Iss Sadi Ka Azeem Fitna
اس صدی کا عظیم فتنہ

اکیسویں صدی کا سب سے گمراہ کن فتنہ، جو آنے والی نسلوں کے ایمان کو دیمک کی طرح چاٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، وہ رابرٹ اسپینسر کی یہ حالیہ کتاب ہے۔ جس طرح پچھلی صدی کا بڑا چیلنج "الحاد" تھا، موجودہ دور میں "ناموسِ رسالت" پر حملہ ایک جدید الحاد کی شکل اختیار کر چکا ہے جو نوجوان ذہنوں کو پراگندہ کرنے کا خطرناک ہتھیار بن رہا ہے۔ مستشرقین کی یہ قدیم چال رہی ہے کہ وہ "لبرل محقق" کا لبادہ اوڑھ کر آقاﷺ کی ذاتِ اقدس کو نشانہ بنائیں۔ قرونِ وسطیٰ میں یہ جسارت دانتے کی "ڈیوائن کامیڈی" جیسے متعصبانہ ادب کی صورت میں تھی، پھر پچھلی دو صدیوں میں اسے "تحقیقی جواز" فراہم کیا گیا۔ کبھی اخلاقی لبادہ اوڑھ کر آقاﷺ کی تعریف میں زہر گھولا گیا، تو کبھی وحی کا انکار کرکے اسے محض عیسائی تعلیمات کا مجموعہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔
آج اسی اسلوب کو "Revisionist History" کا نام دے کر مسلم نوجوان میں ابہام پیدا کیا جا رہا ہے۔ اسی کا نتیجہ سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے جہاں آقاﷺ یا اصحابِ رسولﷺ کے بارے میں کچھ بھی پڑھنے پر نوجوان "سند" کا مطالبہ کرتے ہیں، جبکہ وہ خود ان ماخذ کو جانچنے کی علمی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ تشکیک انہیں اسی مجموعہء علم کی طرف لے جاتی ہے جہاں سے یورپ ان کی ذہن سازی کر رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اپنے ہی علماء کا مذاق اڑانا عادت بن چکی ہے اور مسالک کی جنگ میں الجھ کر نوجوان اپنی اصل بنیاد یعنی "ذاتِ رسولﷺ" سے دور ہو رہا ہے۔
آج ہم اس صدی کے سب سے بڑے علمی فتنے کا ذکر کر رہے ہیں جس کا عنوان ہے:
"Did Muhammad Exist? An Inquiry into Islams Obscure Origins"
(کیا محمد ﷺ کا وجود تھا؟ اسلام کے مبہم آغاز کی ایک تحقیق)
یہ کتاب پہلی بار مارچ 2012ء میں امریکہ کے ادارے "ISI Books" نے شائع کی اور اس کا اضافی ایڈیشن 2021ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس کا مصنف رابرٹ اسپینسر ایک انتہا پسند مسیحی پس منظر رکھتا ہے اور "Jihad Watch" نامی اسلام دشمن ویب سائٹ کا بانی ہے۔ اسپینسر امریکی ایوانوں میں گہرا اثر و رسوخ رکھتا ہے اور سالہا سال تک ایف بی آئی (FBI) کو اسلام کے حوالے سے بریفنگ دیتا رہا ہے۔ افغان جہاد کے بعد اسے سی آئی اے (CIA) کے ان نظریاتی مہروں کے طور پر استعمال کیا گیا جن کا کام اسلام دشمنی کو "علمی بنیادیں" فراہم کرنا تھا۔ اس کی انتہا پسندی کی بنا پر برطانیہ نے اس کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔
کتاب کے آٹھ ابواب اور ان میں چھپی خباثتیں
اس کتاب کے آٹھ ابواب دراصل آٹھ ایسے زہریلے وار ہیں جن کا مقصد نوجوان ذہنوں میں شکوک کا زہر گھولنا ہے:
باب 1: آقاﷺ کے ہم عصر غیر مسلم ریکارڈ کی مبینہ خاموشی کا سہارا لے کر تاریخی خلا پیدا کرنے کی خباثت۔
باب 2: قرآن کریم کو الہامی کتاب کے بجائے اموی دور کی سیاسی و لسانی ایجاد قرار دینا۔
باب 3: اسلامی فتوحات کو ایمانی جذبے کے بجائے قبائلی لوٹ مار اور سیاسی شورش ثابت کرنے کی کوشش۔
باب 4: وجودِ اقدس پر سب سے بڑی جسارت کہ (معاذ اللہ) آقاﷺ ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ سیاسی ضرورت کے تحت گھڑا گیا ایک کردار ہیں۔
باب 5: ابتدائی اسلامی سکوں اور آثارِ قدیمہ کی غلط تشریح کرکے مسلمانوں کی ابتدائی شناخت کو مشکوک بنانا۔
باب 6: کعبہ اور مکہ کی مرکزیت پر حملہ کرکے پیٹرا (اردن) کو اسلام کا اصل جنم مقام بتانے کی شاطرانہ چال۔
باب 7: سیرتِ ابن اسحاق اور ابتدائی کتبِ سیرت کو محض افسانوی قصے قرار دے کر ان کی تاریخی حیثیت کا انکار۔
باب 8: اسلام کو ایک آزاد مذہب کے بجائے مسیحیت کے ایک فرقے کی ارتقائی شکل ثابت کرنے کا پراپیگنڈا۔
