Aaj Shab Meraj Un Nabi e Kareem Hai
آج شب معراج النبی کریم ﷺ ہے

کائنات کی وسعت کا تصور ہی انسانی عقل کو دنگ کر دینے والا ہے کیونکہ یہ ہماری سوچ سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ جسے ہم "مشاہداتی کائنات" کہتے ہیں، اس کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال ہے اور اس میں اربوں کہکشائیں موجود ہیں جو ایک دوسرے سے ناقابلِ یقین فاصلوں پر واقع ہیں۔ اس دوری کو ماپنے کے لیے سائنسدان نوری سال کی اکائی استعمال کرتے ہیں جو دراصل وقت نہیں بلکہ فاصلے کا پیمانہ ہے۔ روشنی، جس کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے، وہ ایک سال کے عرصے میں جتنا سفر طے کرتی ہے اسے ایک نوری سال کہا جاتا ہے اور یہ فاصلہ تقریباً 95 کھرب کلومیٹر بنتا ہے۔ اگر ہم لسانی اعتبار سے دیکھیں تو روشنی کو عربی میں "برق" کہا جاتا ہے جس کی جمع "براق" ہے اور اگر ہم فرض کر لیں کہ ہمارے پاس روشنی کی رفتار کو شکست دینے والا کوئی ایسا براق موجود ہو جو روشنی سے بھی پانچ گنا زیادہ تیز سفر کر سکے، تو اس سے کائناتی سفر کے نئے رخ سامنے آ سکتے ہیں۔
ایسی حیرت انگیز رفتار کے باوجود بھی کائنات کے کنارے تک پہنچنا ایک ایسا خواب ہے جو حسابی طور پر ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ زمین سے مشاہداتی کائنات کی سرحد کا فاصلہ تقریباً 46.5 ارب نوری سال ہے اور پانچ گنا تیز رفتار براق کے ذریعے وہاں تک پہنچنے میں بھی ہمیں کم از کم 9.3 ارب سال کا طویل عرصہ درکار ہوگا جو انسانی زندگی اور تہذیب کی کل عمر سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ کائنات کا مسلسل پھیلاؤ ہے کیونکہ کائنات ساکن رہنے کے بجائے ایک غبارے کی طرح پھیل رہی ہے اور دور دراز کی کہکشائیں ہم سے روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے دور بھاگ رہی ہیں۔ جب تک آپ کا براق سرحد کی طرف سفر کرے گا، کائنات کا وہ حصہ مزید کھربوں نوری سال دور جا چکا ہوگا، اسی لیے موجودہ سائنسی نظریات کے تحت کائنات سے باہر نکلنا ناممکن ہے کیونکہ اس کے پھیلنے کی شرح آپ کی رفتار سے ہمیشہ سبقت لے جائے گی اور وہ منزل ایک ایسے سراب کی طرح رہے گی جسے کبھی چھوا نہیں جا سکے گا۔
سائنسی اعتبار سے کائنات کی ان وسعتوں کو عبور کرنا اس وقت تک ناممکن ہے جب تک ہم "ورم ہول" (Wormhole) جیسے نظریات کا سہارا نہ لیں، جو دراصل خلا اور وقت کے درمیان ایک ایسی سرنگ ہے جو کائنات کے دو دور دراز مقامات کو آپس میں جوڑ کر طویل ترین فاصلوں کو لمحوں میں سمیٹ سکتی ہے۔ اسی طرح "وائٹ ہول" (White Hole) کا تصور ہے، جو بلیک ہول کا بالکل الٹ ہے، جہاں سے مادہ اور روشنی صرف باہر نکل سکتے ہیں، جسے بعض ماہرین دوسری کائناتوں سے رابطے کا ذریعہ بھی قرار دیتے ہیں۔ لیکن اگر ان پیچیدہ سائنسی مفروضوں کو ایک طرف رکھ دیا جائے، تو ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ تمام واقعات فی الحال انسانی ذہن اور مادی علم کو شکست دے رہے ہیں، لہٰذا ہم انہیں ایک "معجزہ" مان کر ہی ان کی اصل روح تک پہنچ سکتے ہیں جہاں مادی قوانین کی قید ختم ہو جاتی ہے۔
