، بربریت کا ایک وحشتناک طوفان تھا جو لاکھوں معصوم انسانوں کی زندگیاں گل کر گیا۔

المیہ یہ بھی کہ مشرقی پاکستان میں سیاسی بغاوت سے پہلے فوجی بغاوت ہوئی۔ 25 اور 26 مارچ 1971ء کی درمیانی شب چٹاگانگ میں آٹھ ایسٹ بنگال رجمنٹ کے میجر ضیاء الرحمٰن نے اپنے کمانڈنگ آفیسر کرنل جنجوعہ کو قتل کرکے ریڈیو سے آزادی کا اعلان کرا دیا۔ اس کے ساتھ ہی بہت بڑے پیمانے پر اسلام پسند جماعتوں کے بنگالی اراکین، محبِ وطن بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کا قتل عام شروع ہوگیا۔

یہ میجر ضیاء الرحمٰن وہی تھے، جنہوں نے بعد میں جنرل بن کر بنگلہ دیش نے مارشل لاء لگایا اور پاکستان کے دوست بن گئے۔

چٹاگانگ شہر میں حاجی کیمپ کے قریب اصفہانی جوٹ ملز کی کالونی پر قیامت گزر گئی۔ وہاں باغیوں نے بے یارو مددگار مردوں، عورتوں اور بچوں کو کلب کی عمارت میں جمع کرکے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ ایک دن میں سب سے زیادہ خون جس جگہ بہا وہ چٹاگانگ کا علاقہ پہاڑ تلی تھا۔ وہاں تین مارچ کو 102 بہاریوں کو تہ تیغ کیا گیا۔

شمالی بنگال کے بیشتر شہروں کو مذبح خانوں میں بدل دیا گیا۔

پاکسی کے ریلوے ہیڈ کوارٹر میں رات بھر بہاری مردوں کو امن کمیٹی کے نام پر جمع کیا جاتا رہا پھر اچانک ہی ان پر مکتی باہنی کے سفاک ٹوٹ پڑے اور ایک ایک شخص کو گولی سے بھون دیا گیا اور اگلی صبح شہر میں موجود ضعیفوں، عورتوں اور بچوں کی باری تھی۔ اسی طرح دیناج پور کی کنچن ندی بہاریوں کے خون سے سرخ ہوئی۔ سنتاہار اور بھیرب بازار میں تو شاید ہی کوئی زندہ بچا۔ اسی طرح خالص پور میں کریسنٹ جوٹ ملز بہاریوں کا مقتل بنی۔ سراج گنج میں تحفظ کے نام پر بہاریوں کو جیل میں بند کیا گیا اور بربریت کی انتہا کہ اسی جیل پر پٹرول چھڑک کر سب کو زندہ جلا دیا گیا۔

مشرقی پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا شہر، چاہے وہ کھلنا ہو، سید پور، راجشاہی، دیناج پور، پاربیتی پور، پبنہ ہو یا میمن سنگھ لہو لہان تھا۔ بے دریغ غیر بنگالیوں کا قتل عام ہوا کہ نہتے محب وطن پاکستانیوں کا خون انتہائی ارزاں تھا۔

سیاسی جماعتوں کے قائدین، صدر پاکستان یحیٰی خان اور شیخ مجیب الرحمٰن کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے مگر سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے کے بجائے وقت کو طول دیا گیا اور آپس کے عدم اعتماد کی وجہ سے معاملات ہاتھوں سے نکل گئے اور پورا مشرقی پاکستان، پاکستان کے حامیوں کے لیے مذبح خانہ بن گیا۔

یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوں
کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے

جاری۔۔

Check Also

Tuzk e Urdu

By Muhammad Ali Ahmar