Tum Se Ulfat Ke Taqaze Na Nibahe Jaate
تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے

ایام نوجوانی میں جب اسلامیات کا چسکا پڑا تو اسلامی معیشت میں یہ واقعہ پڑھا۔۔
ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک بوڑھے یہودی کو بڑی خستہ حالت میں دیکھا۔ آپؓ نے فرمایا: خدا کی قسم! یہ انصاف کا تقاضا نہیں کہ ہم اس کی جوانی میں تو اس سے فائدہ اُٹھائیں اور اُسے بڑھاپے میں اس طرح رسوا ہونے دیں چنانچہ آپ نے حکم صادر فرمایا کہ اس بوڑھے کو زندگی بھر اس کی ضرورت کے مطابق بیت المال سے وظیفہ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے ملک کے گورنروں کو لکھا کہ وہ غیر مسلم کے رعایا کے مستحق اور غریب افراد کو بیت المال سے پابندی اور باقاعدگی کے ساتھ تنخواہیں دیں۔
ابويوسف، کتاب الخراج: 150
اس واقعہ نے مجھے کافی متاثر کیا اس وجہ سے نہیں کہ یہ ایک عظیم خلیفہ کا فرمان تھا۔۔ بلکہ یہ ابتداء تھی اسلامی مملکت میں غیر مسلموں کے contribution پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کی۔۔ ان کے اسلامی مملکت کے لئے اپنے وقت، اپنے ہنر اور اپنے تجربے کو استعمال کرنے کی داد تھی۔۔ لیکن نجانے کیوں یہ واقعہ صرف کسی غیر مسلم کے حقوق تک ہی میرے ذہن میں نہیں رہا۔۔ میں جب بھی کسی ایسے شخص یا طبقے کو دیکھتا جس کی عمر کا ایک بڑا حصہ کسی بھی خدمت گزاری میں گزرا اور آخری ایام کسمپرسی میں تو سوچتا کہ اگر حضرت عمر کسی رات کے گشت میں اس کی گلی میں نکل آتے تو شاید اس کے آخری ایام honourable گزرتے۔۔
جب کبھی کسی گھر کے باہر گلی میں ایک غلیظ سی چارپائی پر پڑے ہوئے ایک ہڈیوں کے پنجر بابے کو کھانستے دیکھتا اور اسی لمحے اس گھر کے دروازے سے ایک کلف لگے کپڑے پہنے نوجوان کو ایک سرسری نگاہ بابے پر ڈالتے ہوئے مونچھوں کو تاو دے کر سینہ اکڑا کر چلتے دیکھتا تو اس یہودی کی یاد آئی جس نے تمام عمر، اپنی جوانی اپنی خواہشات کو اسلامی مملکت پر لگایا اور اس مملکت کے بیٹے نے اس کے عزت سے مرنے کا اہتمام کر دیا۔۔ گھر بھی ایک مملکت ہوتی ہے۔۔
پھر میری شادی ہوگئی اور میں ایک پٹھان مرد کی طرح شادی کی پہلی رات سے ہی ڈیلے نکال کر بیوی کو پاوں کی نیچے رکنے کے تمام ہنر آزمانے لگا۔۔ عورت پیر کی جوتی ہوتی ہے۔۔ اسے زیادہ عزت دو تو سر چڑھ جاتی ہے۔۔ ہم پٹھان اور مذہبی لوگ عورت کو شہہ نہیں دے سکتے۔۔ خیر دو سال ہوئے تھے اللہ کریم نے اولاد کی نعمت سے بھی مالا مال کر دیا۔ بیوی نے خود کہا آپ کو صبح دفتر جانا ہوتا ہے شام دیر سے آتے ہیں۔۔ رات بھر بچی سوتی نہیں روتی ہے تو میں سوچ رہی ہوں دوسرے کمرے میں سو جاؤں۔۔ آپ رات کو اٹھ کر پھر لڑتے ہیں کہ اسے چپ کراو۔۔ جو میرے بس میں نہیں۔۔ میں نے اسے اپنا حق سمجھا اور اسے اپنے کمرے سے نکال دیا۔۔ ایک روز میرے باس نے دفتر کے تمام نوجوان غیر شادی شدہ مرد اور خواتین کو بلایا۔۔ یہ ان کے مہینے میں ایک گفتگو کا حصہ تھا جو وہ سماجی یا معاشی معاملات پر کرتے۔۔ باتوں باتوں میں کہنے لگے۔۔
جب سے میں نے اپنی کمائی کا 10 فیصد اپنی بیوی کو بطور تنخواہ دینا شروع کیا ہے۔۔ مجھے نہیں معلوم رزق کس طرح سے میرے پاس آتا ہے۔۔ بڑھتا جا رہا ہے۔۔ تو میں نے پوچھا یہ آپ خیرات کرتے ہیں اس پر تو۔۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور پوچھا۔۔ سلیم! تمہیں دفتر کے لئے تیار ہونے میں کون مدد کرتا ہے۔۔ میں نے کہا بیوی، کہنے لگے کیسے؟ میں نے کہا صبح ناشتہ سے لیکر کپڑے استری اور جوتے تک پالش کرکے دیتی ہے اور یہ اس کا فرض ہے کہ وہ کرے گی۔۔ وہ مسکرایا اور بولا بالکل ٹھیک کہا تم نے۔۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو تم اسے طلاق دے دو گے۔۔ میں نے کہا ہاں اور ساتھ ہی اکھڑے ہوئے انداز میں کہا "سر سلامت ٹوپیاں بہت"۔ تو بولا۔۔ یار جب بیوی طلاق پا لے گی۔۔ تو تمہیں ایک نوکر صبح کے لئے۔۔ چائے ناشتہ بنانے کو یا بازار سے لاو گے تو ہر روز کا خرچ، پھر کپڑوں کی دھلائی اور استری کا مہینے کا خرچ، پھر تمہاری اولاد کی نگہداشت اور نگرانی کے لئے ایک آیا یا گھر کی میڈ۔ یا ایک نئی شادی کا جوا جو لاکھوں کا خرچ۔۔ ہے ایسا؟ میں نے کا ہمممم۔۔ یہ تو ہے۔۔ تو وہ بولا اس کا مطلب جب تم دفتر آتے ہو جو یہ cool dude لگتے ہو یہ تمہاری بیوی کی مصوری ہے کہ وہ تمہیں جیسا دیکھنا چاہتی ہے ویسا بنا کر بھیجتی ہے۔۔
پورے ہال کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اور میری کمر پر پسینہ آنا شروع ہوا۔۔ پھر وہ بولا تم وقت پر آتے ہو۔۔ صحت مند ہو گھر کی فکر سے آزاد ہو۔۔ کسی بھی گرل فرینڈ کے دھوکے کی فکر نہیں اولاد محفوظ ہے اگر یہ فکریں تمہیں لاحق ہوتیں تو شاید تم یہ نوکری بھی ٹھیک سے نہ کر پاتے؟ ہے نا؟ بالکل۔۔ میں نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ تو بولا تمہاری تو پرفارمنس اپریزل میں ہر سال بھابھی کے نام کا انکریمنٹ لگنے چاہئے۔۔ کیونکہ وہ تمہاری 10 فیصد نہی 60 فیصد تنخواہ کی حقدار ہے۔۔ اس دن اچانک مجھے یہی واقعہ جو حضرت عمر نے یہودی کے ساتھ کیا یاد آیا۔۔ کہ بات صرف یہودی، یا اقلیتوں کی نہیں یہ اصول ہر کم مراعات یافتہ طبقہ کے لئے نافذ العمل ہے۔۔
میں نے اسی دن لنچ ٹائم میں اپنے فنانس کے بندے کو بلوایا اور ایک اکاؤنٹ بیوی کے نام پر کھلوایا۔۔ جب اس ماہ میری تنخواہ آئی تو میں نے 8000 علیحدہ کرکے جب بیوی کو دئے تو اس نے کہا یہ ان پیسوں کا کیا کرنا ہے۔۔ تب میں نے اسے پورا واقعہ سنایا اور کہا یہ وہ 10 فیصد ہے میری تنخواہ کا جو تمہارا ہوگا اور میں اس کا تم سے نہیں پوچھوں گا۔۔ وہ ایسے حیران ہو کر پیسے ہتھیلی میں رکھے کمرے کی طرف گئی جیسے کہہ رہی ہو اللہ میاں میرا بندہ پاگل ہوگیا ہے۔۔ بچوں کا باپ ہے اسے ٹھیک رکھنا اور جو اکاؤنٹ میں نے اس کا کھلوایا تھا یہ سوچ کر کھلوایا کہ جو بھی میری آمدن ہوگی اس کا 10 فیصد اس میں رکھوں گا۔۔
یہ وہ کام یا کاروبار تھے جو میں تنخواہ کے علاوہ کرتا تھا۔۔ چونکہ مجھ پر یہ عقدہ کھل چکا تھا کہ اولاد سے بھی زیادہ جو میرے بعد میرے رزق میں حصہ دار ہے وہ میرے ماں باپ اور پھر میری یہ بیوی۔۔ چونکہ ماں باپ رہے نہیں تو میں نے تمام اپنے کاروبار میں خریدو فروخت میں next of kin یعنی میرے بعد میرے تمام جائیداد کی حقدار اپنی بیوی کو ڈکلیئر کیا۔۔ کیونکہ انہیں دنوں ایک عجیب سانحہ ہوا۔۔
میرے ایک جاننے والے کے والد کا انتقال ہوگیا۔۔ ان کی والدہ رہ گئیں۔۔ تینوں بھائیوں اور بہنوں نے ملکر والدہ سے چکنی چپڑی باتیں کرکے ان کا حصہ بھی اپنے نام کرا لیا اور جائیداد یہ کہہ کر بیچ دی کہ آپ تو ہماری جان ہیں ہمارے ساتھ رہیں گے۔۔ جائیداد کے جاتے ہی ماں کو کوئی ایک ہفتہ بھی اپنے گھر رکھنے کو تیار نہ ہوا۔۔ وہ در در پڑتی رہیں۔۔ مجھے ایام نوجوانی کا وہ بابا یاد آگیا جو چارپائی پر پڑا اپنے اونچی پگڑی اور کلف لگے سوٹ والے بیٹے کو اس کی کمائی ہوئی زندگی کے نچوڑ کی صورت میں حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ بیٹے بہت اچھے اور گھرون کے ستون ہوتے ہیں لیکن کاش کوئی بیٹا تنخواہ لگتے ہی باپ کو اپنی تنخواہ کا 10 فیصد پنشن دینا شروع کر دے۔۔ تاکہ چھوتی چھوٹی ضرورتوں کے لئے باپ کو بیٹے کے ہاتھوں کی طرف نہ دیکھنا پڑے شاید یہ پنشن بیٹے کی اوقات، تقدیر اور رزق سب کو بڑھا دے گی۔۔ میں اپنی بیوی، بیٹی کو تمام عمر کی تپسیا کے بعد بھیک مانگتا نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔ میں نے زندگی میں ہی ان کی پنشن مقرر کر دی اور میں جانتا ہوں مجھے اس کا کیا کیا فائدہ ہوا ہے۔۔