Kya Hum Waqai Riyasat e Madina Chahte Hain?
کیا ہم واقعی ریاستِ مدینہ چاہتے ہیں؟

آج کا دور "فین فالوونگ" (Fan Following) کا جنون ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ہماری منزلیں کہیں اور بھٹک رہی ہیں۔ ہم ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے اداکاروں کے سٹائل کاپی کرتے ہیں، فٹ بالرز کے ہیئر سٹائل کی نقل اتارنے کو "کول" (Cool) ہونا سمجھتے ہیں اور مغرب کے ان ستاروں کے پیچھے دیوانے ہیں جنہیں ہماری اقدار کی خبر تک نہیں۔ ہماری چال ڈھال، لباس اور رویوں میں تو مغرب کی غلامی رچی بسی ہے، مگر نعرہ ہم "ریاستِ مدینہ" اور "نظامِ مصطفیٰ ﷺ" کا لگاتے ہیں۔
کیا کبھی سوچا کہ وہ ریاستِ مدینہ جس کی ہم تمنا کرتے ہیں، وہ کن لوگوں نے بنائی تھی؟ وہ ریاست ان جری جوانوں نے بنائی تھی جن کے "سپر سٹار" صرف اور صرف رسولِ کریم ﷺ تھے۔ وہ کسی مغربی کھلاڑی یا اداکار کے مداح نہیں تھے، بلکہ وہ آقا ﷺ کی ہر ہر ادا کے شیدائی تھے۔ وہاں "کیوں" اور "کیسے" کی گنجائش نہیں تھی، وہاں صرف "اتباع" اور "سرِ تسلیمِ خم" تھا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اصل ریاستِ مدینہ قائم کرنے والے ان سچے "عاشقوں" نے کس طرح آقا ﷺ کے وصال کے بعد بھی ان کی اداؤں کو اپنی روح میں گھول لیا تھا:
عشق و اتباع کے 15 تاریخی واقعات
حضرت عمرؓ اور قمیص کی کٹائی حدیث: حضرت عمرؓ نے ایک نئی قمیص پہنی جس کے آستین ہاتھ سے بڑھ رہے تھے، آپ نے چھری منگوائی اور انہیں کاٹ دیا۔ (حلیۃ الاولیاء) تشریح: اس وقت عمر فاروقؓ 23 لاکھ مربع میل کے حکمران تھے، روم و فارس جن کی ایک جھلک دیکھنے کو تڑپتے تھے، مگر اس فاتحِ عالم نے (مغرب کے فیشن) کے بجائے آقا ﷺ کی سادہ ادا کو چھری سے کاٹ کر اپنا لیا۔
حضرت عمرؓ اور حضرت عباسؓ کا پرنالہ حدیث: حضرت عمرؓ نے فرمایا: "میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ میری پشت پر چڑھیں اور پرنالہ وہیں لگائیں جہاں نبی کریم ﷺ نے لگوایا تھا"۔ (مسند احمد: 1787) تشریح: یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ سنت کی بحالی کے لیے اگر وقت کے عظیم ترین حکمران کو اپنی پیٹھ بھی جھکانی پڑے تو یہ اس کے منصب کی معراج ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی فوری اطاعت حدیث: رسول کریم ﷺ نے فرمایا "بیٹھ جاؤ" تو ابن مسعودؓ مسجد کے باہر گلی میں ہی بیٹھ گئے اور وہیں سے گھسٹ کر اندر آئے۔ (سنن ابی داؤد: 1091) تشریح: انہوں نے ثابت کیا کہ جب آقا ﷺ کا حکم آ جائے تو عقل کے مشورے ختم اور قدموں کی جنبش بغاوت بن جاتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا بے نشان جھکاؤ حدیث: ابن عمرؓ ایک راستے میں سر جھکا کر گزرے جہاں کوئی رکاوٹ نہ تھی، فرمایا: "نبی کریم ﷺ یہاں سے جھک کر گزرے تھے"۔ (مسند احمد: 5293) تشریح: یہ اس بے نام شاخ کی یاد تھی جو اب موجود نہ تھی، مگر عاشق کے تخیل میں آج بھی آقا ﷺ کا سر مبارک وہیں جھکا ہوا تھا۔
