Thursday, 15 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Javed Akhtar Tumhara Shukriya

Javed Akhtar Tumhara Shukriya

جاوید اختر تمہارا شکریہ

عصرِ حاضر میں جاوید اختر جیسے لادین مفکرین کی جانب سے اٹھائے گئے شکوک و شبہات نے اگرچہ مسلم معاشرے میں فکری انتشار پیدا کیا، لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کر دیا ہے۔ جاوید اختر کا یہ "انکار" دراصل ایک ایسا عمل انگیز ثابت ہوا ہے، جس نے ایمان کو محض روایتی وراثت سے نکال کر ایک جیتی جاگتی "تحقیقی حقیقت" بنانے کی راہ دکھائی ہے۔ اسلام ہمیشہ ہر فکری کربلا کے بعد ایک نئی زندگی پاتا ہے اور ملحد کے سامنے علمی و استدلالی طور پر ڈٹ جانا ہی دورِ حاضر کی "حسینیت" ہے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو برا ہی لگے۔ (سورۃ الصف: 8)

ایمان کی عمارت کی اساس "لا" یعنی انکار پر ہے۔ یہ "لا" دراصل وہ جراحی ہے جو انسانی دل سے جھوٹے خداؤں اور انا کے بتوں کو کاٹ پھینکتی ہے۔ یہاں دو طرح کے انکار سامنے آتے ہیں، ایک مومنانہ "لا" جو انبیاء کا طریقہ ہے جہاں باطل کا انکار اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ حق کا نقش واضح ہو سکے۔ دوسرا کافرانہ "لا" جو جاوید اختر جیسے منکرین کا وتیرہ ہے، جو کسی سچائی کی تلاش کے لیے نہیں بلکہ اپنی ضد، مادی مفاد اور انا کے تحفظ کے لیے ہوتا ہے۔

انسانی تاریخ میں انکار اور توبہ کا پہلا تجربہ حضرت آدمؑ سے شروع ہوا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدمؑ کو زمین پر مبعوث کرنے سے قبل ان کے ازلی دشمن ابلیس سے باقاعدہ شناسائی (Encounter) کروائی۔ یہ آمنا سامنا اس لیے تھا تاکہ انسان زمین پر خلافت کی بھاری ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے یہ جان لے کہ اس کا دشمن کس طرح وسوسوں کے جال بنتا ہے اور اسے دھوکے سے کیسے راستہ بھٹکاتا ہے۔ (سورۃ الاعراف: 27) یہاں یہ نکتہ نہایت عمیق ہے کہ اگر ابلیس نہ ورغلاتا، تو شاید ابنِ آدم کو توبہ، ندامت اور رجوع الی اللہ کا عملی طریقہ ہی معلوم نہ ہوتا۔ ابلیس کا یہ وار دراصل انسان کے لیے خیر کی راہ یعنی توبہ کی دریافت کا سبب بن گیا۔ آدمؑ نے ابلیس کے دھوکے کے نتیجے میں جو قلبی ندامت محسوس کی، اس نے انہیں رب کے سامنے عجز و نیاز کا وہ ڈھنگ سکھایا جو اس تجربے کے بغیر ممکن نہ تھا۔ (سورۃ الاعراف: 23)

ایمان لانا اور ایمان کا راسخ ہونا دو علیحدہ درجات ہیں۔ اکثر لوگ محض زبان سے اقرار کو مکمل ایمان سمجھ لیتے ہیں، لیکن قرآن کہتا ہے: "اے نبی! یہ بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، ان سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے (مطیع ہوئے)، کیونکہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا"۔ (سورۃ الحجرات: 14)۔ ایمان کی حقیقت تو آزمائش سے ثابت ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا گیا: "کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟" (سورۃ العنکبوت: 2)۔

