Hazrat Aisha Siddiqa Ki Umar Mubarak Ka Aik Munfarid Saboot
حضرت عائشہ صدیقہ کی عمر مبارک کا ایک منفرد ثبوت

سیدہ عائشہ صدیقہؓ امتِ مسلمہ کی وہ عظیم فقیہہ اور عالمہ ہیں جن سے کل 2,210 احادیث مروی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا حصہ خواتین کے مخصوص مسائل، وراثت اور ازدواجی زندگی کی باریکیوں پر مشتمل ہے۔ ذیل میں ان روایات کا ان کی مروجہ عمر (6 سال بوقتِ ہجرت) سے ایک ناقدانہ اور علمی موازنہ پیش کیا جا رہا ہے۔
علمِ حدیث کا ذخیرہ اور مروجہ عمر (1ھ تا 5ھ)
مدینہ منورہ کے ابتدائی پانچ سالوں میں جب اسلام کے بنیادی سماجی و قانونی احکامات نازل ہو رہے تھے، اگر مروجہ روایات (6 سال بوقتِ ہجرت) کو درست مانا جائے تو صورتحال ناقابلِ فہم حد تک پیچیدہ ہو جاتی ہے:
حیض و طہارت کے احکام (2 ہجری): مروجہ روایت کے مطابق اس وقت سیدہ عائشہؓ کی عمر صرف 8 سال تھی۔ کیا ایک 8 سالہ بچی ان پیچیدہ حیاتیاتی مسائل کی ایسی تشریح کر سکتی ہے جو رہتی دنیا تک فقہ کی بنیاد بنے؟
جنگِ احد میں خدمات (3 ہجری): تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ غزوہ احد کے کٹھن موقع پر سیدہ عائشہؓ نے دیگر خواتین کے ساتھ مل کر مشکیزوں میں پانی بھرا اور زخمیوں کی مرہم پٹی کی۔ اگر ہجرت پر عمر 6 سال مانی جائے تو اس وقت آپؓ کی عمر محض 8 یا 9 سال بنتی ہے۔ کیا میدانِ جنگ کے ہولناک مناظر اور مشقت کا بوجھ ایک 9 سالہ بچی اٹھا سکتی ہے؟
وراثت کے قوانین (3ھ تا 4ھ): جب وراثت کے حصے اور فرائض طے ہوئے، تو آپؓ کی عمر محض 9 سے 10 سال بنتی ہے۔ ایک 10 سالہ بچی کا علمِ فرائض (وراثت) جیسے ریاضیاتی علم میں "مرجع اور اتھارٹی" بننا عقل و دانش سے بالا تر ہے۔
طبی مہارت اور تشخیص: سیدہ عائشہؓ کے بارے میں مستند مروی ہے کہ وہ مدینہ کی سب سے بڑی طبیبہ بھی تھیں۔ کیا ایک 10 سالہ بچی جڑی بوٹیوں اور انسانی امراض کے علاج کی اتنی وسیع معلومات جمع کر سکتی ہے کہ جلیل القدر صحابہؓ ان سے طبی مشورے لیں؟
حضرت فاطمہؓ سے تقابل اور واقعہ افک (5 ہجری): 5 ہجری میں جب منافقین نے سیدہ عائشہؓ کی عفت پر بہتان لگایا، تو مروجہ تاریخ آپ کی عمر صرف 11 سال بتاتی ہے۔ یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ یہ ہے کہ مستند حوالوں کے مطابق سیدہ عائشہؓ اور حضور ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کی عمر مبارک تقریباً برابر تھی۔ 5 ہجری کے اسی دور میں سیدہ فاطمہؓ نہ صرف شادی شدہ تھیں بلکہ دو بچوں کی ماں بن چکی تھیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی گھر میں رہنے والی دو ہم عمر بیبیاں ہوں، جن میں سے ایک دو بچوں کی پرورش کر رہی ہو اور دوسری کو محض 11 سال کی "نابالغ بچی" قرار دیا جائے؟
فنِ روایت اور پختہ کردار
علمِ اسماء الرجال کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ راوی کے لیے "بلوغت اور کمالِ عقل" شرط ہے۔ ایک 9 یا 10 سالہ بچی شادی، ماہواری، حیض، نفاس اور ہمبستری جیسے نازک مضامین پر بطور "مستند اتھارٹی" گفتگو کیسے کر سکتی ہے، جبکہ وہ مشاہدات ابھی اس نے خود نہ گزارے ہوں؟ نیز، اس دور میں دیگر ازواجِ مطہرات کے ساتھ ان کا جو برتاؤ اور ایک "ضَرّہ" یا "شریکِ حیات" کے طور پر جو فطری رشک نظر آتا ہے، وہ ایک باشعور جوان عورت کا نفسیاتی ردِعمل ہے۔