حضرت علیؓ کا سواری پر تبسم حدیث: حضرت علیؓ سواری پر بیٹھے، دعا پڑھی اور پھر مسکرا دیے، فرمایا: "آقا ﷺ کو اسی طرح مسکراتے دیکھا تھا"۔ (سنن ابی داؤد: 2602) تشریح: حضرت علیؓ نے سکھایا کہ مومن کی مسکراہٹ بھی اپنی نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ کے تبسم کا عکس ہونی چاہیے۔
حضرت براء بن عازبؓ اور انگلیاں حدیث: حدیث بیان کرتے ہوئے اپنی چار انگلیاں اٹھائیں اور فرمایا: "رسول کریم ﷺ نے اسی طرح انگلیاں اٹھا کر اشارہ فرمایا تھا"۔ (سنن نسائی: 4371) تشریح: وہ صرف بات نہیں پہنچا رہے تھے، بلکہ آقا ﷺ کے دستِ مبارک کی اس متبرک حرکت کو بھی تاریخ میں محفوظ کر رہے تھے۔
حضرت جریر بن عبداللہؓ کا دائمی تبسم حدیث: حضرت جریرؓ فرماتے ہیں: "نبی کریم ﷺ نے جب سے مجھے دیکھا، ہمیشہ مسکرا کر میرا استقبال کیا"۔ (صحیح بخاری: 3035) تشریح: انہوں نے اپنی پوری شخصیت کو آقا ﷺ کی اس ایک مسکراہٹ کے سانچے میں ڈھال کر دائمی خوش اخلاقی اپنا لی۔
حضرت انسؓ اور کدو کی تلاش حدیث: حضرت انسؓ پیالے کے کناروں سے کدو کے ٹکڑے تلاش کرکے کھاتے تھے کیونکہ نبی کریم ﷺ ایسا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: 5436) تشریح: جب دل آقا ﷺ کی پسند میں فنا ہو جائے تو عام سبزی بھی کائنات کی سب سے لذیذ غذا بن جاتی ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ اور ہاتھوں کی تشبیک حدیث: ابوہریرہؓ نے کسی کا ہاتھ پکڑ کر انگلیاں پیوست کیں اور فرمایا: "رسول کریم ﷺ نے میرا ہاتھ ایسے ہی پکڑا تھا"۔ (صحیح مسلم: 2789) تشریح: یہ اس مقدس لمس کو دوبارہ جینے کی کوشش تھی جو کبھی آقا ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے انہیں ملا تھا۔
حضرت ابن عمرؓ اور اونٹنی کا چکر حدیث: ابن عمرؓ نے بیابان میں اپنی اونٹنی کو گول چکر کٹوایا کیونکہ وہاں نبی کریم ﷺ کی اونٹنی مڑی تھی۔ (الادب المفرد) تشریح: عشق کی نظر میں وہ بیابان بھی گلستان ہے جہاں آقا ﷺ کی سواری کے نشانِ قدم ثبت ہوں۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا والہانہ تبرک حدیث: آپ برتن کے اسی حصے سے کھانا کھاتے جہاں نبی کریم ﷺ کی انگلیوں کے نشان لگے ہوتے تھے۔ (صحیح مسلم: 2053) تشریح: انہوں نے برکت اور شفا کا وہ نسخہ ڈھونڈ لیا تھا جو مادی دنیا کے کسی حکیم یا فلسفی کے پاس نہیں تھا۔