جب تک انسان کا سامنا باطل کے "لا" سے نہیں ہوتا، اس کا "الا اللہ" گواہی اور شاہدین کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حق کے سامنے تین قسم کے منکرین کو کھڑا کیا گیا تاکہ ایمان کی آزمائش ہو سکے:

اول: تکبر کا انکار (ابوجہل): یہ وہ طبقہ ہے جو حق کو دل سے پہچانتا ہے مگر اپنی سماجی حیثیت اور انا کی خاطر اسے تسلیم نہیں کرتا۔ ابوجہل جانتا تھا کہ آپ ﷺ سچے ہیں، مگر اسے فکر یہ تھی کہ اگر وہ ایمان لے آیا تو بنو ہاشم کی برتری قائم ہو جائے گی۔

دوم: مادی اسباب کا انکار (مکہ کے مشرک سردار): امیہ بن خلف اور عاص بن وائل جیسے لوگ، جو صرف اس چیز کو مانتے تھے جو نظر آئے۔ وہ مردہ ہڈیاں مسل کر کہتے کہ "انہیں دوبارہ کون زندہ کرے گا؟"

سوم: تشکیک اور پراپیگنڈا کا انکار (ابولہب): یہ رشتوں اور اثر و رسوخ کو استعمال کرکے شک پیدا کرنے کی روش ہے۔ ابولہب نے حق کو دبانے کے لیے "منفی پراپیگنڈے" کا سہارا لیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان ایمانی و علمی طور پر کمزور پڑے، وہاں الحاد اور ملحدین کا ظہور ہوا۔ یہ ملحدین دراصل وہی ابوجہلی، ابولہبی اور فرعونی روش لے کر اٹھتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے ایمان کو آزمایا جا سکے اور انہیں روایتی مسلمان سے "شاہد" بنایا جا سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مکہ کے تیرہ سالہ دورِ صبر کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ جب صبر اور توحید کا یہ نکتہ مسلمانوں کے جسم و جان میں سرایت کر گیا، تو پھر دنیا نے وہ منظر بھی دیکھا کہ حضرت بلال حبشیؓ کو تپتی ریت پر لٹایا جاتا مگر ان کی زبان سے "احد احد" کی صدا نکلتی۔

اس راسخ ایمان کی سب سے بڑی مثال فرعون کی بیٹی کی خادمہ ماشطہ کا واقعہ ہے۔ جب فرعون کی مادی طاقت نے ماشطہ کے سامنے "لا" کی دیوار کھڑی کی، تو اس نے مشاہدے کے اس درجے پر رہ کر ثابت کر دیا کہ جب ایمان باطل کے انکار کے مقابلے میں شاہد بن کر نکلتا ہے، تو وہ کائنات میں ہمیشہ کے لیے معطر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سفرِ معراج کے دوران اس کی قبر سے اٹھنے والی خوشبو نے کائنات کے سردار ﷺ کا استقبال کیا۔ (مسند احمد: 2822)۔

یاد رکھیں! مومن کا ایمان جب باطل کے انکار اور زمانے کی آزمائشوں کی "لا" والی بھٹی سے گزرتا ہے، تبھی وہ کندن بن کر ابھرتا ہے۔ اسلام کی بقا انھی فکری معرکوں میں مضمر ہے جو ہر دور کے ملحد کے "لا" کو مومن کے "الا اللہ" سے مٹا دیتے ہیں۔

میں آخر میں جاوید اختر کا شکریہ اس لیے ادا کرنا چاہوں گا کہ جس طرح ابلیس نے ابنِ آدم کو (نادانستگی میں) توبہ کا طریقہ سکھایا، اسی طرح اس جدید ابلیس (جاوید اختر) نے میرے دور کے نوجوان کو پچھلے دو ماہ سے ردِ الحاد اور توحیدی دلائل کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب ہمارا ایمان محض ایک روایت نہیں بلکہ ایک مضبوط فکری مشاہدہ بن چکا ہے۔

Check Also

Noor Khan, Be Misal o Barq Raftar

By Asif Masood