جنات یا ان جیسی ماورائی اور لطیف مخلوقات کا تصور تقریباً ہر بڑے مذہب اور قدیم تہذیب میں موجود ہے، جس کے چند مستند حوالے درج ذیل ہیں:
بائبل اور تورات: ان کتب میں "شیڈیم" (Shedim) کا ذکر ملتا ہے، جو ایسی مخلوقات ہیں جو فرشتوں کی طرح اڑنے اور مستقبل کی خبریں جاننے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
زبور: قدیم تراجم میں ایسی غیر مرئی طاقتوں اور "ہوا کے بگولوں" جیسی تیز رفتار مخلوقات کا تذکرہ ہے جو الٰہی احکامات کی تعمیل کرتی ہیں۔
ہندومت: قدیم کتب (ویدوں) میں "رکشاس" اور "یکش" کا ذکر ہے، جو اپنی شکل بدلنے اور پلک جھپکنے میں غائب ہونے کی طاقت رکھتے ہیں۔
آتش پرستوں کی کتاب (زند اوستا): زرتشتی مذہب میں "دیو" (Daevas) کا تصور موجود ہے، جو آگ سے جڑی ایسی غیر مرئی مخلوقات ہیں جو زمان و مکان کی حدود کو تیزی سے عبور کر سکتی ہیں۔
مذہبی تناظر میں اگر ہم اس کائنات کی سب سے پیچیدہ اور لطیف توانائی (Sophisticated Energy) کا ذکر کریں تو وہ "جنات" کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ قرآنِ کریم کی سورہ جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس حیرت انگیز صلاحیت کا تذکرہ ان کی اپنی زبانی یوں فرمایا ہے: "اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہروں اور دہکتے ہوئے شعلوں سے بھرا ہوا پایا" (سورہ الجن، آیت 8)۔ جنات کی یہ توانائی مادی روشنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے، جہاں روشنی کو کائنات کے آخری کونوں تک پہنچنے میں اربوں نوری سال درکار ہوتے ہیں، وہیں جنات اپنی تخلیقی لطافت کی بدولت یہ اربوں سال کا کائناتی سفر لمحوں میں طے کر لیتے تھے۔ وہ آسمان کے کونوں میں خبریں سننے کے لیے بیٹھ جایا کرتے تھے جیسا کہ قرآن کہتا ہے: "اور یہ کہ ہم اس (آسمان) کے بعض مقامات پر سننے کے لیے بیٹھا کرتے تھے" (سورہ الجن، آیت 9)۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنات کی صورت میں ایک ایسی انرجی موجود ہے جو زمان و مکان کے ان قوانین سے آزاد ہے جو مادی اشیاء پر لاگو ہوتے ہیں۔
لیکن آدمؑ کی تخلیق کے بعد جب خلافتِ ارض جنات سے چھین لی گئی اور انسانی خلافت کا آغاز ہوا، تو انسانی مقام ان سے بلند کر دیا گیا۔ خلافت کا تقاضا ہی یہ ہے کہ انسان اپنے کمالات اور تصرف میں جنات سے افضل ہو، اسی لیے ہم تمام آسمانی اور غیر الہامی کتب میں انسان کی ایسی نقل مکانی پڑھتے ہیں جو جنات کی رفتار کو بھی مات دے دیتی ہے۔ مثال کے طور پر:
آدمؑ کا نزول: آدمؑ، ان کی زوجہ اور ان کا پورا قبیلہ جب آسمان سے زمین پر اترا، تو یہ سفر صدیوں پر محیط نہیں تھا، بلکہ قرآن کے مطابق یہ ایک فوری حکم تھا: "ہم نے فرمایا تم سب یہاں سے اتر جاؤ" (سورہ البقرہ، آیت 38)۔
ادریسؑ کا سفر: ادریسؑ نے کائناتوں کا سفر کیا اور وہ آج بھی زندہ موجود ہیں، جس کی تصدیق قرآن یوں کرتا ہے: "اور ہم نے اسے بلند مکان (آسمان) پر اٹھا لیا" (سورہ مریم، آیت 57)۔