حضرت صدیقہ کی عمر مبارک کے تاریخی شواہد:
1.بدکتا ہوا اونٹ اور سیدہ عائشہؓ کی اپنی روایت
ہجرت کے سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے سیدہ عائشہؓ خود بیان فرماتی ہیں کہ راستے میں ان کی اونٹنی بدک گئی، تب ان کی والدہ (ام رومانؓ) پریشان ہو کر پکارنے لگیں: "وا عروساہ" (ہائے میری دلہن!)۔ (مسند احمد، رقم: 26368)
قدیم عرب میں اونٹ ریس کے لیے 5 سے 6 سالہ بچوں کو اونٹوں کی پشت پر اس لیے بٹھا کر باندھا جاتا تھا کہ وہ اسے سنبھالنے کی سکت نہیں رکھتے تھے، بس ان کی چیخوں سے اونٹ تیز بھاگتا تھا۔
سیدہ عائشہؓ کا اس بدکتی ہوئی اونٹنی کو توازن کے ساتھ سنبھالنا ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک پختہ عمر کی جوان خاتون تھیں، اسی لیے ان کی والدہ نے انہیں "عروس" (دلہن) پکارا، جو صرف بالغ لڑکی کے لیے مستعمل ہے۔
2.حضرت اسماءؓ کی عمر کا ریاضیاتی ثبوت
حضرت اسماءؓ کی وفات 73 ہجری میں ہوئی اور اس وقت ان کی عمر 100 سال تھی (تہذیب التہذیب، ابنِ حجر)۔ اس حساب سے ہجرت (1ھ) کے وقت حضرت اسماءؓ کی عمر 28 سال تھی۔ تمام مورخین متفق ہیں کہ اسماءؓ اپنی بہن عائشہؓ سے 10 سال بڑی تھیں۔ ریاضی کا سادہ قاعدہ ہے: 28 میں سے 10 نکالیں تو سیدہ عائشہؓ ہجرت کے وقت 18 سال کی بنتی ہیں۔
3.اعلانِ نبوت اور مکہ میں نکاح کا پیغام
امام طبری اور ابنِ ہشام کے مطابق سیدہ عائشہؓ اعلانِ نبوت (610ء) سے قبل پیدا ہو چکی تھیں۔ مکہ ہی میں ان کا نکاح پہلے جبیر بن مطعم سے طے ہو چکا تھا۔ ایک کم سن بچی کا نکاح پہلے سے کسی اور جگہ طے ہونا اور پھر وہاں سے منسوخی کے بعد حضور ﷺ سے نکاح ہونا ثابت کرتا ہے کہ وہ مکہ ہی میں ایک نکاح کے قابل (Adult) لڑکی تھیں۔
جب ہم ہجرت کے وقت آپ کی عمر 18 سال تسلیم کرتے ہیں، تو تمام قرآنی احکامات اور آپ کی علمی بصیرت کا تسلسل بالکل منطقی ہو جاتا ہے:
رخصتی (2 ہجری): عمر 19 سال (ایک مکمل جوان خاتون)۔
حیض و طہارت کے احکام (2 ہجری): عمر 19 سال (بطور شارحِ اسلام)۔
جنگِ احد میں خدمات (3 ہجری): عمر 20 سال (میدانِ جنگ کی مشقت اٹھانے والی جوان خاتون)۔
وراثت کے قوانین (3ھ تا 4ھ): عمر 20 سے 21 سال (قانون فہمی کی بہترین عمر)۔
واقعہ افک (5 ہجری): عمر 22 سال (ایک پختہ سیرت اور خوددار شخصیت)۔
6 سال کی عمر کا نکتہ دراصل ابنِ اسحاق اور بدمذہب مورخین کی مبالغہ آرائی کا نتیجہ ہے، جسے مستشرقین نے نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر بہتان لگانے کے لیے اچھالا۔ قرآنِ کریم نکاح کے لیے "بلوغت" اور "رشد" کی شرط رکھتا ہے:
ترجمہ: "اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر (بلوغت) کو پہنچ جائیں، پھر اگر تم ان میں رشد (سمجھ بوجھ) پاؤ تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو" - (سورہ النساء، آیت: 6)
اللہ کے رسول ﷺ، جو خود صاحبِ قرآن تھے، وہ کسی صورت قرآنی حکم کے خلاف عمل نہیں کر سکتے تھے۔ علمی، طبی، تاریخی اور ریاضیاتی شواہد ثابت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہؓ ہجرت کے وقت 18 سال کی جوان خاتون تھیں اور آپ ﷺ نے قرآنی احکامات کے عین مطابق ان سے نکاح فرمایا۔ 6 سال کی روایت ایک تاریخی ابہام ہے جسے نبی کریم ﷺ کی کردار کشی کے لیے استعمال کیا گیا۔

