Monday, 05 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Quran Aur Dinosaurs

Quran Aur Dinosaurs

قرآن اور ڈائناسورز

ایک ملحد نے مسلمان شیف سے طنزاً پوچھا: "اگر قرآن میں ہر چیز ہے، تو کیا اس میں کوکنگ ریسیپی (کھانا پکانے کی ترکیب) بھی ہے؟" اس ماہرِ باورچی نے نہایت حکمت سے جواب دیا: "بالکل ہے! اللہ فرماتا ہے: فَاسُأَلُوا أَهُلَ الذِّكُرِ إِن كُنتُمُ لَا تَعُلَمُونَ (پس تم اہلِ علم سے پوچھ لو اگر تم خود نہیں جانتے - سورۃ النحل: 43)۔ چونکہ میں اس علم کا ماہر ہوں، اس لیے قرآن نے تمہیں میری طرف بھیجا ہے"۔

یہی اصول صحابہ کرامؓ کا تھا جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے حکم پر غیر مسلموں سے وہ علوم سیکھے جو ان کے پاس نہیں تھے۔ (حوالہ: السيرة النبوية لابن هشام، سنن ابی داؤد: 3645)۔ آج کا ملحد کہتا ہے کہ قرآن میں "ڈائنا سور" کا لفظ کیوں نہیں؟ یہ اعتراض لسانیاتی ارتقاء سے لاعلمی کی دلیل ہے۔ نام تو انسانوں کی ایجاد ہیں، اسی لیے کلامِ الٰہی نے اس علمی گتھی کو ایک ابدی اور آفاقی ضابطے سے سلجھایا:

1۔ "مَا لَا تَعُلَمُونَ" – وہ جو تم ابھی نہیں جانتے!

قرآنِ کریم نے 1400 سال پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ کائنات میں ایسی مخلوقات اور سواریاں موجود ہیں جن کا علم اس وقت کے انسان کے پاس نہیں تھا۔

وَالُخَيُلَ وَالُبِغَالَ وَالُحَمِيرَ لِتَرُكَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخُلُقُ مَا لَا تَعُلَمُونَ

"اور (اس نے پیدا کیے) گھوڑے، خچر اور گدھے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور وہ زینت بھی ہیں اور وہ (اللہ) ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے (یا کرے گا) جنہیں تم ابھی نہیں جانتے"۔ (سورۃ النحل: 8)

جسے آج ہم "ڈائنا سور" کہتے ہیں، اس نام کو 1842 میں ایک برطانوی ماہرِ حیاتیات سر رچرڈ اوون نے پہلی بار ایجاد کیا۔ جب انسان نے یہ نام ہی پونے دو سو سال پہلے رکھا، تو قرآن اسے اس نام سے کیسے پکارتا؟ اللہ نے "ما لا تعلمون" کہہ کر رہتی دنیا تک کی تمام دریافتوں کو اس میں سمیٹ لیا۔

2.90 فٹ کا انسان اور "بونسائی ارتقاء" (بقاء کی جنگ)

مستند احادیث (صحیح بخاری: 3326) کے مطابق حضرت آدمؑ کا قد 60 ہاتھ (تقریباً 90 فٹ) تھا۔ سائنسی نقطہ نظر سے یہ قد اس دور کے ماحولیات کی ناگزیر ضرورت تھی۔

آکسیجن کا جواز: قدیم دور میں زمین پر آکسیجن کا تناسب 35 فیصد تھا (جو آج صرف 21 فیصد ہے)۔ ہائپر آکسیجن والے ماحول میں جانداروں کے خلیات (Cells) زیادہ توانائی پیدا کرتے ہیں اور ان کی جسامت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ لازمی طور پر اسی آکسیجن نے 90 فٹ کے انسان کے جسمانی نظام اور ہڈیوں کو وہ مضبوطی دی کہ وہ زمین کی کششِ ثقل میں قائم رہ سکے۔

بونسائی ارتقاء: طوفانِ نوح کے بعد جب آکسیجن کم ہوئی اور حالات بدلے، تو جانداروں نے بقا کی جنگ (Survival) میں خود کو چھوٹا کر لیا۔ آج کا انسان اور آج کے جانور دراصل ان عظیم مخلوقات کی "بونسائی" (Bonsai) پیداوار ہیں۔

دیو ہیکل "سامانِ زیست" (بلوچی تھیریم اور میگا تھیریم)۔۔

اگر انسان 90 فٹ کا تھا، تو لازمی طور پر اس کے لیے "سامانِ زیست" (سورۃ الاعراف: 24) کے طور پر پیدا کیے گئے جانور موجودہ دور کی بکریاں یا گھوڑے نہیں ہو سکتے تھے، کیونکہ وہ ان کے سامنے محض ایک چیونٹی کی حیثیت رکھتے۔ چنانچہ اللہ نے ان کے قد کے مطابق میملز (Mammals) پیدا کیے:

بلوچی تھیریم (Baluchitherium): یہ زمین پر پایا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا میمل ہے۔ 18 فٹ سے زیادہ بلند یہ بے سینگ گینڈا اپنی جسامت اور وافر دودھ کی بدولت قوی الجثہ انسانوں کی بہترین ضرورت اور سواری تھا۔

میگا تھیریم (Megatherium): یہ 20 فٹ لبا اونی جانور تھا۔ اس کی گھنی اور بڑی کھال ان عظیم انسانوں کے لیے لباس اور خیمے فراہم کرنے کا وہ واحد ذریعہ تھی جو ان کے اجسام کے لیے کافی تھی۔

میلانکووچ سائیکل اور "ارم" کی گمشدگی۔۔

سائنس کہتی ہے کہ میلانکووچ سائیکل (Milankovitch Cycles) کے تحت جب زمین کا محور (Axis) 42 ڈگری تک ٹلٹ (Tilt) ہوا، تو جغرافیائی نقشہ بدل گیا۔ خشک علاقے زیرِ آب چلے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان عظیم انسانوں (ارم) اور ان کی سواریوں کے فوسلز خشکی پر نہیں ملتے۔ وہ تمام آثار سمندروں کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن ہیں۔

ٹائم لائن کی حقیقت: بائبل بمقابلہ قرآن و سائنس

ڈائنا سورز کے لاکھوں سال پرانے دور اور ظہورِ آدمؑ کے درمیان تضاد کی بنیادی وجہ وہ مخصوص ٹائم لائن ہے جو عیسائی مذہبی روایات (Biblical Chronology) نے دی ہے۔ بائبل کی رو سے کائنات کی کل عمر محض چند ہزار سال ہے، جسے آج سائنس غلط ثابت کر چکی ہے۔

قرآنِ حکیم ایسی کسی محدود ٹائم لائن کا پابند نہیں۔ قرآن واقعات کو ایک تسلسل (Sequence) میں بیان کرتا ہے اور ان کی باہمی تطبیق (Synchronization) کو موضوع بناتا ہے، جبکہ زمانے کا قطعی تعین انسانی علمی صوابدید پر چھوڑ دیتا ہے۔ جیسے جیسے سائنس ترقی کرتی ہے، زمان و مکان کے متعلق ہماری معلومات تبدیل ہوتی جاتی ہیں۔

Check Also

Venezuela Par Pani Gadla Karne Ka Ilzam

By Nusrat Javed