کتابِ حنوک کا واقعہ: قدیم عبرانی صحیفے "کتابِ حنوک" (باب 106) کے مطابق جب نوحؑ کی پیدائش ہوئی، تو ان کے دادا متوشلح انہیں اٹھا کر زمین کے آخری کنارے (آسمان کے کونے) پر چلے گئے جہاں ادریسؑ قیام پذیر تھے۔ وہاں متوشلح نے پکارا: "اے میرے باپ!" اور حنوک (ادریسؑ) نے دوسرے آسمان سے جواب دیا: "دیکھو، میں یہاں ہوں، میرے بیٹے، تم میرے پاس کیوں آئے ہو؟" (آیات 4-5)۔
ابراہیمؑ اور مینڈھا: حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے لگے، تو چھری چلنے سے پہلے مینڈھا جنت سے وہاں پہنچ گیا، جس کا ذکر قرآن میں ہے: "اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیے میں دے دیا" (سورہ الصافات، آیت 107)۔
موسیٰؑ اور من و سلویٰ: موسیٰؑ کو اسمانی تختیوں کا ملنا اور لاکھوں بنی اسرائیل کے لیے روزانہ آسمان سے پکا پکایا کھانا اترنا: "اور ہم نے تم پر من اور سلویٰ اتارا" (سورہ البقرہ، آیت 57)۔
مائدہ (دسترخوان): حضرت عیسیٰؑ کے حوارئین کے مطالبے پر آسمانی دسترخوان کا اتنی تیزی سے اترنا کہ کھانے کی ترتیب تک نہ بگڑی: "اے اللہ! ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے ایک خوان (دسترخوان) اتار" (سورہ المائدہ، آیت 114)۔
آصف بن برخیا کا تخت لانا: حضرت سلیمانؑ کے دربار میں ایک جن (عفریت) نے کہا: "میں اسے آپ کے پاس حاضر کر دوں گا اس سے پہلے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں" (سورہ النمل، آیت 39)۔ لیکن آصف بن برخیا نے، جن کے پاس کتاب کا علم تھا، کہا: "میں اسے آپ کے پاس حاضر کر دوں گا اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ جھپکے" (سورہ النمل، آیت 40) اور وہ بارہ سو میل دور سے تین منزلہ عظیم تخت پلک جھپکنے میں لے آئے۔
حضرت ایلیاہ (Elijah) کا آسمان پر جانا: بائبل کی روایات (2 سلاطین 2: 11) کے مطابق حضرت ایلیاہ کو ایک "آگ کے رتھ" کے ذریعے بگولے کی صورت میں آسمان پر اٹھا لیا گیا۔
حضرت عیسیٰؑ کا رفعِ آسمانی: حضرت عیسیٰؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا بھی اسی لطیف توانائی کا مرہونِ منت تھا، قرآن فرماتا ہے: "بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا" (سورہ النساء، آیت 158)۔
ہندو مت کی روایات میں بھی "ہنومان" جیسے کرداروں کا ذکر ملتا ہے جو ایک چھلانگ میں سمندر عبور کر لیتے تھے اور جڑی بوٹی لانے کے لیے پورا پہاڑ اٹھا کر لمحوں میں واپس آ جاتے تھے۔ یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں کہ انسانی خلافت کے زیرِ اثر ایسی لطیف توانائی اور علم موجود ہے جو کائنات کے لامتناہی فاصلوں کو سکیڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