حضرت عبداللہ بن سلامؓ کا تبسم حدیث: حدیث بیان کرنے کے بعد اچانک مسکرائے اور فرمایا: "رسول کریم ﷺ یہ بات کہہ کر اسی طرح مسکرائے تھے"۔ (مستدرک حاکم) تشریح: یہ "حدیثِ مسلسل" اس بات کی گواہ ہے کہ صحابہ نے آقا ﷺ کے الفاظ کے ساتھ ان کی کیفیات کو بھی ہوبہو محفوظ کیا۔
حضرت ابن عمرؓ کی جوتیاں حدیث: ابن عمرؓ نے ایسی سادہ جوتیاں پہنیں جو بالوں سے پاک تھیں، کیونکہ آقا ﷺ ایسی ہی جوتیاں پہنتے تھے۔ (صحیح بخاری: 166) تشریح: انہوں نے ثابت کیا کہ پاؤں کی جوتی بھی اگر سنت کے مطابق ہو تو وہ سر کے تاج سے زیادہ معزز ہے۔
دورانِ نماز جوتیاں اتارنا حدیث: نبی کریم ﷺ نے نماز میں جوتیاں اتار دیں تو تمام صحابہ نے بھی اتار دیں، پوچھا تو عرض کیا: "ہم نے آپ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا"۔ (سنن ابی داؤد: 650) تشریح: یہ وہ گروہی عشق تھا جہاں مصلحت اور سوال کی گنجائش نہ تھی، بس امام کے عمل کی اندھی تقلید ہی اصل نماز تھی۔
حضرت ابو رمثہؓ کا سبز لباس حدیث: آپ نے آقا ﷺ کو دو سبز چادروں میں دیکھا، تو ہمیشہ سبز لباس کو ہی ترجیح دی۔ (سنن ابی داؤد: 4065) تشریح: نبی کریم ﷺ کا ایک بار نظر آ جانا ان کے لیے پوری زندگی کا ضابطہ بن گیا اور ان کی آنکھوں میں وہی رنگ بس گیا۔
احتساب کا لمحہ: تین سوال
اگر آپ آج نفاذِ ریاستِ مدینہ چاہتے ہیں تو مغرب کے سٹارز کی غلامی چھوڑ کر صرف 3 سوالوں کے جواب اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دے دیں:
وضو کی ادا: کیا آپ جب کلی کرتے ہوئے انگلی منہ میں لے جاتے ہیں تو کیا وہ پہلے دائیں (سیدھی) طرف جاتی ہے؟ کیونکہ آقا ﷺ کی انگلی مبارک پہلے دائیں جانب جایا کرتی تھی۔
لینے دینے کا انداز: کیا آپ کسی کو بھی کوئی چیز دیتے یا لیتے وقت صرف سیدھے ہاتھ کا ہی استعمال کرتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ اور ان کے لاکھوں صحابہؓ کا یہی پروٹوکول تھا۔
آمد و رفت کا طریقہ: کیا آپ مسجد سے نکلتے وقت سنت کے مطابق پہلے بایاں (الٹا) پاؤں باہر نکالتے ہیں اور پھر جوتا پہنتے وقت پہلے دایاں (سیدھا) پاؤں جوتے میں ڈالتے ہیں؟
یہ بنیاد ہے ریاستِ مدینہ کی! جب تک آپ کے ہیروز مغرب کے سٹارز رہیں گے، آپ کی زندگی میں مدینہ کی خوشبو نہیں آ سکتی۔ چلیں، پہلے اپنے اندر ان تین چیزوں کو درست کرتے ہیں، پھر کسی بڑے نظام کا مطالبہ کریں گے۔
ہوتے کہاں خلیل و بنا کعبہ و منیٰ
لَوُلَاک والے صاحبی سب تیرے گھر کی ہے
مولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے
صدّیق بلکہ غار میں جان اس پہ دے چکے
اور حفظِ جاں تو جان فروضِ غُرَر کی ہے
ہاں تو نے اِن کو جان، اُنھیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجُوَر کی ہے

