Tuesday, 05 March 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Saira Kanwal/
  4. Shadi Biah Ki Rasumat

Shadi Biah Ki Rasumat

شادی بیاہ کی رسومات‎‎

پاکستان میں اس وقت سب سے زیادہ خوفزدہ جو شخص ہے وہ صاحب ثروت ہے۔ جس کے پاس بھی اپنی ضرورت سے بڑھ کر مال ہے۔ وہ اس مال کو دوسروں سے بچانے اور چھپانے کی کوشش میں مبتلا نظر آتا ہے۔ اور اس کی وجہ ایک طرف دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور دوسری طرف دولت کی بے جا نمود و نمائش ہے۔

نکاح سب سے آسان اور خوبصورت فریضہ ہے۔ جسے صاحب ثروت اور نو دولتیوں نے تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ ایک عیسائی، ایک ہندو، ایک سکھ یا کسی بھی اور مذہب کے لوگ دولت میں کھیلنے کے باوجود شادی اپنی مذہبی رسومات کے مطابق کرتے ہیں۔ ایک واحد مسلمان ہیں جو اپنے پیاروں کے نکاح سب مذاہب کی رسومات کو اکھٹا کر کے ایک مغلوبہ بناتے ہیں۔ پھر اس پر خوشی خوشی ناچتے ہیں۔

ہم ہندوؤں کی طرح پیلے پھولوں سے گھروں کو اراستہ کرتے ہیں اور مایوں، مہندی کی بے مقصد رسم ادا کرتے ہیں۔ ہمارے نکاح مسجد کی بجائے میرج ہال میں ہوتے ہیں اور ہمارا دلہا عیسائیوں کی طرح نکاح کے بعد دلہن کا گھونگٹ سرعام اٹھا کر اپنی بیوی کا ماتھا چومنے لگ گیا ہے۔ ہمارے ولیمے ریسیپشن کا نام پا چکے ہیں۔ ہم ہندوؤں کی طرح ڈھولکی کا فنکشن کرتے ہیں اور عیسائیوں کی طرح برائیڈل شاور کرتے ہیں۔ اور اگر جوڑا اللہ کی رحمت سے خوشی پا لے تو بےبی شاور کا فنکشن بھی ہونے لگا ہے۔ بچے کا عقیقہ ساتویں دن ہو نہ ہو سالگرہ ہر سال دھوم دھام سے ضرور منائی جاتی ہے۔

میں خوشیاں منانے کے حق میں ہوں۔ مگر اصراف کے حق میں نہیں۔ اور نہ ہی غیر اسلامی رسومات کو پرموٹ کرنے کا حصہ بننے کے حق میں ہوں۔ آپ اپنی بیٹی کی شادی دھوم دھام سے کریں چلیں مان لیتے ہیں یہ مال اللہ کا فضل ہے تو آپ کیوں نہ خرچ کریں۔ مگر اپنی بیٹی کو ہال میں کھڑا کر کے اس پر سونے کے سکے اور روپے لٹانا کیا آپ کو زیب دیتا ہے؟ میں وہ نامناسب لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتی جو اس فعل کے لئے ہمارے معاشرے میں استعمال ہوتا ہے۔

آپ ڈھولک بجا کر گھر میں گانا گا کر خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں ضرور کریں مگر کسی خاتون گلوکارہ کو بلا کر اسٹیج پر کھڑے ہو کر اس کے اوپر نوٹوں کے انبار لٹانا کہاں کی خوشی ہے؟ کیا کبھی کسی غریب پر یوں پیسا لٹایا گیا ہے؟ غریب بندہ تو شادی ہال میں چوری کر کے کھانا کھاتا پکڑا جائے تو آپ اسے مرغا بناتے ہیں پھر ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہمارے رزق میں کسی غریب کا کوئی حصہ نہیں۔

میری ایک بہت پیاری دوست کرن آرزو جو کچھ سال پہلے اپنے سسرال کی ایک شادی کے فنکشن میں گئی ایک مشہور ریٹائرڈ جنرل کے بیٹے کی شادی ایک امیر شخص کی بیٹی سے تھی۔ کیونکہ اس کے سسرالی رشتے دار تھے اس لئے اس نے میلاد سے شروع ہونے والے سارے فنکشنز اٹینڈ کیے۔ لیکن شادی کے فنکشن پر بھوکی واپس آئی۔ میرے حیران کن استفسار پر اس نے جو وجہ بتائی میں سن کر خاموش ہوگئی۔

اس نے کہا سائرہ تمہارے تصور میں نہیں وہاں کھانے کی ڈشز کی جتنی ورائٹی تھی۔ ہر قسم کے گوشت کی اور میٹھے کی اتنی ورائٹی کے آپ کو چوز کرنا مشکل ہو جائے۔ بیچاری حساس ہے بولی میرے سے کھانا حلق کے اندر نگلا نہ جائے یہ سوچ کر کہ کتنے غریب لوگ دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں اور یہاں اتنا اصراف کیا جا رہا ہے۔ ہم تو اس نبی کے امتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کھانے کی دو ڈشز تناول نہیں فرمائیں۔ نعوذبااللہ کیا آپ کی بیٹیاں حضرت فاطمتہ الزہرا‮ؓ سے زیادہ لاڈلیاں ہیں؟ کیا ہم لوگ بھول گئے ہیں کہ قبر میں یہ سوال ہوگا کہ مال کیسے کمایا اور کیسے خرچ کیا؟

خدارا چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک مرتبہ خود کو زمین کے چھ فٹ نیچے محسوس کیا کریں۔ اس گھر میں جو تنہائی اور وحشت کا گھر ہے۔ جہاں فرشتہ آ کر آپ سے آپ کے مال کے بارے سوال کرے گا۔ ایک مرتبہ اس کفن کے بارے سوچا کریں جس کی نہ کوئی جیب ہے نہ ہی کوئی برانڈ۔ اس میدان حشر کے بارے میں سوچا کریں۔ جہاں آپ کو اپنی اولاد، ماں باپ اور بیوی کی پرواہ نہیں ہوگی۔ صرف اپنی فکر پڑی ہوگی۔

کیا ہم سب اس کے لئے تیار ہیں؟

Check Also

Na Shukri Ka Rivaj

By Asfar Ayub Khan