آج 27 رجب ہے جو نبی کریم ﷺ کے سفرِ معراج کی رات ہے، جس رات نبی کریم ﷺ نے مندرجہ بالا تمام انبیائے کرام بشمول ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے انسانی، انسانوں سے قبل کائنات میں مبعوث ہونے والے انبیائے جنات، جیسا کہ قرآنِ کریم میں جن و انس میں رسولوں کی آمد کا تذکرہ ہے: "اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے؟" (سورہ الانعام، آیت 130) اور تمام جلیل القدر ملائکہ نے آپ ﷺ کی امامت میں نمازِ اطاعت ادا کی۔ ان سرورِ کائنات ﷺ کی رفتار کا کیا عالم ہوگا، لیکن ہم اس معجزے کی سائنسی توجیہ پر اس لیے بات نہیں کرتے کہ آقا ﷺ کے رب نے اس معجزے کو ماننے کو شرائطِ ایمانی میں رکھ دیا ہے۔ اب جو اسے اس لیے مانتا ہے کہ یہ معجزہ آقا ﷺ نے کیا، تو وہ مومن تھا، مومن ہے اور مومن رہے گا اور جو نہیں مانتا وہ منافق تھا اور منافق رہے گا، کیونکہ نبی کریم ﷺ کی نبوت حشر کے میدان تک ہے۔
درحقیقت جو معجزے کو مادی سائنس کے ترازو میں پرکھ رہا ہے، وہ اسی فکری گمراہی میں مبتلا ہے جس میں مشرکینِ مکہ مبتلا تھے۔ انہوں نے بھی معراج کے واقعے کو اسی لیے جھٹلایا تھا کہ وہ اسے اپنے محدود مادی علم، زمینی فاصلوں اور اونٹوں کی رفتار کے پیمانے پر ناپ رہے تھے۔ ان کی عقل اس 'لطیف طاقت' اور 'ارادۂ الٰہی' کو سمجھنے سے قاصر تھی جو زمان و مکان کو لپیٹ دینے پر قادر ہے۔
تمام انبیاء کرام کا معجزہ ان کے دورِ حیات تک رہا اور ان کے جانے کے بعد ختم ہوگیا، لیکن آقا ﷺ کا معجزہ یعنی قرآن آپ ﷺ کی نبوت اور آپ ﷺ کے شاہد، مبشر اور نذیر تا قیامت ہونے کی دلیل ہے۔ قربِ قیامت کے حوالے سے مستند حدیثِ مبارکہ ہے کہ: "قرآنِ کریم کو ایک رات میں اٹھا لیا جائے گا، یہاں تک کہ مصاحف میں اس کا ایک لفظ بھی باقی نہیں رہے گا اور نہ ہی کسی کے دل میں اس کی کوئی آیت باقی رہے گی" (سنن ابن ماجہ: 4049)۔ یہ اختتامِ نبوتِ دنیاوی ہوگا کیونکہ اس کے بعد یومِ حشر شروع ہو جائے گا۔ لہٰذا آج ہم معجزہ معراج شریف پر گفتگو نہیں کریں گے، کیونکہ معراج کا مطلب تو لامکاں کے اس پار جا کر "قاب قوسین" ہونا ہے جو عقلِ انسانی کی رسائی سے باہر ہے۔
آج ہم یہ دیکھیں گے کہ جنگِ بدر میں آقا ﷺ کے شانہ بشانہ مسلمان اور جلیل القدر فرشتے تو لڑے ہی لڑے اور ملائکہ کے لیے بھی آسمان میں یہ امتیاز ہے کہ جو فرشتے بدر میں شریک ہوئے وہ تمام فرشتوں میں افضل قرار پائے، جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ حضرت جبریلؑ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: "آپ اپنے درمیان اہل بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "سب سے افضل مسلمانوں میں سے"۔ تو جبریلؑ نے عرض کیا: "اسی طرح جو فرشتے بدر میں شریک ہوئے وہ بھی تمام فرشتوں سے افضل ہیں" (صحیح بخاری: 3992)۔ ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ آقا ﷺ نے معراج کی بلندیوں کا سفر کیا، لیکن کیا اس آیت کو ہم کبھی سمجھے کہ نبی مکرم ﷺ، صحابہ کرام، فرشتے اور جنات کے علاوہ بدر میں اور کون تھا؟
"فَلَمُ تَقُتُلُوُهُمُ وَلٰكِنَّ اللہَ قَتَلَهُمُ ۖ وَمَا رَمَيُتَ اِذُ رَمَيُتَ وَلٰكِنَّ اللہَ رَمٰى"
ترجمہ: "پس تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور (اے حبیب!) آپ نے (خاک کی) وہ مٹھی نہیں پھینکی تھی جب آپ نے پھینکی تھی بلکہ وہ اللہ نے پھینکی تھی" (سورہ الانفال، آیت 17)۔