رابرٹ اسپینسر کے اس علمی فتنے کو خود مغرب کے ان بڑے ناموں نے مسترد کیا جو علمی دیانت پر یقین رکھتے ہیں:
فریڈ ڈونر (Fred Donner): یہ شکاگو یونیورسٹی میں قریبی مشرقی زبانوں اور تہذیبوں کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب "Muhammad and the Believers" میں اسپینسر کے اس نظریے کی دھجیاں اڑا دیں کہ اسلام کا آغاز مبہم ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ابتدائی اسلامی ریاست ایک تاریخی حقیقت تھی جس کا ریکارڈ ہم عصر ذرائع میں موجود ہے۔
گریگر شوئلر (Gregor Schoeler): باسل یونیورسٹی کے یہ مایہ ناز سکالر سیرتِ نبوی کے مآخذ پر اتھارٹی مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مسلمانوں کی زبانی روایات (Oral Traditions) تحریری ریکارڈ سے زیادہ مضبوط اور سائنسی بنیادوں پر کھڑی ہیں اور اسپینسر کا "تاریخی خلا" کا دعویٰ محض ایک مفروضہ ہے۔
ڈیوڈ اے کنگ (David A. King): یہ تاریخِ سائنس اور فلکیات کے عالمی ماہر ہیں۔ انہوں نے اسپینسر کی اس مضحکہ خیز "پیٹرا تھیوری" کو ریاضیاتی اور جغرافیائی بنیادوں پر لغو ثابت کیا اور مکہ مکرمہ کی مرکزیت اور قدیم مساجد کے درست قبلہ رخ ہونے کے سائنسی ثبوت فراہم کیے۔
اسپینسر کا یہ مطالبہ کہ آقاﷺ کے دور کا "سکہ" دکھایا جائے، ایک علمی بددیانتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ سکوں کا باقاعدہ آغاز ہی 600 قبل مسیح میں ہوا، جبکہ انبیاءِ کرامؑ کا دور اس سے بہت قدیم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیدنا یوسفؑ، داؤدؑ اور سلیمانؑ جیسے جلیل القدر انبیاء، جو صاحبِ تخت و تاج تھے، ان کے ادوار کے بھی ایسے مادی سکے موجود نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء بادشاہ در بادشاہ میراث کے لیے نہیں آتے، نہ ہی ان کا مقصد اپنی مہر یا سکہ بنا کر اپنی مٹی کی شان بنانا ہوتا ہے، بلکہ وہ انسانیت کی ہدایت کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
یہ اسلام کے نبیﷺ کا اعجاز ہے کہ جہاں اللہ نے کتاب کی حفاظت کی، وہاں سیرت کو بھی محفوظ فرما دیا۔ آقاﷺ کی نبوت کے سب سے زیادہ دستاویزی شواہد موجود ہیں۔ شاہِ روم (ہرقل)، شاہِ فارس اور مقوقسِ مصر کے نام آپﷺ کے لکھے گئے خطوط کی کاربن ڈیٹنگ ثابت کرتی ہے کہ یہ آقاﷺ کے ہی زمانہ کے ہیں۔ اس کے علاوہ قدیم کتبات جیسے "کتبہِ زہیر" (24 ہجری) اور "برمنگھم مخطوطہ" تاریخی سند ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر حمید اللہ کا عظیم تحقیقی کام، جو انہوں نے اس "زنیم" کی فتنہ پردازی سے بہت پہلے مکمل کیا تھا، آقاﷺ کے زمانے کے تعین کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
ہمیں بحیثیتِ مسلمان اس سنگین فتنے کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا۔ جس طرح پچھلی نسلوں نے ردِ الحاد کے لیے اپنی توانائیاں صرف کیں، آج ہمیں اسی شدت سے "دفاعِ سیرت" کے محاذ پر علمی جہاد کی ضرورت ہے۔ اللہ کریم نے گزشتہ جن اقوام کو عبرت کا نشان بنایا، ان کا بڑا جرم اپنے رسولوں کی تکریم سے روگردانی اور ان کی آیات کا انکار تھا۔ قرآن نے ایسے فتنہ پرور ذہن کو "زنیم" کے لقب سے پکارا ہے۔ آج وقت پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ آنے والے 25 سالوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنی صفوں میں ایسے جوان تیار کرنے ہوں گے جو نہ صرف حافظِ قرآن ہوں بلکہ "حافظِ سیرتِ نبویہ" بھی ہوں۔ اب ہر گھر میں ایک ایسا علمی پہرہ دار ہونا چاہیے جو آقاﷺ کی زندگی کے ایک ایک لمحے کی تاریخی حقانیت سے واقف ہو اور دشمن کے ہر وار کو دلیل کی ڈھال پر روکنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہی ہمارے ایمان کی بقا اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کا واحد راستہ ہے۔

